تعارف
![]() |
| جیورج کانتور ۱۸۴۵ء تا ۱۹۱۸ء |
وہ جنگ کی دیوی بھی تھی، جو ہمیں اُن مباحثوں اور مناظروں کی یاد دلاتی ہے جنہیں یہ علمی شاخ جنم دیتی رہی ہے اور جو ہماری اس تحقیق میں زیرِ غور آئیں گے۔
یقینًا بانیان یا بنیادی اساطیر کی تلاش میں ایک قسم کی دانش پائی جاتی ہے، خصوصًا اُس وقت جب کوئی نیا نقطۂ نظر یا نیا علمی شعبہ اپنی پہچان کے لیے جدوجہد کر رہا ہو۔ مزید یہ کہ ریاضی دان عمومًا اعلیٰ نتائج اور غیر حل شدہ مسائل پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، جس کے باعث وہ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی تحقیق کی سمت دراصل کس طرح وجود میں آئی۔ یہ دونوں وجوہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ نظریۂ طاقِم کی بنیادوں کو صرف کانتور سے منسوب کرنے کی روایت بیسویں صدی کے اوائل سے کیوں چلی آرہی ہے۔ ۱۹۱۴ میں ہاؤسڈارف نے اپنی کتاب جو تصورِ طاقِم پر پہلی عظیم رہنما دستی کتاب تھی اُس کے خالق کانتور کے نام معنون کی۔
ایک سال بعد، جرمن ریاضیاتی انجمن نے کانتور کے سترھویں یومِ پیدائش پر ایک خط بھیجا، جس میں انہیں "خالقِ نظریۂ طاقِم" قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ہِلبرٹ نے تصورِ طاقِم کو اُس تجریدی ریاضیات کی نمایاں مثال کے طور پر اختیار کیا، جس کی وہ پُرزور وکالت کرتا تھا، اور اس تصور کو ہمیشہ کانتور کے نام کے ساتھ جوڑتا رہا (مثلًا دیکھیں [ہِلبرٹ ۱۹۲۶])۔ یہ فطری بات تھی، کیونکہ کانتور نے ریاضیات میں تصورِ طاقِم کے طریقِ کار کو ایک حقیقی علمی شاخ میں بدل دیا، لامتناہی طاقِم کے اولین نتائج ثابت کیے، اور اس کے سب سے مشہور مسائل وضع کیے۔
لیکن اس روایتی نقطۂ نظر کو وقتًا فوقتًا تنقید کا نشانہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ تقریبًا بیس سال قبل، دوگاک نے لکھا کہ تصورِ طاقِم کی جائے پیدائش دراصل ڈیڈیکِنڈ کے نظریۂ مثالیات پر کام میں تلاش کی جا سکتی ہے [دوگاک ۱۹۷۶, ۲۹]۔ یوں بغیر کسی مزید وضاحت کے پیش کیا جائے تو یہ دعویٰ کچھ مبہم محسوس ہوتا ہے۔
دوگاک کی کتاب کے مقدمے میں ژاں دیودونے نے مُبصرانہ انداز میں لکھا کہ ”ہِلبرٹ کی وہ ’فردوسِ کانتور‘ جس میں داخل ہونے کا وہ خیال رکھتا تھا، آخرکار ایک بناوٹی جنت ثابت ہوئی۔ مزید ہدایت تک، کانتور کے ابتدائی رسائل میں جو کچھ زندہ اور بنیادی ہے، وہ شمارپذیر طواقِم، حقیقی اعداد، اور طولیات سے متعلق ہے۔ مگر ان میدانوں میں انصاف کا تقاضا ہے کہ ڈیڈیکائنڈ کو بھی اس کے ساتھ شریک سمجھا جائے، اور یہ مانا جائے کہ موجودہ ریاضیات کی نظریۂ طاقِم پر مبنی اساس کی بنیاد رکھنے میں دونوں نے برابر کا حصہ ادا کیا“۔⁵
یہ نقطۂ نظر بعض پرانے مؤقفوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے، مثلًا زرمیلو کے اُس مشہور مقالے سے، جو تصورِ طاقِم کی مسلمات بندی پر ہے، اور جسے اُس نے "کانتور اور ڈیڈیکِنڈ کا تخلیق کردہ نظریہ" کہا تھا [۱۹۰۸, ۲۰۰]۔
اُن لوگوں کے استدلال کا بنیادی نکتہ جو نظریۂ طاقِم کی تخلیق کو کانتور سے منسوب کرتے ہیں، دراصل یہ ہے: انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں کانتور وہ شخص تھا جس نے لامحدود کو ریاضیات میں داخل کیا، اور یہی عنصر جدید ریاضیات کے شاندار فروغ کی ایک اہم غذائی قوت بن گیا۔⁶
١. ایتھینا جو ایتھنز کے پارتھینون کی دیوی تھی کو رومی دیوی منیروا کے ساتھ یکساں سمجھا جاتا تھا۔
٢. بانیان کے حوالے سے دیکھیے [بِنسعودی-وِنسنٹ ۱۹۸۳]۔ کوہن [۱۹۶۲، باب ۱۱] نے تجزیہ کیا کہ سائنس دان اپنے منظم کام کے دوران حقیقی تاریخ کو مسلسل نئی صورت میں لکھتے اور چھپاتے رہتے ہیں۔
٣۔ خالقِ نظریۂ طاقِم
“Schöpfer der Mengenlehre”
[پُرکرت اور اِلگاؤڈس ۱۹۸۷, ۱۶۵−۶۶]۔
٤. اسی نوعیت کا مگر قدرے زیادہ باریک دعویٰ [ایڈورڈز ۱۹۸۰, ۳۴۶] میں بھی پایا جا سکتا ہے
٥. [دوگاک ۱۹۷۶, ۱۱]
وہ فردوسِ کانتور جس میں ہِلبرٹ داخل ہونے کا یقین رکھتا تھا، دراصل ایک مصنوعی جنت تھی۔ مزید اطلاع تک، کانتور کے کام میں جو کچھ زندہ اور بنیادی ہے، وہ اس کے ابتدائی کام ہیں جو شمارپذیر مجموعات، حقیقی اعداد اور طولیات سے متعلق ہیں۔ مگر ان میدانوں میں انصاف کا تقاضا ہے کہ ڈیڈیکنڈ کو بھی اس کے ساتھ شامل کیا جائے، اور تسلیم کیا جائے کہ دونوں نے موجودہ ریاضیات کی ‘نظریۂ طاقِم پر مبنی اساس کی بنیاد برابر طور پر رکھی۔
٦. میں نے [لاوائِن ۱۹۹۶, ۱] کو قدرے آزاد انداز میں پیش کیا ہے، تاہم دیکھیے [ہاؤسڈارف ۱۹۱۴]، [فرینکل ۱۹۲۳؛ ۱۹۲۸]۔
٧. سابقہ تاریخی کاموں میں نمایاں طور پر درجِ ذیل مصنفین کا ذکر آتا ہے: [جاؤرڈین ۱۹۰۶/۱۴]، [کاویلیئس ۱۹۶۲] (لکھا گیا ۱۹۳۸ میں)، [مدیودونے ۱۹۶۵]، اور کئی کتابیں جو کانتور پر مرکوز ہیں خصوصًا [ڈاؤبِن ۱۹۷۸] اور [ہالِیٹ ۱۹۸۴]، نیز [میچکووسکی ۱۹۶۷]، [پُرکرت اور اِلوگاڈس ۱۹۸۷]، [دوگاک ۱۹۷۶]، اور آخر میں [مورے ۱۹۸۲]۔

👏
ReplyDelete👍
Delete