تعارف



جیورج کانتور ۱۸۴۵ء تا ۱۹۱۸ء

تصورِ طاقِم کا قصّہ جو لامُتناہیت اور تسلسل کی بھول بھلیّے سے متعلق ایک "خیال" ہے۔ بعض اوقات اس انداز سے بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کسی خوبصورت اساطیر کی یاد دلاتا ہے۔ یونانی دیوی ایتھینا جو زیوس کی پیشانی سے پوری طرح بالغ اور زرہ بکتر سے لیس نمودار ہوئی وہی اس کی سب سے پسندیدہ اولاد تھی۔

تصورِ طاقِم کو عام طور پر ایک ہی شخص، جارج کانتور، کی تخلیق سمجھا جاتا ہے، جس نے اکیلے ہی ایک ایسی بنیادی علمی شاخ قائم کی جو جدید ریاضی کی ساخت پر گہرا اثر ڈال چکی ہے۔ وہ اپنی تخلیق سے اس قدر محبت کرنے لگا کہ اس کی زندگی اسی میں گُتھ گئی یہاں تک کہ اسی کے سبب ذہنی اذیت کا شکار ہوا۔ تصور اور دیوی کے درمیان یہ مشابہت دوسرے پہلوؤں سے بھی دلچسپ ہے۔ 
ایتھینا ایک کنواری دیوی تھی، جب کہ نظریۂ طاقِم اپنی پاکیزگی اور تجریدیت میں عددی نظریہ کے مشابہ ہے۔ وہ حکمت اور شہری ریاست کی دیوی تھی، اور نظریۂ طاقِم جدید مرکزی ریاضیات کے اس فکری شہر میں تنظیمی کردار ادا کرتی ہے، نیز یہ ریاضیاتی حکمت کی اعلیٰ ترین کامیابیوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتی ہے۔

وہ جنگ کی دیوی بھی تھی، جو ہمیں اُن مباحثوں اور مناظروں کی یاد دلاتی ہے جنہیں یہ علمی شاخ جنم دیتی رہی ہے اور جو ہماری اس تحقیق میں زیرِ غور آئیں گے۔

یقینًا بانیان یا بنیادی اساطیر کی تلاش میں ایک قسم کی دانش پائی جاتی ہے، خصوصًا اُس وقت جب کوئی نیا نقطۂ نظر یا نیا علمی شعبہ اپنی پہچان کے لیے جدوجہد کر رہا ہو۔ مزید یہ کہ ریاضی دان عمومًا اعلیٰ نتائج اور غیر حل شدہ مسائل پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، جس کے باعث وہ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کی تحقیق کی سمت دراصل کس طرح وجود میں آئی۔ یہ دونوں وجوہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ نظریۂ طاقِم کی بنیادوں کو صرف کانتور سے منسوب کرنے کی روایت بیسویں صدی کے اوائل سے کیوں چلی آرہی ہے۔ ۱۹۱۴ میں ہاؤسڈارف نے اپنی کتاب جو تصورِ طاقِم پر پہلی عظیم رہنما دستی کتاب تھی اُس کے خالق کانتور کے نام معنون کی۔

ایک سال بعد، جرمن ریاضیاتی انجمن نے کانتور کے سترھویں یومِ پیدائش پر ایک خط بھیجا، جس میں انہیں "خالقِ نظریۂ طاقِم" قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ہِلبرٹ نے تصورِ طاقِم کو اُس تجریدی ریاضیات کی نمایاں مثال کے طور پر اختیار کیا، جس کی وہ پُرزور وکالت کرتا تھا، اور اس تصور کو ہمیشہ کانتور کے نام کے ساتھ جوڑتا رہا (مثلًا دیکھیں [ہِلبرٹ ۱۹۲۶])۔ یہ فطری بات تھی، کیونکہ کانتور نے ریاضیات میں تصورِ طاقِم کے طریقِ کار کو ایک حقیقی علمی شاخ میں بدل دیا، لامتناہی طاقِم کے اولین نتائج ثابت کیے، اور اس کے سب سے مشہور مسائل وضع کیے۔

لیکن اس روایتی نقطۂ نظر کو وقتًا فوقتًا تنقید کا نشانہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ تقریبًا بیس سال قبل، دوگاک نے لکھا کہ تصورِ طاقِم کی جائے پیدائش دراصل ڈیڈیکِنڈ کے نظریۂ مثالیات پر کام میں تلاش کی جا سکتی ہے [دوگاک ۱۹۷۶, ۲۹]۔ یوں بغیر کسی مزید وضاحت کے پیش کیا جائے تو یہ دعویٰ کچھ مبہم محسوس ہوتا ہے۔

دوگاک کی کتاب کے مقدمے میں ژاں دیودونے نے مُبصرانہ انداز میں لکھا کہ ہِلبرٹ کی وہ ’فردوسِ کانتور‘ جس میں داخل ہونے کا وہ خیال رکھتا تھا، آخرکار ایک بناوٹی جنت ثابت ہوئی۔ مزید ہدایت تک، کانتور کے ابتدائی رسائل میں جو کچھ زندہ اور بنیادی ہے، وہ شمارپذیر طواقِم، حقیقی اعداد، اور طولیات سے متعلق ہے۔ مگر ان میدانوں میں انصاف کا تقاضا ہے کہ ڈیڈیکائنڈ کو بھی اس کے ساتھ شریک سمجھا جائے، اور یہ مانا جائے کہ موجودہ ریاضیات کی نظریۂ طاقِم پر مبنی اساس کی بنیاد رکھنے میں دونوں نے برابر کا حصہ ادا کیا“۔⁵

یہ نقطۂ نظر بعض پرانے مؤقفوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے، مثلًا زرمیلو کے اُس مشہور مقالے سے، جو تصورِ طاقِم کی مسلمات بندی پر ہے، اور جسے اُس نے "کانتور اور ڈیڈیکِنڈ کا تخلیق کردہ نظریہ" کہا تھا [۱۹۰۸, ۲۰۰]۔

اگر ہم یہ مدنظر رکھیں کہ ڈیڈیکِنڈ کے تصوراتِ طاقِم سن ۱۸۷۲ء تک خاصے ترقی یافتہ ہو چکے تھے، اور یہ کہ وہ اور کانتور اُس زمانے سے، جیسا کہ کہا جاتا ہے، اچھے دوست بن گئے تھے (تفصیل کے لیے دیکھیے باب ششم)، تو رائج کہانی کچھ مشتبہ محسوس ہونے لگتی ہے۔
درحقیقت یہی غیر مطمئن کر دینے والا معاملہ میری اپنی تحقیق  کا نقطۂ آغاز تھا، اگرچہ وقت کے ساتھ اس کی وسعت اور زاویۂ نظر میں خاصی تبدیلی آگئی۔

اُن لوگوں کے استدلال کا بنیادی نکتہ جو نظریۂ طاقِم کی تخلیق کو کانتور سے منسوب کرتے ہیں، دراصل یہ ہے: انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں کانتور وہ شخص تھا جس نے لامحدود کو ریاضیات میں داخل کیا، اور یہی عنصر جدید ریاضیات کے شاندار فروغ کی ایک اہم غذائی قوت بن گیا۔⁶

اگر یہ استدلال مکمل طور پر اسی پر مبنی ہے، تو صاف کہا جا سکتا ہے کہ اس کی بنیاد تاریخی طور پر غلط ہے، لہٰذا نتیجہ درست طور پر اخذ نہیں ہوتا۔
کیونکہ کم از کم ایک اور مصنف، یعنی ڈیڈیکِنڈ، نے فعلی لامُتناہیت کو واضح اور مؤثر انداز میں کانتور سے پہلے متعارف کرایا تھا۔
البتہ دوسری طرف، کانتور نے بلاشبہ لامتناہی نظریۂ طاقِم کی بنیاد رکھی، ایسے وقت میں جب دوسرے ریاضی دان فعلی لامُتناہیت کے تصور پر انحصار کرنے لگے تھے اور طاقِمِ نقاط کے نظریے پر متعدد ماہرین تحقیق کر رہے تھے۔⁷

١.  ایتھینا جو ایتھنز کے پارتھینون کی دیوی تھی کو رومی دیوی منیروا کے ساتھ یکساں سمجھا جاتا تھا۔

٢.  بانیان کے حوالے سے دیکھیے [بِنسعودی-وِنسنٹ ۱۹۸۳]۔ کوہن [۱۹۶۲، باب ۱۱] نے تجزیہ کیا کہ سائنس دان اپنے منظم کام کے دوران حقیقی تاریخ کو مسلسل نئی صورت میں لکھتے اور چھپاتے رہتے ہیں۔

٣۔ خالقِ نظریۂ طاقِم  

“Schöpfer der Mengenlehre”

[پُرکرت اور اِلگاؤڈس ۱۹۸۷, ۱۶۵−۶۶]۔

٤. اسی نوعیت کا مگر قدرے زیادہ باریک دعویٰ [ایڈورڈز ۱۹۸۰, ۳۴۶] میں بھی پایا جا سکتا ہے

٥.  [دوگاک ۱۹۷۶, ۱۱] 

وہ فردوسِ کانتور جس میں ہِلبرٹ داخل ہونے کا یقین رکھتا تھا، دراصل ایک مصنوعی جنت تھی۔ مزید اطلاع تک، کانتور کے کام میں جو کچھ زندہ اور بنیادی ہے، وہ اس کے ابتدائی کام ہیں جو شمارپذیر مجموعات، حقیقی اعداد اور طولیات سے متعلق ہیں۔ مگر ان میدانوں میں انصاف کا تقاضا ہے کہ ڈیڈیکنڈ کو بھی اس کے ساتھ شامل کیا جائے، اور تسلیم کیا جائے کہ دونوں نے موجودہ ریاضیات کی ‘نظریۂ طاقِم پر مبنی اساس کی بنیاد برابر طور پر رکھی۔

٦. میں نے [لاوائِن ۱۹۹۶, ۱] کو قدرے آزاد انداز میں پیش کیا ہے، تاہم دیکھیے [ہاؤسڈارف ۱۹۱۴]، [فرینکل ۱۹۲۳؛ ۱۹۲۸]۔

٧. سابقہ تاریخی کاموں میں نمایاں طور پر درجِ ذیل مصنفین کا ذکر آتا ہے: [جاؤرڈین ۱۹۰۶/۱۴]، [کاویلیئس ۱۹۶۲] (لکھا گیا ۱۹۳۸ میں)، [مدیودونے ۱۹۶۵]، اور کئی کتابیں جو کانتور پر مرکوز ہیں خصوصًا [ڈاؤبِن ۱۹۷۸] اور [ہالِیٹ ۱۹۸۴]، نیز [میچکووسکی ۱۹۶۷]، [پُرکرت اور اِلوگاڈس ۱۹۸۷]، [دوگاک ۱۹۷۶]، اور آخر میں [مورے ۱۹۸۲]۔

فقط
سیالکوٹ

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

٢.٢. الہام اور منطقیت

٣. مسئلۂ لامُتناہی