دوم: روایتی اور "جدید" بُنیادی نقطۂ نظر

ہمیشہ سے ریاضیات میں پیدا ہونے والے فلسفیانہ مسائل کے حل کے لیے کئی ممکنہ طریقے موجود رہے ہیں تجربیت، افلاطونی حقائق کا نظریہ، عقلیت، وجدانیت، صُوریت، اور ان کے درمیان بہت سے درمیانی راستے۔

جو کچھ ہم نے دیکھا ہے، اس کی بنیاد پر یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ انیسویں صدی کے جرمن ریاضی دانوں میں فلسفیانہ خیالات کا اثر زیادہ تھا، اور اُن میں اپنے غیر ملکی ہم منصبوں کے مقابلے میں زیادہ قیاسی رجحانات پائے جاتے تھے۔ اس رجحان کی چند دلچسپ ابتدائی مثالیں جن پر یہاں تفصیل سے گفتگو نہیں کی جائے گی بولزانُو اور کُمّر کی ہیں۔

مگر ہمارے مقصد کے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ فلسفے کے اثر نے انیسویں صدی کے جرمنی میں عقلیت کے مکتبِ فکر میں اضافہ کیا۔

عمانوئیل کانٹ ۱۷۲۴ تا ۱۸۰۴

کانٹ کے فلسفے کو ہمیشہ سائنس دانوں کے لئے ہیگل کے مطلق العنان نظریۂ خیال کی نسبت زیادہ مناسب سمجھا گیا ہے۔ اسی لئے یہ بات تعجب خیز نہیں کہ ہیگل کے عروج کے زمانے میں بھی اور اس کے بعد بھی کانٹ کا فلسفہ اہلِ علم کے درمیان ایک اہم مقام رکھتا رہا۔

کانٹ کا ایک نمایاں نظریہ یہ ہے کہ فاعلِ ادراک دنیا میں یا کم از کم دنیا کے ہمارے علم میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا ایک تصور ہے، مظاہر کا ایک مجموعہ، جو شعور کی پردہ گاہ پر ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ یہ مظاہر صرف بیرونی اشیاء سے آنے والے محرکات کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتے بلکہ خود ذہن کی اندرونی خصوصیات بھی ان کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہیں۔

دنیا کی یہ نمائشی حیثیت کہ وہ فاعل اور مفعول دونوں کے اشتراک سے بنتی ہے ایک طرح سے سائنسی نظریات کے مقام کے مشابہ دیکھی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب انہیں مفروضہ استنتاجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے؛ کیونکہ سائنسی نظریات بھی ریاضیاتی مفروضوں اور تجربہ گاہ میں حاصل شدہ مشاہدات کے باہمی تعاون سے وجود میں آتے ہیں۔

اگر ہم اس مماثلت کو قبول کریں، اور اس سے نکلنے والے نتیجے کو اختیار کریں، تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ریاضیات فاعل کے پہلو میں ہے۔ یعنی ریاضیات کا تعلق انسان کے ذہن کی اندرونی خصوصیات سے ہونا چاہئے یا کانٹ کی اصطلاح میں ذہن کے اُن ثابت اور قبل تجربی عناصر سے جن پر ہمارا علم قائم ہوتا ہے۔ اس طرح ہم ایک عقلیت پسندانہ تصورِ ریاضیات تک پہنچ جاتے ہیں۔

ابتدائی انیسویں صدی کی جرمنی میں ریاضی کی بنیادوں کے بارے میں مختلف نظریات کے ساتھ عقلیت بھی وابستہ تھی۔ اس عقل پرستی کی دو مثالیں ملتی ہیں:

ںـ ۱. کانٹوی وجدانیت

ںـ ٢. اور ایک خاص قسم کی رسمیت جو نام نہاد نطوریائی مکتب سے متعلق تھی۔

آئیے دوسری مثال، یعنی رسمیت، سے آغاز کرتے ہیں۔

ںـ ۲.۱. رسمی رجحانات

سن ١٨٠٠ کے آس پاس، جرمنی کے ریاضی دانوں میں تراکُمی  روایت نہایت مؤثر تھی۔¹ اس رجحان کی قیادت لائپزگ کے پروفیسرِ طبیعیات و ریاضیات کارل ایف۔ ہِنڈن برگ کر رہے تھے، جنہوں نے ١٧٩٤ سے ١٨٠٠ تک جرمنی میں ریاضیات کے لیے شائع ہونے والے پہلے رسالے "آرکیو فور ڈائی رائینی اُنڈ انگیوانڈٹی میتھیماٹِک" کی ادارت کی۔ انہوں نے اس مجلے کو اپنے ریاضیاتی تصور کی ترویج کے لیے استعمال کیا۔ تراکُمی مکتب فکر اپنے آپ کو لائبنِز کا وارث سمجھتا تھا، جس نے فنِ ترکیب کو ’’عمومی سائنس برائے فارمولہ‘‘ قرار دیا تھا ایسی سائنس جو عمومی ترکیبی قوانین فراہم کرے اور جس کے دائرے میں الجبرا ایک ذیلی شعبے کی حیثیت سے شامل ہو [لائبنِز ۵۴–۵۶ ,۱۹۷۶]۔ ہِنڈنبرگ اور ان کے پیروکار تراکُمی نظریے کو خالص ریاضیاتی مرکز اور سلسلوں کے نظریہ کی بنیاد سمجھتے تھے، اور سلسلوں کے نظریے کو وہ تحلیل کی اساس قرار دیتے تھے۔ اس طرح اس روایت کے بنیادی موضوعات خالص ریاضیات کے مسائل تھے، جن میں سے ایک بہت بحث شدہ مسئلہ حسابان کی بنیادیں تھیں۔ ان کے نزدیک "تجزیہ" دراصل علامتوں کے متناہی اور لامتناہی سلسلوں کی تبدیلیوں کا علم تھا وہ تبدیلیاں جنہیں تراکُمی اصولوں کے ذریعے پرکھا اور سمجھا جا سکتا تھا۔²

تراکُمی نقطۂ نظر اُس زمانے کے دیگر معاصر نظریات سے خاصا قریب تھا، جیسے کہ لاغرانژ کا 1797 کی کتاب  "نظریۂ تجزیاتی تفاعل"   میں پیش کردہ حسابِ اوّل کا صَرف رسمی تصور، اور اسی سے متعلق "حسابِ عملیات" کی ترقی [کوپلمین 1971]۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ تراکُمیت نے ۱۸ویں صدی کی ریاضیات میں موجود اُن رجحانات کو مزید آگے بڑھایا جو ویسے ہی اُس دور میں نمایاں تھے، اور جن کا نتیجہ بعد میں برطانوی رمزی الجبرا کی صورت میں نکلا [کنوبلوچ 1981; پائیسر 1987]۔ ان تراکُمی ماہرین کے خیالات سے ملتے جلتے نظریات کی ایک مؤثر صورت برلن کے پروفیسر مارٹن اوہم نے پیش کی جو مشہور طبیعیات ڈان اوہم کا بھائی تھا اور جس کی اہمیت آنے والے مباحث میں بھی ظاہر ہوگی۔ اس کی تحریریں خاص طور پر جِمنازیم کے اساتذہ میں بہت مقبول ہوئیں، اور غالب گمان ہے کہ خود تعلیم یافتہ ریاضی دانوں میں بھی اس کا اثر تھا۔

اوہم نے واضح طور پر یہ نظریہ پیش کیا کہ پوری ریاضیات کی بنیاد قُدرتی عدد کے تصور پر رکھی جانی چاہیے، ایک ایسا نظریہ جو اُس کے ساتھی ڈِرِچلِٹ اور بعد میں کرونیکر, وائسٹراس اور ڈیڈیکائنڈ کے ہاں بھی ملتا ہے۔ اوہم کے مطابق [1822, جلد. اول, 8–9]

حقیقی وجود صرف قُدرتی اعداد کا ہے، جب کہ ریاضیات کی باقی تمام شاخیں دراصل عددی علامتوں کے نظام کا مطالعہ ہیں۔

اوہم کی "خالص ریاضیات" کی نئی تشکیل زیادہ تر علامتی کلیہ کی ہیئت سازی پر مبنی تھی، جس میں الجبری قواعد استعمال ہوتے تھے، لیکن ان قواعد کی بنیاد صرف مشابہت پر رکھی گئی تھی یہ تراکُمی روایت کی میراث تھی، اور بالکل وہی پہلو ہے جو انگریزی رمزی الجبرا میں بھی پایا جاتا ہے۔

اسی نقطۂ نظر کی بدولت اوہم اس قابل ہوا کہ وہ شاذ و نادر سلسلوں کے استعمال کو مضبوط بنیاد فراہم کرے اس طرح اُس نے ۱۸ویں صدی کے تجزیے کی اُس خاص خصوصیت کو برقرار رکھا جسے اُس کے عظیم ہم عصر ریاضی دانوں: ہابیل, کاؤچی اور گاؤس نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔³

تراکُمی نقطۂ نظر کو خالص رسمیّت پسند نقطۂ نظر کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کے مطابق ریاضی محض علامتی یا نحوی ساخت ہے۔ اوہم کا نقطۂ نظر صرف جزوی طور پر رسمیّت پسند دکھائی دیتا ہے، کیونکہ وہ قُدرتی اعداد کو اُن کی مخصوص صفات کے ساتھ ایک دی ہوئی شے کے طور پر قبول کرتا ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جزوی رسمیّت بھی عقلیت پسند رجحانات کے بالکل برعکس ہونی چاہیے۔ البتہ، اگر علامات کو بنیادی طور پر ذہنی وجود رکھنے والی چیزیں مان لیا جائے، تو پورا منظرنامہ بدل جاتا ہے۔ رسمی طاقت کے تسلسل کی تعریف کرتے ہوئے اوہم کہتا ہے کہ یہ لامحدود درجے کا تفاعُل ہے، اور "لہٰذا ایک کلی تفاعُل ہے جو کبھی حقیقت میں قابلِ اظہار نہیں ہوتا بلکہ صرف ہمارے اندر خیال میں زندہ رہتا ہے" [اوہم 1855، ص 239]۔ مزید یہ کہ اوہم کے مطابق حساب میں اصل چیز اعداد نہیں بلکہ اعمال ہیں، یعنی عقل کے افعال اور عقل کا لفظ ایک خالص فلسفیانہ، اور بالخصوص کانٹ سے متعلقہ اصطلاح ہے

حساب (ریاضی، جبریات، تحلیل وغیرہ) کے سب سے متنوع مظاہر میں مصنف مقداروں کی خصوصیات نہیں دیکھتا، بلکہ اعمال کی خصوصیات یعنی وہ اعمال جو عقل ادا کرتی ہے… اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی دراصل ’صورتوں‘ سے حساب کرتا ہے، یعنی علامتی شکل میں پیش کردہ اعمال کے ساتھ یہ سب عقل کے اعمال ہیں جنہیں تجریدی قُدرتی اعداد کے مطالعے سے تحریک ملی ہے

پس، عمومی علامتی قواعد ذہنی طور پر موجود صورتوں یا علامتوں پر ذہن کے اعمال کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اوہم کی یہ بات کہ اعمال قدرتی اعداد کے مطالعے سے حاصل ہوتے ہیں، دراصل اُس "قانونِ بقائے اصولِ رسمیّت" کی طرف اشارہ ہے، جو برطانوی علامتی الجبرا کی ایک نمایاں خصوصیت ہے، اور جسے بہت بعد میں ہرمان ہینکل [1876] کی تحریروں میں بھی پایا جا سکتا ہے۔
تراکُمیت سن 1810 تک بہت کامیاب رہا، لیکن اس رجحان کی کتابیں وسطِ صدی تک شائع ہوتی رہیں۔ دوسری طرف، اوہم کا طریقِ کار جمنازیم کے اساتذہ اور اُن لوگوں میں بہت اثر انگیز رہا جو ریاضی میں کم و بیش خود سکھے تھے۔⁵ حتیٰ کہ 1860 تک، گوٹنگن کے پروفیسر مورٹِز اے. اسٹیرن نے ایک درسی کتاب شائع کی جس میں اوہم سے ملتے جلتے رسمیت پسند تصورات مرکزی حیثیت رکھتے تھے (دیکھیے [یانکے 1991])۔ اوہم کی کئی مضبوطی سے مشابہ خیالات ڈیڈیکِنڈ کی ابتدائی تحریروں میں بھی ملتے ہیں، شاید اس کے استاد اسٹیرن کے ذریعے منتقل ہوئے ہوں، اور وایرِسٹراس میں بھی، غالبًا اس کے استاد سی۔ گوڈرمان کے ذریعے [مانِنگ 1975, 329–40].

ریاضی بطور ایک عقلیت پسند تصور جو "صورتوں" کی زبان میں بیان کیا گیا ہیرمان گراسمن کے ہاں بھی ملتا ہے۔ گراسمن [1844, ص 33] نے اپنے کام کا آغاز ریاضی کے لیے ایک ڈھانچے کے طور پر صورتوں کے ایک عمومی نظریے کی توضیح سے کیا۔ ایک فارمولے سے دوسرے فارمولے کی طرف انتقال کو وہ ایک ذہنی عمل کے ساتھ بعینہٖ متوازی سمجھتے تھے، ایک ایسا عمل جو بیک وقت وقوع پذیر ہونا چاہیے [ایضًا، ص 9]۔ ایک "صورت" یا "فکر کی صورت" محض وہ شے تھی جسے ذہن ایک مخصوص تعریف پوری کرنے والی حیثیت کے ساتھ قائم کرتا ہے یعنی "ذہن کی پیدا کردہ ایک تخصیص یافتہ ہستی"۔ اور "خالص ریاضی صورتوں کا علم ہے" [ایضًا، ص 24]۔ ریاضی کا یہ نیا اور انتزاعی تصور متعدد فلاسفہ لائبنِز سے لے کر شلایٔرماخر تک کے اثرات سے جڑا ہوا ہے، جو گراسمن پر پڑے۔ اگرچہ وہ مکانی وجدان کے وجود کو مانتے تھے، لیکن گراسمن کا "نظریۂ توسیع" وجدان پر منحصر نہیں تھا، کیونکہ وہ ہندسہ جو کہ تجربی علم ہے کے لیے انتزاعی اور خالص ریاضیاتی بنیاد فراہم کرتی تھی۔ تراکُمیوں اور اوہم سے مشابہت کے باوجود گراسمن نے علامات پر حد سے زیادہ انحصار ترک کر دیا، اور بالخصوص اس استدلال کو چھوڑ دیا جو محض مشابہت پر قائم ہوتا تھا، یوں وہ جدید سمت میں آگے بڑھے۔ ضمنی بات کے طور پر یہ قابلِ ذکر ہے کہ ان کا طریقۂ کار اُنیسویں صدی کی ابتدائی جرمنی میں کسی اور کے مقابلے میں کہیں زیادہ ریاضیاتی نظریات کی باقاعدہ، مسلماتی تشکیل کو فروغ دیتا تھا۔
حـ ١. اگرچہ ۱۹ویں صدی کے رواج کے مطابق اس رجحان کو تراکُمی مکتب کہا جاتا رہا ہے، لیکن میں ’مکتب‘ کے بجائے ’روایت‘ کا لفظ استعمال کرنا پسند کروں گا۔ ہم ’مکتب‘ اُس ادارہ جاتی ترتیب کے لیے محفوظ رکھتے ہیں جس میں پختہ کار ریاضی دانوں کے چھوٹے گروہ کسی حد تک مربوط تحقیقی پروگراموں پر کام کرتے تھے، تحقیق کے ایک خاص انداز یا ’فلسفے‘ کے تحت (جیسا کہ ہاکنز کے مفہوم میں)، اور جہاں وہ اپنے زیرِ تربیت اعلیٰ طلبہ کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتے تھے [دیکھیے: گائسن 1981، سروس 1993]۔ دوسری طرف ’روایت‘ ایسا لفظ ہے جو اثر پذیری، دلچسپیوں کی اشتراکیت اور ’فلسفے‘ کے تصور کو بہتر طور پر ادا کرتا ہے، مگر ایک نسبتاً ڈھیلے ادارہ جاتی، جغرافیائی، یا زمانی تناظر میں [دیکھیے: تعارف]۔

حـ ٢. اس موضوع پر دیکھیے: نیٹو 1908، یانکے 1987؛ 1990۔

حـ ٣. یہ حقیقت کہ اوہم کے طریقِ کار کو علامتی اور عددی مساوات میں فرق اور علامتی حساب کے قواعدِ تعبیر نے سخت گیر علمی بنیاد فراہم کی اس پر یانکے [1987] نے زور دیا ہے۔ نیز دیکھیے: بیکیمائر 1987۔
: حـ ٤. [اوہم 1853، صفحہ ٨]
“حساب کے مختلف ترین مظاہر (حساب، الجبرا، تحلیل وغیرہ) میں مصنف مقداروں کی خصوصیات کو نہیں دیکھتا، بلکہ عملیات کی خصوصیات کو یعنی عقل کے افعال کو….”۔
حـ ٥. دیکھیے: لیوس 1977 اور اوٹے 1989۔
گراسمن کے ریاضیاتی طریقِ کار کا ایک مختصر مگر دلچسپ تجزیہ نیجل [1939، صفحات 215–19] میں ملتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

٢.٢. الہام اور منطقیت

تعارف

٣. مسئلۂ لامُتناہی