اوّل: جرمن ریاضیات کا ادارہ جاتی اور علمی پس منظر

گوٹفرائیڈ وِلہلم لائبنِز ١٦٤٦ء تا ۱۷۱٦ء

ریاضیات کی کلیت کو یکساں وحدت میں برتنے کی مختلف کوششوں خواہ ہم افلاطون، ڈیکارٹ یا لائبنِز کے بارے میں سوچیں، یا پھر عدد سازی یا انیسویں صدی کی منطقیت کا تصور کریں میں یہ مشترکہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ سب کچھ یا کم و بیش وسیع الدائرہ فلسفیانہ نظام کے ساتھ وابستہ رہے ہیں؛ اور ہمیشہ ریاضیات کے خارجی دنیا اور خیال کی دوہری کائنات کے ساتھ تعلق کے حوالے سے قبل تجربی نظریات سے نقطہ آغاز حاصل کیا ہے۔¹

ریاضیاتی علم کی نشوونما کو سمجھنے کے لیے کبھی کبھار ریاضیاتی سوچ کے مکاتب فکر کے کردار کی شناخت اور اس پر غور کرنا اہم ہو جاتا ہے۔ ایسا مکتب فکر عمومًا ایک بنیادی فلسفہ رکھتا ہے جس سے میری مراد ریاضی کے حوالے سے رویوں کا ایک مجموعہ ہے۔ کسی مکتب فکر کے ارکان اس بات پر مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ کس قسم کی ریاضی کے تعاقب کے قابل ہے یا زیادہ عمومی طور پر، اس انداز پر جس میں یا اس روح کے ساتھ جس میں ریاضیاتی مسائل کی تحقیق کی جانی چاہیے۔²

جیسا کہ موجودہ کام کے متن میں واضح ہوگا، انیسویں صدی کی جرمن ریاضی میں ایک مخصوص رجحان، یعنی موسوم بہ تصوری اسلوب، نظریہ طاقم کے عروج سے گہرا تعلق رکھتا نظر آتا ہے۔ لہٰذا، مناسب یہی ہے کہ دو مختلف 'ریاضیاتی اسالیب' جو ۱۸۵۵ کے فورًا بعد گوئٹنگن اور برلن میں حاوی تھے کے تجزیے سے آغاز کیا جائے۔ یہی §§4 اور 5 کا موضوع ہو گا۔ اداروں کے اس مخصوص انتخاب کی وجہ سادہ ہے: کتاب کے پہلے دو حصوں کی مرکزی شخصیات رائیمان، ڈیڈیکِنڈ اور کانتور ہیں۔ رائیمان اور ڈیڈیکِنڈ نے گوئٹنگن میں تعلیم پائی اور وہیں انہوں نے اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز کیا، جبکہ کانتور نے اپنی ریاضیاتی تربیت برلن سے حاصل کی۔ یہ بات سامنے آئے گی کہ تصوری اسلوب دونوں جامعات میں موجود تھا، لیکن مختلف اقسام کی صورت میں، جنہیں ہم ایک مجرد اور ایک صوری قسم کے طور پر پہچانیں گے۔ گوئٹنگن میں پایا جانے والا مجرد تصوری اسلوب نے خود نظریاتی رجحان کو مضبوطی سے فروغ دیا۔

تصوری نقطہ نظر کو بہتر سمجھنے کے لیے، صدی کے پہلے نصف میں جرمنی میں اثر انداز ہونے والے ریاضی کی بنیادوں کے ایک عدد رجحانات کا، مختصر ہی سہی، جائزہ لینا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، نظریۂ طاقم کے عروج کا ایک اہم حصہ نئی زبان کا ابھرنا تھا جس نے ریاضیاتی اشیاء کے بارے میں ایک نوآموز تفہیم کا اظہار کیا یعنی طاقمی زبان اور یہ خیال کہ طاقم ریاضی کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ اس نے کچھ ایسے سوالات کو جنم دیا جن پر یونانیوں کے ہاں پہلے ہی بحث ہو چکی تھی: ریاضیاتی اشیاء کس قسم کا وجود رکھتی ہیں، اور فعلی لامتناہی کا معروف مسئلہ۔ یہ فلسفیانہ سوالات تھے، جنہیں جرمن ریاضی دانوں نے اسی طور پر سمجھا۔³ درحقیقت، یہ سوالات محض ریاضی کی خصوصی ملکیت نہیں ہیں، اور اس بات کے کچھ شواہد موجود ہیں کہ جرمنی میں وسیع تر فکری و فلسفیانہ فضا نے ریاضیاتی بحث پر کچھ اثر ڈالا۔ §§ 1 سے 3 میں ان موضوعات پر ہماری بحث کا مقصد مکمل ہرگز نہیں ہے، بلکہ صرف اس آخری مقالہ کی وضاحت اور معقولیت ثابت کرنا ہے۔ ہم مشاہدہ کریں گے کہ ایسے معاملات، اور خاص طور پر لامتناہی کے سوال کے حوالے سے، کچھ غلط فہمیاں پائی گئی ہیں، کیونکہ ۱۸۰۰ یا ۱۸۵۰ تک تمام جرمن ریاضی دانوں نے فعلی لامتناہی کو مسترد نہیں کیا تھا۔

١. اصلاح شدہ جرمن جامعات میں ریاضی

انیسویں صدی کے بین الاقوامی منظر نامے کے تناظر میں، جرمن سائنسی برادری کچھ خاص انفرادیت رکھتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص فکری فضا نے علوم، بشمول ریاضی، کے جرمن اسالیب کو نشان زد یا مشروط کیا تھا۔⁴ اسے ریاضیاتی تحقیق کے اداراتی سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جو نپولینی یلغار کے بعد کی گئی تعلیمی اصلاحات سے ابھرا تھا۔ جیسا کہ ہم اس کتاب میں تجزیہ کریں گے، زیر بحث تحقیق واضح طور پر جامعاتی سیاق و سباق میں وقوع پذیر ہوئی، لیکن انیسویں صدی کی جرمن جامعات ۱۸۱۰ کے لگ بھگ شروع ہونے والے ایک پیچیدہ اور انقلابی تبدیلی کا نتیجہ تھیں (دیکھیے [ایم سی کلیلینڈ ۱۹۸۰])۔

نپولینی یلغار کے افسوس ناک تجربے نے فرانس کے مقابلے میں جرمنی کی سیاسی، معاشی، عسکری اور سائنسی صورتحال کو بلند کرنے کے لیے اہم تبدیلیوں کی ضرورت کو واضح کر دیا۔ کسی حد تک، جرمنوں نے اپنی شکست کی وجہ فرانسیسی افسروں کے اعلیٰ سائنسی تعلیمی معیار کو قرار دیا۔ یہ اعلیٰ معیار انقلابِ فرانس کے بعد کی گئی تعلیمی اصلاحات کا نتیجہ تھا، خاص طور پر ۱۷۹۴ میں پیرس کی ایکول پولی ٹیکنیک کے قیام کا۔ یہاں، اعلیٰ سائنسی تعلیم، بشمول حسابان، پہلی بار طلبہ کو باقاعدگی سے دستیاب ہوئی۔ جرمن ریاستوں نے متوازی اصلاحات کا آغاز کیا، لیکن ان میں سے بعض، خاص طور پر پرشیا میں، نے محض فرانسیسی نمونہ کی سادہ تقلید نہیں کی۔ بلکہ، انہوں نے اپنا مخصوص نمونہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔⁵ جہاں فرانس میں جامعات کو ایک فرسودہ قرون وسطیٰ کی ادارہ کے طور پر ختم کر دیا گیا تھا، وہیں جرمنی میں ایک اصلاح شدہ جامعہ کے لیے پہلے سے ہی کچھ نمونے موجود تھے، جو روشن خیالی کے ثقافتی معیارات کے مطابق ڈھل چکے تھے، جیسا کہ ہنوور میں واقع گوئٹنگن یونیورسٹی کا معاملہ تھا [ایم سی کلیلینڈ ۱۹۸۰]۔

نپولینی جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اصلاحی تحریک، جرمن روشن خیالی کی تعلیمی آرزؤں کے ساتھ قدرتی طور پر ہم آہنگ ہو گئی۔ اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں، اس نے موسوم بہ نو انسانیَت کو جنم دیا، جو ایک ایسی تحریک تھی جس نے عقلیت پسندانہ نقطہ ہائے نظر کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فرد کی مکمل تعمیر، یعنی افادیت پسندانہ اہداف سے ہدایت نہ پانے والے ایک وسیع، ہم آہنگ تعلیم و تربیت کے تصور کی خواہش کی۔ ایسے مثالیات کو مورخین اور ماہرینِ لسانیات جیسے ہالے میں واقع پرشین یونیورسٹی کے ایف اے وولف نے زبردست فروغ دیا، جنہیں نئی 'سائنسی' لسانیات اور جامعی سیمینار کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ وولف نے تاریخ اور لسانیات، جسے وہ "علوم قدیمہ" کہتے تھے، کو ایک حقیقی "نظام" میں بدلنے، اسے "ایک نامیاتی کل میں متحد کرنے اور ایک بہتر ترتیب.... سائنس کے مرتبے تک بلند کرنے" کے لیے اپنی کوششیں وقف کیں۔⁶ یہ محض پیشہ ورانہ یا علمی وجوہات کی بنا پر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ ایک خاص تعلیمی مثالیہ کو مجسم کرتا تھا۔ جیسا کہ گوئٹے نے ۱۸۲۷ میں ایکر مین سے کہا تھا،

"ایک عظیم انسان جس کی روح میں خدا نے کردار کی عظمت اور عقل کی صلاحیت رکھی ہے، وہ یونانی اور رومی قدیمیت کے بلند کرداروں کے تعارف اور ان کے قریبی تعلق کے ذریعے شاندار طور پر پروان چڑھے گا۔"⁷

نو انسانیَت کے پیروکار پروفیسروں نے جامعی استاد کے روایتی کردار یعنی مستحکم علم کی منتقلی سے آگے بڑھ کر تنقید و تحقیق کے ذریعے اس کی توسیع کا فریضہ انجام دیا۔ سیمینار کے ادارے کے ذریعے، منتخب طلبہ کے گروہوں کو خود تحقیق کرنے کا طریقہ سکھایا گیا، اور تحقیق تدریس کا ایک لازمی جزو بن گئی۔ اس تحریک کا ایک اور اہم پہلو اٹھارویں صدی کے آخر میں علوم (فلسفہ، تاریخ، لسانیات، ریاضی وغیرہ) کی ان شعبوں قانون، طب اور الہیات (روایتی 'اعلیٰ' جامعی شعبوں) کے ساتھ برابری یا فوقیت کے اعتراف کی جدوجہد کے ساتھ اس کا اتحاد تھا۔

اعلیٰ تعلیم کی جرمن اصلاحات عام طور سے ۱۸۱۰ میں برلن یونیورسٹی کی بنیاد سے جوڑی جاتی ہیں۔ فلسفیانہ شعبہ، جس میں علوم شامل تھے، کو جمینازیم (ثانوی اسکول) کے پروفیسروں کی تیاری کا کام سونپا گیا؛ پرشین ریاست نے ان سے ایک امتحان پاس کرنے کا تقاضا کیا جس میں ان کے لسانیات، تاریخ اور ریاضی کے علم کا امتحان لیا جاتا۔ اس طرح، فلسفیانہ شعبہ کو پیشہ ورانہ شعبوں کے برابر درجہ دیا گیا، جہاں ریاضی کو ایک مضبوط اداراتی اساسی ڈھانچہ میسر آیا۔⁸ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ فلسفیانہ شعبہ کے ماحول کے مطابق ڈھلنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ ماضی میں اکثر ہونے والے محض پیشہ ورانہ عملے سے کہیں آگے، ریاضی دان اب جامعی پروفیسروں کی ایک چھوٹی سی اشرافیہ کا حصہ بن گئے، اور بالکل انسانیات کے سیاق و سباق میں، جہاں "علوم سے زندگی گزارنے" (ڈبلیو وان ہمبولٹ) اور خالص علم کے تصورات مضبوط تھے۔ اس اقدام کے مضمرات کو شِلر نے ایک مختصر نظم میں خوبصورتی سے بیان کیا تھا، جو اس وقت معروف تھی، ارشمیدس اور شاگرد۔

ارشمیدس کے پاس علم کا مشتاق ایک نوجوان آیا؛

اس نے اس سے کہا، مجھے اس الہی عطا میں بہرہ مند کریں،

جس نے ایسے شاندار پھل وطن کو دیے،

اور شہر کی دیواروں کو حملہ آوروں سے بچایا۔

 دانشور نے آگے سے کہا تم عطا کو الہی کہتے ہو اور وہ ہے بھی،

لیکن اے میرے فرزند، وہ تو ریاست کی ملازمت کرنے سے پہلے بھی تھی۔

اگر تمہیں پھل چاہیے ہیں، تو ایک فانی بھی وہ پیدا کر سکتا ہے،

جو دیوی کا طلبگار ہو، اس کو لونڈی کو نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔⁹

یہ ثقافتی رجحان انیسویں صدی کے خالص ریاضی کے رجحان کی وضاحت کرنے میں مدد دیتا ہے، جو جرمنی میں خاص طور پر محسوس کیا گیا۔¹⁰

صدی کے آغاز تک، فلسفیانہ شعبے پر تاریخ، لسانیات اور فلسفہ کی بالادستی تھی، جو اس وقت جرمنی میں اپنے عروج پر تھے۔ طبیعی علوم کو مضبوط حمایت حاصل نہیں تھی، یہ صورت حال طبیعیات دانوں کے لیے خاصی تکلیف دہ تھی (دیکھیے [جنگنِکل اور ایم سی کوماچ ۱۹۸۶])۔ ریاضی کی صورت حال بہتر تھی، کیونکہ منطقی اور استدلالی صلاحیتوں کی تربیت سے اس کے مفروضہ تعلق کے پیش نظر، تعلیمی مقاصد کے لیے اسے مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ لیکن، اس کے باوجود، ریاضی کا نصاب بنیادی نوعیت کا تھا اور اس میں حسابان شاذ و نادر ہی شامل ہوتا تھا [ایضًا، ٦–۷]۔ یہ بتدریج ہوا کہ جامعی پروفیسروں نے اپنے معیارات بلند کیے، جزوی طور پر فرانسیسی نمونے کے جواب میں، جزوی طور پر ماہرین لسانیات کی تقلید میں، اور جزوی طور پر اصلاح شدہ جمینازیم سے نکلنے والے طلبہ کے بہتر ریاضیاتی معیار کے نتیجے میں۔ تحقیقی موضوعات کی تدریس کا آغاز ۱۸۲۰ کی دہائی کے آخر میں ہوا، خاص طور پر پرشین جامعات میں جیکوبی کے کوئنگزبرگ میں، اور کچھ بعد میں ڈِرِچلیٹ کے برلن میں پیش کردہ کورسز اور سیمینارز کے ذریعے۔

تقریباً ۱۸۳۰ کے بعد ایسے ادوار آئے جن میں سائنس دانوں اور اصحابِ نوانسانیت کے مفادات میں کشیدگی پائی جاتی تھی، اور اس کشمکش کو بیسویں صدی کے اوائل تک پیچھا کیا جا سکتا ہے (دیکھیے پائینسن ۱۹۸۳)۔ لیکن اس کے باوجود، فلسفیانہ شعبے اور نوانسانیت تصورِ نے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں "دو ثقافتیں" (سائنس اور انسانی علوم) ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئیں۔

پورے انیسویں صدی کے دوران ہمیں ایسے سائنس دان ملتے ہیں جو فلسفے میں دلچسپی رکھتے تھے، اور ایسے فلاسفہ بھی جو سائنس میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ درحقیقت، فلسفہ اور سائنس کے درمیان وحدت کے تصور کو بارہا پیش کیا گیامثال کے طور پر المثالی فلسفی شیلنگ نے، جنہوں نے قدرتی فلاسفی کی روایت کی بنیاد رکھی۔

اس تحریک کے جرمن سائنس پر اثرات کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن میں یہاں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا: ہمیں سادہ اور سطحی مفروضوں سے بچنا چاہیے۔ بہت سے مؤرخین نوانسانیت اور اس تحریک کو مجموعی طور پر "فلسفہ" کے ساتھ یکساں قرار دیتے ہیں۔ مگر جرمنی میں فلسفہ ہرگز مثالیّت کے مترادف نہیں تھا، اور بہت سے نئے انسانی علما رومانوی رجحانات جن میں مثالی فلسفہ بھی شامل ہے کے مخالف تھے۔

مثال کے طور پر، اوپر ذکر کیا گیا وولف فلسفیانہ معاملات میں کانٹ کے کہیں زیادہ قریب تھا، نہ کہ مثالی فلاسفہ کے (دیکھیے پاولسن ۱۸۹۶/۱۸۹۷, جلد ۲، ص ۲۱۲–۲۱۴)۔

اسی طرح، فلسفیوں میں، انیسویں صدی کے اوائل کے وہ کانٹ کے پیروکار جو سائنس کے قریب رہے اور شیلنگ اور ہیگل کے مثالی فلسفے کے مخالف تھے، اُن میں فریس اور ہربارٹ شامل تھے اور ریمان اِنہی کو اپنا فلسفیانہ استاد سمجھتے تھے۔¹¹

پس، تصوریّت کے علمبرداروں کی مخصوص باتوں پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے یہ زیادہ مفید ہوگا کہ اُن تصوّرات کا تجزیہ کیا جائے جو وہ اپنے ناقدین کے ساتھ بھی مشترک رکھتے تھے، کیونکہ انہی تصورات نے ۱۸۳۰ اور ۱۸۴۰ کی دہائیوں کے ضدِّ تصوریّت ردّعمل کے بعد جرمن سائنس کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔

میرا مؤقف یہ ہے کہ جرمن سائنس دانوں کے طرزِ فکر کی بہت سی خصوصیات اُن کے فلسفیانہ شعبہ کے ماحول سے ہم آہنگ ہونے اور اُن فلاسفہ کے ساتھ برقرار رہنے والے سیال علمی روابط سے قابلِ فہم بنتی ہیں۔

اس عمل میں جن خاص رجحانات کو فروغ ملا، ان میں شامل ہیں

  • خالص نظری سمت اختیار کرنے کی ترجیح،
  • ریاضی کی باریک اور تنگ تعریف شدہ شاخوں یا تخصصات پر مرتکز رہنا،
  • اور اکثر اوقات اپنے پیش کردہ نظریات کے فلسفیانہ مفروضات پر گہری نگاہ رکھنا۔¹²

اس تحقیق میں زیرِ مطالعہ بڑے مصنفین ان تمام اوصاف کی عمدہ مثالیں پیش کرتے ہیں، اور ان کی فلسفیانہ ترجیحات کا مختصر جائزہ آگے دیا جائے گا (بالخصوص ۱۱. ۱-۲ §§،٧.٥، ۸.۱-۲ اور ۸ میں)۔

سن ۱۸۲۰ء کے عشرے سے جرمنی میں ایک واضح سائنسی احیا شروع ہوگیا تھا [کلائن ۱۹۲۶, جلد. ۱, ۱۷]۔ بتدریج وہ عجیب و غریب اور انفرادی نوعیت کے طریقِ کار ترک کیے جانے لگے جو پہلے رائج تھے، اور غیر ملکی افکار پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دی جانے لگی۔ اسی عرصے میں ایک پیشہ ور علمی و سائنسی برادری وجود میں آنے لگی، جو اعلیٰ تعلیم میں نئے معیارات کے لیے سرگرم ہو گئی سن ۱۸۲۲ء میں مشہور ماہر قدرتی فلسفہ لورینز آکِن نے جرمن انجمنِ ماہرینِ فطرت و اطباء کی بنیاد رکھی۔ ۱۸۲۸ء کے برلن کے اجلاس سے یہ انجمن زیادہ تر اُن سائنس دانوں کے اثر میں آگئی جو قدرتی فلسفہ کے نظریات کے سخت مخالف تھے۔ اس تبدیلی کا تعلق الیگزینڈر فان ہمبولٹ کے اثرورسوخ سے تھا وہ نہ صرف مشہور سیّاح اور فطرت دان تھے بلکہ نوانسانیت رجحانات کے حامل بھی تھے۔ اپنی حیثیتِ منصبی (عدالتی مشیر) کے باعث انہوں نے پروشیا میں علوم و فنون کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

ریاضیات کے حوالے سے ایک اور نہایت اہم پیش رفت سن ۱۸۲۶ء میں "خالص و اطلاقی ریاضیات کا مجلہ" کا اجراء تھا، جسے انجینئر اور اعلیٰ سرکاری افسر اے. ایل. کریلے نے جاری کیا۔ وہ ہمیشہ سے ریاضیاتی تحقیق کے شدید شائق تھے۔ ہابیل، جکوبی، ڈرچِلِٹ، اور اسٹائنر جیسے ریاضی دانوں کے اصل تحقیقی مواد کی دستیابی کی بدولت کریلے کا یہ منصوبہ انتہائی کامیاب ہوا اور ابھرتی ہوئی ریاضیاتی برادری کے لیے ایک مؤثر مرکزی ربط کا کردار ادا کرنے لگا۔¹³

جرمنی میں یاکوبی، کُمّر اور دیگر کے علمی سفر اور ان کے نظریات اس بات کی مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں کہ نَو انسانیّت اور فلسفہ نے جرمن ریاضی دانوں پر کس قدر گہرا اثر ڈالا۔¹⁴ جرمن سائنسی بیداری اور ریاضی کے پہلے بڑے تحقیقی مدرسے کونگس برگ مکتبِ فکر کی تشکیل میں یاکوبی کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کلائن لکھتا ہے

“اگر ہم اس پورے ارتقاء کی روح کے بارے میں پوچھیں تو مختصر جواب یہ ہے: یہ ایک سائنسی مزاج کا حامل نَو انسانیّت تھا، جس کا مقصد خالص سائنس کی بےلوث، سخت اور اصولی کاشت تھا۔ اسی مقصد کی تلاش میں اس نے ایک بلند سطح کی خصوصی علمی ثقافت قائم کی ایسی شان و شوکت کے ساتھ جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی اور یہ سب اس کے تمام ذہنی و تخلیقی ذرائع کو یکجا کر کے ممکن ہوا۔”¹⁵ 

گراسمن، ریمان اور کانتور جیسے مثالیں اس بات کو مزید واضح کرتی ہیں کہ فلسفیوں اور ریاضی دانوں کے درمیان آزادانہ فکری تبادلہ کس طرح کبھی کبھی فکر کے نئے امکانات اور آزادی پیدا کرتا تھا۔ لیکن ظاہر ہے، ہر ادارہ جاتی ڈھانچے کے کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں اور کچھ نقصانات بھی۔ دِرِچلٹ کا علمی سفر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ نَو انسانیّت کے مقرر کردہ معیار بعض اوقات منفی اثرات بھی پیدا کرتے تھے۔ ان کی مثال اُس وقت کے جرمنی کے علمی و فکری ماحول کو کئی پہلوؤں سے واضح کرنے میں مدد دیتی ہے۔¹⁶ 

سن ۱۸۲۲ء میں گستاف لیژون دِرِچلٹ، جو ڈیورن کے ڈاک خانے کے سربراہ کے بیٹے تھے، نے ایک نہایت دانش مندانہ فیصلہ کیا کہ اپنے خاندانی تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کسی جرمن دارالعلوم کی بجائے پیرس میں ریاضی کی تعلیم حاصل کریں۔ وہاں انہوں نے فرانس کالج اور شعبۂ سائنس میں مفت خطابات میں شرکت کی، اور بعد میں فرانسیسی روایتِ تحلیل اور ریاضیاتی طبیعیات کو جرمنی منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دِرِچلٹ نے ۱۸۲۵ء میں پانچ درجے کی غیرمعین مساوات پر ایک مقالہ سائنس اکادمی کو بھیجا، جو "غیرملکی محققین کی یادداشتوں کے مجموعہ" میں شائع ہوا۔ اس سے وہ پیرس کے علمی حلقوں میں معروف ہوگئے۔ وہ فوریئر جو اس وقت اکادمی کے مستقل سیکرٹری تھے کے علمی حلقے میں شامل ہوئے اور جلد ہی ایلگزینڈر فان ہمبولٹ سے بھی رابطہ قائم کر لیا، جنہوں نے بعد میں ان کے کردار کو پروسیا میں آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ہمبولٹ کی سرپرستی کی بدولت دِرِچلٹ کو ۱۸۲۷ میں دارالعلوم بون سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی سند ملی؛ وہ شعبہ کی مخالفت کے باوجود بریسلاؤ میں پرائیوٹ ڈوزنٹ بن گئے؛ اور ۱۸۲۸ میں انہیں ایک غیر معمولی پروفیسر مقرر کر دیا گیا۔ ہمبولٹ نے دوبارہ ان کی مدد کی اور انہیں برلن بلوانے میں اہم کردار ادا کیا، جہاں وہ پولی ٹیکنیک سکول کی طرز پر ایک بڑا سائنسی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ دِرِچلٹ فوجی اکادمی میں ریاضی کے استاد بنے، پھر جلد ہی دارالعلوم میں پرائیوٹ ڈوزنٹ ہوئے، اور ۱۸۳۱ میں غیرمعمولی پروفیسر مقرر کردیے گئے۔ ان کا درخشاں علمی سفر آگے بڑھتا گیا عددی نظریہ پر مزید مقالات، اور ۱۸۲۹ میں فوریئر سلسلوں کی تقارب پر ایک شہرۂ آفاق مقالہ (باب پنجم ملاحظہ ہو)۔ سن ۱۸۳۲ میں، صرف ۲۷ برس کی عمر میں، وہ برلن اکادمی آف سائنسز کے رکن منتخب ہوئے، اور ۱۸۳۹ میں انہیں معمولی پروفیسر کے منصب پر ترقی دے دی گئی۔

لیکن ایسی تیز رفتار ترقی اُس دور کے تمام نافذ ضابطوں کے مطابق نہ تھی، اور دِرِچلٹ کو بعد میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چونکہ انہوں نے کسی جرمن دارالعلوم میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی، بلکہ یہاں تک کہ جِمنازیم کی تعلیم بھی مکمل نہیں کی تھی [سچوبرنگ ۱۹۸۴, ۵۶–۵۷]، اس لیے وہ نوانسانیت نصاب کے تقاضوں کے مطابق بعض ضروری معلومات سے محروم تھے۔ اگرچہ ایک فوری اعزازی سند (ہونوریس کاوزا) کے ذریعے زیادہ تر رسمی تقاضوں سے بچنا ممکن ہوگیا تھا، لیکن بریسلاؤ میں پرائیویٹ ڈوزینٹ کی اہلیت حاصل کرنے (ہابیلیٹیشن) کے موقع پر وہ ایک اہم رسمی شرط پوری نہ کر سکے۔ امیدواروں کے لیے ضروری تھا کہ وہ لاطینی میں ایک دوسرا مقالہ پیش کریں، اور شعبہ کے ارکان کے ساتھ ایک عوامی مباحثہ میں اسے لاطینی زبان میں دفاع کریں۔¹⁸
چونکہ دِرِچلٹ گفتگو کی حد تک لاطینی پر عبور نہیں رکھتے تھے، اس لیے انہیں مباحثے سے استثنا دے دیا گیا، لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۸۳۹ میں برلن کے شعبہ نے اس وقت تک انہیں پروفیسر کی مکمل حیثیت دینے سے انکار کر دیا، جب تک وہ اس رسمی تقاضے کو پورا نہ کر لیں۔ یہ تقاضا بالآخر ۱۸۵۱ میں پورا ہوا؛ اس عرصے میں برلن کے سب سے با اثر ریاضی دان کو پی ایچ ڈی اور ہابیلیٹیشن کی کاروائیوں میں بطور رائے دہندہ حصہ لینے کا حق حاصل نہ تھا۔¹⁹
دِرِچلٹ نے روایتی مفہوم میں کوئی باقاعدہ "مکتبۂ فکر" پیدا نہیں کیا، لیکن جن لوگوں نے ان کی شاگردی اختیار کی یا جو ان سے گہرا اثر لے کر آگے بڑھے، ان میں ہائنے، آئنسٹائن، کرونیکر، کرسٹوفل، لپشٹس، ریِمان اور ڈیڈکِنڈ جیسے اہم نام شامل ہیں۔ عددی نظریہ میں ان کی خدمات نہایت بنیادی نوعیت کی تھیں۔ انہوں نے گاؤس کے کام کو آگے بڑھایا اور اسے زیادہ قابلِ حصول اور قابلِ فہم بنایا۔ اسی طرح فوریئر تحلیل، کئی متغیرات والے تکملات، نظریۂ امکانِ تفاعل، اور ریاضیاتی طبیعیات میں بھی ان کا کردار غیر معمولی تھا۔

ان تمام میدانوں میں انہوں نے ریاضی کی سخت گیر منطقی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا۔ یاکوبی نے ہمبولٹ کو ایک مشہور خط میں لکھا کہ ’’پورے ریاضی میں مکمل طور پر سخت اور بےعیب ثبوت کس چیز کو کہتے ہیں، یہ بات صرف دِرِچلٹ جانتے ہیں؛ نہ گاؤس، نہ کوچی، نہ میں (یاکوبی)‘‘۔ اسی خط میں یاکوبی ان کے دوسرے خاص میدان یعنی تحلیلی عددی نظریہ کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’دِرِچلٹ نے جان بوجھ کر انہی موضوعات کو اپنا میدانِ تحقیق بنایا ہے جن میں سب سے زیادہ مشکلّات پائی جاتی ہیں۔‘‘²⁰
آئن اسٹائن کے مطابق، گاوس، یاکوبی اور دِرِچلٹ نے ریاضی میں استدلال کا ایک نیا اسلوب شروع کیا ایک ایسا اسلوب جو ’’طویل اور پیچیدہ حسابی سلسلہ وار استنتاجات‘‘ سے دُور جاتا ہے اور اس کے بجائے ایک ’’درخشاں طریقے‘‘ کو اختیار کرتا ہے۔ اس نئے طریقے میں ریاضیاتی حقائق کے ایک پورے خطّے کو ایک مرکزی خیال کے تحت سمیٹ لیا جاتا ہے، اور ایک ہی ضرب میں انتہائی دلکش انداز میں حتمی نتیجہ سامنے آ جاتا ہے؛ اس طرح کہ ’’پورے نظریہ کی حقیقی ماہیت، اس کے باطنی ڈھانچے، اس کے بنیادی نظام²¹ ایک نگاہ میں واضح ہو جاتے ہیں‘‘۔

اس طرزِ فکر کو اکثر تصوّری اندازِ ریاضیات کہا جاتا ہے، اور ہم اسے ۴ اور ۵ §§ میں زیرِ بحث لائیں گے۔ دِرِچلٹ کے کام کے وہ پہلو جو اس تحقیق کے لیے اہم ہیں، آنے والے ابواب میں بیان کیے جائیں گے۔

١. نکولس بورباکی [۱۹۵۰, § ۱]۔
٢. ہاکنز [١٩٨١, ٢٣٤]۔
٣. رائیمان [١٨٥٤, ٢٥٥] اپنی کئی گُنا بحث کو 'فلسفیانہ' سمجھتا تھا۔ بالکل اسی طرح کرونیکر [۱۸۸۷, ٢٥١] اپنی تحلیلِ عدد۔ کانتور [۱۸۸۳] نے ماورائی اعداد کے متعارف کروانے کو جواز بخشنے کے لیے فلسفیانہ میدان میں قدم رکھا، جبکہ ڈیڈیکِنڈ [۱۸۸۸, ۳۳۶] نے یہ واضح کرنا ضروری محسوس کیا کہ عدد کی اس کی 'منطقی' تحلیل کسی خاص "فلسفیانہ یا ریاضیاتی" علم کو پیش فرض نہیں رکھتی۔
٤. جیسا کہ معروف ہے، جرمن لفظ وائزینسچافٹ کا مفہوم اس کے انگریزی متبادل 'سائنس' سے مختلف ہے: یہ کسی بھی علمی نظم (اکادمی اصول) کا حوالہ دیتا ہے، بشمول تاریخ، فلسفہ وغیرہ۔ جب میں سائنس کے بارے میں لکھتا ہوں، تو میری مراد نیچروائزیسچافٹن ہوتی ہے یعنی طبیعیات، کیمیا، حیاتیات وغیرہ۔ یہ غور کرنا اہم ہے کہ انیسویں صدی کے اوائل کے جرمنی میں ریاضی کو کبھی کبھار انسانیات کے قریب تر سمجھا جاتا تھا۔
٥. پرشین جامعی اصلاحات فرانسیسی قبضے کے دوران عمل میں آئیں، اور فرانسیسی ثقافتی رجحانات کے واضح متبادل قائم کرنے کی ایک دانستہ کوشش کی گئی: جامعہ جرمن کلچر کی نمائندہ ہوگی نہ کہ فرانسیسی تہذیب کی، اور خاص طور پر بِلڈُنگ کا تصور زیادہ افادیت پسندانہ آوس بلڈنُگ [تربیت یا ہدایت] کے متقابل ہے۔ دیکھیے [رِنگر ١٩٦٩]۔
٦. [پاولسن ۱۸۹۶/۹۷, جلد. ۲, ۲۰۹] میں منقول: "ایک نامیاتی پورے میں متحد ہونا اور ایک اچھی طرح سے ترتیب دی گئی فلسفیانہ تاریخِ سائنس کے وقار کو بلند کرنا".
٧. [جنگنیکل اور ایم سی کوماچ ۱۹۸۶, ۴] میں ترجمہ شده۔ 
٨. ریاضیاتی نتائج پر ایسی اداراتی تبدیلیوں کے اثرات کا شوبرنگ [١٩٨٣] نے احتیاط سے مطالعہ کیا ہے۔ 
٩. شِلر، میں منقول: جیکوبی نے اس نظم کی ایک مزاحیہ پیروڈی لکھی، جو [کرونیکر ۱۸۸۷, ۲۵۲] میں منقول ہے۔ 'سیمبیوکا' ایک جنگی آلہ تھا جسے رومیوں نے سیراکیوز، ارشمیدس کے وطن، کے خلاف استعمال کیا تھا۔ دیکھیں "ارشمیدس اور شاگرد، ارشمیدس کے پاس ایک علم کے پیاسے نوجوان نے آ کر کہا"مجھے اس دیوتاؤں کے ہنر میں ماہر کر دے، جس نے وطن کو ایسے شاندار پھل عطا کیے، اور شہر کی فصیلیں رومی مورچوں سے بچائیں۔" "تو ہنر کو دیوتاؤں کا کہتا ہے!" دانشمند نے جواب دیا، "بیٹا،وہ ہے، مگر ریاست کی خدمت سے پہلے بھی تھی۔ اگر صرف پھل ہی مقصود ہیں،تو ایک فانی بھی دے سکتا ہے، جو دیوی کا عاشق ہو،اس میں لونڈی مت ڈھونڈ۔" 
١٠. [سچارلو ۱۹۸۱] کا موازنہ کریں۔ مجھے اس بات کی وضاحت کرنے کی شاید ہی ضرورت ہے کہ میں کوئی اختراعی وضاحت پیش نہیں کر رہا: سیاقی عنصر شاید کئی دوسروں میں سے صرف ایک ہوگا۔
١١. ہیگل، فریس، ہربارٹ اور ریاضی کے بارے میں، دیکھیے [کوئنگ ۱۹۹۰]۔
١٢. اس کے منفی اثرات اس حد تک تھے کہ اس کا مطلب اطلاقی موضوعات اور شاخوں کے درمیان باہمی روابط پر توجہ کی کمی تھی، وغیرہ۔ دیکھیے [روو ۱۹۸۹]، جہاں ۱۹۰۰ کے لگ بھگ نو انسانیات کے بعض مضمرات کے خلاف جدوجہد پر بحث کی گئی ہے؛ خاص طور پر [۱۸۶-۸۷, ۱۹۰] ملاحظہ کریں۔
١٣. جیسا کہ ڈیوڈ روو نے مجھے زور دیا ہے، یہ بتانا چاہیے کہ پروفیسروں کی قلت، ان کا مختلف جامعات (جہاں صنفی ذہنیت کے باقیات تھیں) اور ریاستوں سے وابستگی، وغیرہ کی وجہ سے ریاضیاتی برادری کا ابھرنا آسان نہیں تھا۔ ڈوئچے ماتھیماٹیکر ویرینگونگ کو ۱۸۹۰ میں بھی قائم کرنا آسان نہیں تھا۔
١٤. دیکھیے [یانکے ۱۹۹۱]، اور کمر کے بارے میں [بیکےمائیر  ۱۹۸۷, ۱۹۶-۲۰۳]۔
١٥۔ [کلائن ۱۹۲۶, جلد اول, ۱۱۴]: "اگر ہم اس روح کے بارے میں پوچھیں جو اس پورے ارتقا کی حامل ہے،تو ہم مختصرًا کہہ سکتے ہیں: یہ سائنسی رخ پر مبنی نو انسانیَت ہے، جو خالص علوم کی بے لچک سخت نگہداشت کو اپنا ہدف قرار دیتی ہے اور اس ہدف کے لیے تمام قوتوں کے یک طرفہ استعمال کے ذریعے ایک ایسی خصوصیت اعلیٰ ثقافت کو جنم دیتی ہے جس کی مثال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔"
١٦. ڈِرِچلیٹ کی مکمل سوانح عمری اب تک نہیں لکھی گئی ہے، سب سے بہتر اب بھی کمر کا تعزیتی مضمون ہے ( [ڈِرِچلیٹ ١٨٩٧, ٣١١-٤٤] میں)۔ اہم آرکائیو مواد [بائمان ١٩٥٩] میں پایا جا سکتا ہے۔
١٧. لیجینڈر، جس نے مقالے کے جائزہ نگار کے طور پر کام کیا، ڈِرِکلیٹ کے نتائج کو ڈیڑھ کے واسطے فرمٹ کے آخری مسئلے کی ایک ثبوت کے لیے استعمال کرنے کے قابل تھا۔
١٨. سرمایہ کاری کی خصوصیات جگہ جگہ مختلف تھیں، لیکن بریسلاو اور برلن میں ملتی جلتی تھیں۔
١٩. اس مسئلے پر، دیکھیے [بائمان ۱۹۵۹, ۲۱-۲۹]۔
۔٢٠. ۱۸۴۶ کا خط، [پائپر ۱۸۹۷, ۹۹] میں: "وہ تنہا، نہ میں، نہ کوچی، نہ گاؤس جانتا ہے کہ مکمل سخت ریاضیاتی ثبوت کیا ہوتا ہے، بلکہ ہم اسے اس سے ہی جانتے ہیں۔… [ڈِرِچلیٹ] نے ایسے موضوعات کے ساتھ بنیادی طور پر مشغول ہونا پسند کیا جو سب سے بڑی دشواریاں پیش کرتے ہیں؛ اسی لیے اس کے کام علوم کی شاہراہ پر نہیں ہیں اور اس لیے، اگرچہ بڑی پزیرائی حاصل ہے، پھر بھی وہ سب کو نہیں ملے جو وہ مستحق ہیں۔"
حـ ۲۱. [ووسِنگ ١٩٦٩, ٢٧٠] میں ترجمہ شدہ، جہاں آئن سٹائن کی آپ بیتی کا یہ اقتباس، جو اس وقت لکھا گیا جب وہ ۲۰ سال کا تھا، مکمل طور پر منقول ہے۔

فقط
سیالکوٹ

Comments

Popular posts from this blog

٢.٢. الہام اور منطقیت

تعارف

٣. مسئلۂ لامُتناہی