اوّل: جرمن ریاضیات کا ادارہ جاتی اور علمی پس منظر
![]() |
| گوٹفرائیڈ وِلہلم لائبنِز ١٦٤٦ء تا ۱۷۱٦ء |
ریاضیات کی کلیت کو یکساں وحدت میں برتنے کی مختلف کوششوں خواہ ہم افلاطون، ڈیکارٹ یا لائبنِز کے بارے میں سوچیں، یا پھر عدد سازی یا انیسویں صدی کی منطقیت کا تصور کریں میں یہ مشترکہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ سب کچھ یا کم و بیش وسیع الدائرہ فلسفیانہ نظام کے ساتھ وابستہ رہے ہیں؛ اور ہمیشہ ریاضیات کے خارجی دنیا اور خیال کی دوہری کائنات کے ساتھ تعلق کے حوالے سے قبل تجربی نظریات سے نقطہ آغاز حاصل کیا ہے۔¹
ریاضیاتی علم کی نشوونما کو سمجھنے کے لیے کبھی کبھار ریاضیاتی سوچ کے مکاتب فکر کے کردار کی شناخت اور اس پر غور کرنا اہم ہو جاتا ہے۔ ایسا مکتب فکر عمومًا ایک بنیادی فلسفہ رکھتا ہے جس سے میری مراد ریاضی کے حوالے سے رویوں کا ایک مجموعہ ہے۔ کسی مکتب فکر کے ارکان اس بات پر مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ کس قسم کی ریاضی کے تعاقب کے قابل ہے یا زیادہ عمومی طور پر، اس انداز پر جس میں یا اس روح کے ساتھ جس میں ریاضیاتی مسائل کی تحقیق کی جانی چاہیے۔²
جیسا کہ موجودہ کام کے متن میں واضح ہوگا، انیسویں صدی کی جرمن ریاضی میں ایک مخصوص رجحان، یعنی موسوم بہ تصوری اسلوب، نظریہ طاقم کے عروج سے گہرا تعلق رکھتا نظر آتا ہے۔ لہٰذا، مناسب یہی ہے کہ دو مختلف 'ریاضیاتی اسالیب' جو ۱۸۵۵ کے فورًا بعد گوئٹنگن اور برلن میں حاوی تھے کے تجزیے سے آغاز کیا جائے۔ یہی §§4 اور 5 کا موضوع ہو گا۔ اداروں کے اس مخصوص انتخاب کی وجہ سادہ ہے: کتاب کے پہلے دو حصوں کی مرکزی شخصیات رائیمان، ڈیڈیکِنڈ اور کانتور ہیں۔ رائیمان اور ڈیڈیکِنڈ نے گوئٹنگن میں تعلیم پائی اور وہیں انہوں نے اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز کیا، جبکہ کانتور نے اپنی ریاضیاتی تربیت برلن سے حاصل کی۔ یہ بات سامنے آئے گی کہ تصوری اسلوب دونوں جامعات میں موجود تھا، لیکن مختلف اقسام کی صورت میں، جنہیں ہم ایک مجرد اور ایک صوری قسم کے طور پر پہچانیں گے۔ گوئٹنگن میں پایا جانے والا مجرد تصوری اسلوب نے خود نظریاتی رجحان کو مضبوطی سے فروغ دیا۔
تصوری نقطہ نظر کو بہتر سمجھنے کے لیے، صدی کے پہلے نصف میں جرمنی میں اثر انداز ہونے والے ریاضی کی بنیادوں کے ایک عدد رجحانات کا، مختصر ہی سہی، جائزہ لینا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، نظریۂ طاقم کے عروج کا ایک اہم حصہ نئی زبان کا ابھرنا تھا جس نے ریاضیاتی اشیاء کے بارے میں ایک نوآموز تفہیم کا اظہار کیا یعنی طاقمی زبان اور یہ خیال کہ طاقم ریاضی کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ اس نے کچھ ایسے سوالات کو جنم دیا جن پر یونانیوں کے ہاں پہلے ہی بحث ہو چکی تھی: ریاضیاتی اشیاء کس قسم کا وجود رکھتی ہیں، اور فعلی لامتناہی کا معروف مسئلہ۔ یہ فلسفیانہ سوالات تھے، جنہیں جرمن ریاضی دانوں نے اسی طور پر سمجھا۔³ درحقیقت، یہ سوالات محض ریاضی کی خصوصی ملکیت نہیں ہیں، اور اس بات کے کچھ شواہد موجود ہیں کہ جرمنی میں وسیع تر فکری و فلسفیانہ فضا نے ریاضیاتی بحث پر کچھ اثر ڈالا۔ §§ 1 سے 3 میں ان موضوعات پر ہماری بحث کا مقصد مکمل ہرگز نہیں ہے، بلکہ صرف اس آخری مقالہ کی وضاحت اور معقولیت ثابت کرنا ہے۔ ہم مشاہدہ کریں گے کہ ایسے معاملات، اور خاص طور پر لامتناہی کے سوال کے حوالے سے، کچھ غلط فہمیاں پائی گئی ہیں، کیونکہ ۱۸۰۰ یا ۱۸۵۰ تک تمام جرمن ریاضی دانوں نے فعلی لامتناہی کو مسترد نہیں کیا تھا۔
١. اصلاح شدہ جرمن جامعات میں ریاضی
انیسویں صدی کے بین الاقوامی منظر نامے کے تناظر میں، جرمن سائنسی برادری کچھ خاص انفرادیت رکھتی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص فکری فضا نے علوم، بشمول ریاضی، کے جرمن اسالیب کو نشان زد یا مشروط کیا تھا۔⁴ اسے ریاضیاتی تحقیق کے اداراتی سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جو نپولینی یلغار کے بعد کی گئی تعلیمی اصلاحات سے ابھرا تھا۔ جیسا کہ ہم اس کتاب میں تجزیہ کریں گے، زیر بحث تحقیق واضح طور پر جامعاتی سیاق و سباق میں وقوع پذیر ہوئی، لیکن انیسویں صدی کی جرمن جامعات ۱۸۱۰ کے لگ بھگ شروع ہونے والے ایک پیچیدہ اور انقلابی تبدیلی کا نتیجہ تھیں (دیکھیے [ایم سی کلیلینڈ ۱۹۸۰])۔
نپولینی یلغار کے افسوس ناک تجربے نے فرانس کے مقابلے میں جرمنی کی سیاسی، معاشی، عسکری اور سائنسی صورتحال کو بلند کرنے کے لیے اہم تبدیلیوں کی ضرورت کو واضح کر دیا۔ کسی حد تک، جرمنوں نے اپنی شکست کی وجہ فرانسیسی افسروں کے اعلیٰ سائنسی تعلیمی معیار کو قرار دیا۔ یہ اعلیٰ معیار انقلابِ فرانس کے بعد کی گئی تعلیمی اصلاحات کا نتیجہ تھا، خاص طور پر ۱۷۹۴ میں پیرس کی ایکول پولی ٹیکنیک کے قیام کا۔ یہاں، اعلیٰ سائنسی تعلیم، بشمول حسابان، پہلی بار طلبہ کو باقاعدگی سے دستیاب ہوئی۔ جرمن ریاستوں نے متوازی اصلاحات کا آغاز کیا، لیکن ان میں سے بعض، خاص طور پر پرشیا میں، نے محض فرانسیسی نمونہ کی سادہ تقلید نہیں کی۔ بلکہ، انہوں نے اپنا مخصوص نمونہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔⁵ جہاں فرانس میں جامعات کو ایک فرسودہ قرون وسطیٰ کی ادارہ کے طور پر ختم کر دیا گیا تھا، وہیں جرمنی میں ایک اصلاح شدہ جامعہ کے لیے پہلے سے ہی کچھ نمونے موجود تھے، جو روشن خیالی کے ثقافتی معیارات کے مطابق ڈھل چکے تھے، جیسا کہ ہنوور میں واقع گوئٹنگن یونیورسٹی کا معاملہ تھا [ایم سی کلیلینڈ ۱۹۸۰]۔
نپولینی جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اصلاحی تحریک، جرمن روشن خیالی کی تعلیمی آرزؤں کے ساتھ قدرتی طور پر ہم آہنگ ہو گئی۔ اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف میں، اس نے موسوم بہ نو انسانیَت کو جنم دیا، جو ایک ایسی تحریک تھی جس نے عقلیت پسندانہ نقطہ ہائے نظر کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فرد کی مکمل تعمیر، یعنی افادیت پسندانہ اہداف سے ہدایت نہ پانے والے ایک وسیع، ہم آہنگ تعلیم و تربیت کے تصور کی خواہش کی۔ ایسے مثالیات کو مورخین اور ماہرینِ لسانیات جیسے ہالے میں واقع پرشین یونیورسٹی کے ایف اے وولف نے زبردست فروغ دیا، جنہیں نئی 'سائنسی' لسانیات اور جامعی سیمینار کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ وولف نے تاریخ اور لسانیات، جسے وہ "علوم قدیمہ" کہتے تھے، کو ایک حقیقی "نظام" میں بدلنے، اسے "ایک نامیاتی کل میں متحد کرنے اور ایک بہتر ترتیب.... سائنس کے مرتبے تک بلند کرنے" کے لیے اپنی کوششیں وقف کیں۔⁶ یہ محض پیشہ ورانہ یا علمی وجوہات کی بنا پر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ ایک خاص تعلیمی مثالیہ کو مجسم کرتا تھا۔ جیسا کہ گوئٹے نے ۱۸۲۷ میں ایکر مین سے کہا تھا،
"ایک عظیم انسان جس کی روح میں خدا نے کردار کی عظمت اور عقل کی صلاحیت رکھی ہے، وہ یونانی اور رومی قدیمیت کے بلند کرداروں کے تعارف اور ان کے قریبی تعلق کے ذریعے شاندار طور پر پروان چڑھے گا۔"⁷
نو انسانیَت کے پیروکار پروفیسروں نے جامعی استاد کے روایتی کردار یعنی مستحکم علم کی منتقلی سے آگے بڑھ کر تنقید و تحقیق کے ذریعے اس کی توسیع کا فریضہ انجام دیا۔ سیمینار کے ادارے کے ذریعے، منتخب طلبہ کے گروہوں کو خود تحقیق کرنے کا طریقہ سکھایا گیا، اور تحقیق تدریس کا ایک لازمی جزو بن گئی۔ اس تحریک کا ایک اور اہم پہلو اٹھارویں صدی کے آخر میں علوم (فلسفہ، تاریخ، لسانیات، ریاضی وغیرہ) کی ان شعبوں قانون، طب اور الہیات (روایتی 'اعلیٰ' جامعی شعبوں) کے ساتھ برابری یا فوقیت کے اعتراف کی جدوجہد کے ساتھ اس کا اتحاد تھا۔
اعلیٰ تعلیم کی جرمن اصلاحات عام طور سے ۱۸۱۰ میں برلن یونیورسٹی کی بنیاد سے جوڑی جاتی ہیں۔ فلسفیانہ شعبہ، جس میں علوم شامل تھے، کو جمینازیم (ثانوی اسکول) کے پروفیسروں کی تیاری کا کام سونپا گیا؛ پرشین ریاست نے ان سے ایک امتحان پاس کرنے کا تقاضا کیا جس میں ان کے لسانیات، تاریخ اور ریاضی کے علم کا امتحان لیا جاتا۔ اس طرح، فلسفیانہ شعبہ کو پیشہ ورانہ شعبوں کے برابر درجہ دیا گیا، جہاں ریاضی کو ایک مضبوط اداراتی اساسی ڈھانچہ میسر آیا۔⁸ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ فلسفیانہ شعبہ کے ماحول کے مطابق ڈھلنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ ماضی میں اکثر ہونے والے محض پیشہ ورانہ عملے سے کہیں آگے، ریاضی دان اب جامعی پروفیسروں کی ایک چھوٹی سی اشرافیہ کا حصہ بن گئے، اور بالکل انسانیات کے سیاق و سباق میں، جہاں "علوم سے زندگی گزارنے" (ڈبلیو وان ہمبولٹ) اور خالص علم کے تصورات مضبوط تھے۔ اس اقدام کے مضمرات کو شِلر نے ایک مختصر نظم میں خوبصورتی سے بیان کیا تھا، جو اس وقت معروف تھی، ارشمیدس اور شاگرد۔
ارشمیدس کے پاس علم کا مشتاق ایک نوجوان آیا؛
اس نے اس سے کہا، مجھے اس الہی عطا میں بہرہ مند کریں،
جس نے ایسے شاندار پھل وطن کو دیے،
اور شہر کی دیواروں کو حملہ آوروں سے بچایا۔
دانشور نے آگے سے کہا تم عطا کو الہی کہتے ہو اور وہ ہے بھی،
لیکن اے میرے فرزند، وہ تو ریاست کی ملازمت کرنے سے پہلے بھی تھی۔
اگر تمہیں پھل چاہیے ہیں، تو ایک فانی بھی وہ پیدا کر سکتا ہے،
جو دیوی کا طلبگار ہو، اس کو لونڈی کو نہیں ڈھونڈنا چاہیے۔⁹
یہ ثقافتی رجحان انیسویں صدی کے خالص ریاضی کے رجحان کی وضاحت کرنے میں مدد دیتا ہے، جو جرمنی میں خاص طور پر محسوس کیا گیا۔¹⁰
صدی کے آغاز تک، فلسفیانہ شعبے پر تاریخ، لسانیات اور فلسفہ کی بالادستی تھی، جو اس وقت جرمنی میں اپنے عروج پر تھے۔ طبیعی علوم کو مضبوط حمایت حاصل نہیں تھی، یہ صورت حال طبیعیات دانوں کے لیے خاصی تکلیف دہ تھی (دیکھیے [جنگنِکل اور ایم سی کوماچ ۱۹۸۶])۔ ریاضی کی صورت حال بہتر تھی، کیونکہ منطقی اور استدلالی صلاحیتوں کی تربیت سے اس کے مفروضہ تعلق کے پیش نظر، تعلیمی مقاصد کے لیے اسے مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ لیکن، اس کے باوجود، ریاضی کا نصاب بنیادی نوعیت کا تھا اور اس میں حسابان شاذ و نادر ہی شامل ہوتا تھا [ایضًا، ٦–۷]۔ یہ بتدریج ہوا کہ جامعی پروفیسروں نے اپنے معیارات بلند کیے، جزوی طور پر فرانسیسی نمونے کے جواب میں، جزوی طور پر ماہرین لسانیات کی تقلید میں، اور جزوی طور پر اصلاح شدہ جمینازیم سے نکلنے والے طلبہ کے بہتر ریاضیاتی معیار کے نتیجے میں۔ تحقیقی موضوعات کی تدریس کا آغاز ۱۸۲۰ کی دہائی کے آخر میں ہوا، خاص طور پر پرشین جامعات میں جیکوبی کے کوئنگزبرگ میں، اور کچھ بعد میں ڈِرِچلیٹ کے برلن میں پیش کردہ کورسز اور سیمینارز کے ذریعے۔
تقریباً ۱۸۳۰ کے بعد ایسے ادوار آئے جن میں سائنس دانوں اور اصحابِ نوانسانیت کے مفادات میں کشیدگی پائی جاتی تھی، اور اس کشمکش کو بیسویں صدی کے اوائل تک پیچھا کیا جا سکتا ہے (دیکھیے پائینسن ۱۹۸۳)۔ لیکن اس کے باوجود، فلسفیانہ شعبے اور نوانسانیت تصورِ نے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں "دو ثقافتیں" (سائنس اور انسانی علوم) ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئیں۔
پورے انیسویں صدی کے دوران ہمیں ایسے سائنس دان ملتے ہیں جو فلسفے میں دلچسپی رکھتے تھے، اور ایسے فلاسفہ بھی جو سائنس میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔ درحقیقت، فلسفہ اور سائنس کے درمیان وحدت کے تصور کو بارہا پیش کیا گیامثال کے طور پر المثالی فلسفی شیلنگ نے، جنہوں نے قدرتی فلاسفی کی روایت کی بنیاد رکھی۔
اس تحریک کے جرمن سائنس پر اثرات کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن میں یہاں ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا: ہمیں سادہ اور سطحی مفروضوں سے بچنا چاہیے۔ بہت سے مؤرخین نوانسانیت اور اس تحریک کو مجموعی طور پر "فلسفہ" کے ساتھ یکساں قرار دیتے ہیں۔ مگر جرمنی میں فلسفہ ہرگز مثالیّت کے مترادف نہیں تھا، اور بہت سے نئے انسانی علما رومانوی رجحانات جن میں مثالی فلسفہ بھی شامل ہے کے مخالف تھے۔
مثال کے طور پر، اوپر ذکر کیا گیا وولف فلسفیانہ معاملات میں کانٹ کے کہیں زیادہ قریب تھا، نہ کہ مثالی فلاسفہ کے (دیکھیے پاولسن ۱۸۹۶/۱۸۹۷, جلد ۲، ص ۲۱۲–۲۱۴)۔
اسی طرح، فلسفیوں میں، انیسویں صدی کے اوائل کے وہ کانٹ کے پیروکار جو سائنس کے قریب رہے اور شیلنگ اور ہیگل کے مثالی فلسفے کے مخالف تھے، اُن میں فریس اور ہربارٹ شامل تھے اور ریمان اِنہی کو اپنا فلسفیانہ استاد سمجھتے تھے۔¹¹
پس، تصوریّت کے علمبرداروں کی مخصوص باتوں پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے یہ زیادہ مفید ہوگا کہ اُن تصوّرات کا تجزیہ کیا جائے جو وہ اپنے ناقدین کے ساتھ بھی مشترک رکھتے تھے، کیونکہ انہی تصورات نے ۱۸۳۰ اور ۱۸۴۰ کی دہائیوں کے ضدِّ تصوریّت ردّعمل کے بعد جرمن سائنس کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔
میرا مؤقف یہ ہے کہ جرمن سائنس دانوں کے طرزِ فکر کی بہت سی خصوصیات اُن کے فلسفیانہ شعبہ کے ماحول سے ہم آہنگ ہونے اور اُن فلاسفہ کے ساتھ برقرار رہنے والے سیال علمی روابط سے قابلِ فہم بنتی ہیں۔
اس عمل میں جن خاص رجحانات کو فروغ ملا، ان میں شامل ہیں
- خالص نظری سمت اختیار کرنے کی ترجیح،
- ریاضی کی باریک اور تنگ تعریف شدہ شاخوں یا تخصصات پر مرتکز رہنا،
- اور اکثر اوقات اپنے پیش کردہ نظریات کے فلسفیانہ مفروضات پر گہری نگاہ رکھنا۔¹²
اس تحقیق میں زیرِ مطالعہ بڑے مصنفین ان تمام اوصاف کی عمدہ مثالیں پیش کرتے ہیں، اور ان کی فلسفیانہ ترجیحات کا مختصر جائزہ آگے دیا جائے گا (بالخصوص ۱۱. ۱-۲ §§،٧.٥، ۸.۱-۲ اور ۸ میں)۔
سن ۱۸۲۰ء کے عشرے سے جرمنی میں ایک واضح سائنسی احیا شروع ہوگیا تھا [کلائن ۱۹۲۶, جلد. ۱, ۱۷]۔ بتدریج وہ عجیب و غریب اور انفرادی نوعیت کے طریقِ کار ترک کیے جانے لگے جو پہلے رائج تھے، اور غیر ملکی افکار پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دی جانے لگی۔ اسی عرصے میں ایک پیشہ ور علمی و سائنسی برادری وجود میں آنے لگی، جو اعلیٰ تعلیم میں نئے معیارات کے لیے سرگرم ہو گئی سن ۱۸۲۲ء میں مشہور ماہر قدرتی فلسفہ لورینز آکِن نے جرمن انجمنِ ماہرینِ فطرت و اطباء کی بنیاد رکھی۔ ۱۸۲۸ء کے برلن کے اجلاس سے یہ انجمن زیادہ تر اُن سائنس دانوں کے اثر میں آگئی جو قدرتی فلسفہ کے نظریات کے سخت مخالف تھے۔ اس تبدیلی کا تعلق الیگزینڈر فان ہمبولٹ کے اثرورسوخ سے تھا وہ نہ صرف مشہور سیّاح اور فطرت دان تھے بلکہ نوانسانیت رجحانات کے حامل بھی تھے۔ اپنی حیثیتِ منصبی (عدالتی مشیر) کے باعث انہوں نے پروشیا میں علوم و فنون کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
ریاضیات کے حوالے سے ایک اور نہایت اہم پیش رفت سن ۱۸۲۶ء میں "خالص و اطلاقی ریاضیات کا مجلہ" کا اجراء تھا، جسے انجینئر اور اعلیٰ سرکاری افسر اے. ایل. کریلے نے جاری کیا۔ وہ ہمیشہ سے ریاضیاتی تحقیق کے شدید شائق تھے۔ ہابیل، جکوبی، ڈرچِلِٹ، اور اسٹائنر جیسے ریاضی دانوں کے اصل تحقیقی مواد کی دستیابی کی بدولت کریلے کا یہ منصوبہ انتہائی کامیاب ہوا اور ابھرتی ہوئی ریاضیاتی برادری کے لیے ایک مؤثر مرکزی ربط کا کردار ادا کرنے لگا۔¹³
جرمنی میں یاکوبی، کُمّر اور دیگر کے علمی سفر اور ان کے نظریات اس بات کی مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں کہ نَو انسانیّت اور فلسفہ نے جرمن ریاضی دانوں پر کس قدر گہرا اثر ڈالا۔¹⁴ جرمن سائنسی بیداری اور ریاضی کے پہلے بڑے تحقیقی مدرسے کونگس برگ مکتبِ فکر کی تشکیل میں یاکوبی کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کلائن لکھتا ہے
“اگر ہم اس پورے ارتقاء کی روح کے بارے میں پوچھیں تو مختصر جواب یہ ہے: یہ ایک سائنسی مزاج کا حامل نَو انسانیّت تھا، جس کا مقصد خالص سائنس کی بےلوث، سخت اور اصولی کاشت تھا۔ اسی مقصد کی تلاش میں اس نے ایک بلند سطح کی خصوصی علمی ثقافت قائم کی ایسی شان و شوکت کے ساتھ جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی اور یہ سب اس کے تمام ذہنی و تخلیقی ذرائع کو یکجا کر کے ممکن ہوا۔”¹⁵
گراسمن، ریمان اور کانتور جیسے مثالیں اس بات کو مزید واضح کرتی ہیں کہ فلسفیوں اور ریاضی دانوں کے درمیان آزادانہ فکری تبادلہ کس طرح کبھی کبھی فکر کے نئے امکانات اور آزادی پیدا کرتا تھا۔ لیکن ظاہر ہے، ہر ادارہ جاتی ڈھانچے کے کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں اور کچھ نقصانات بھی۔ دِرِچلٹ کا علمی سفر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ نَو انسانیّت کے مقرر کردہ معیار بعض اوقات منفی اثرات بھی پیدا کرتے تھے۔ ان کی مثال اُس وقت کے جرمنی کے علمی و فکری ماحول کو کئی پہلوؤں سے واضح کرنے میں مدد دیتی ہے۔¹⁶

Comments
Post a Comment