١۔ مقاصد اور دائرۂ کار

نظریۂ طاقِم کی روایتی تاریخ نگاری نے جدید ریاضیات کی ترقی سے متعلق کئی غلط فہمیاں مزید مضبوط کر دی ہیں۔ کانتور کے کام پر حد سے زیادہ توجہ دینے کے نتیجے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ نظریۂ طاقِم کا آغاز تجزیے کی ضروریات سے ہوا یہی مفروضہ [گراٹن-گؤینس ۱۹۸۹] کے عنوان میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔اس نقطۂ آغاز سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بیسویں صدی کے اوائل میں جب نظریۂ طاقِم کا طریقِ کار الجبرا، ہندسہ، اور ریاضیات کی دیگر تمام شاخوں میں کامیابی سے لاگو ہوا، تو یہ دراصل بعد کی پیش رفت تھی۔ یوں یہ نئے رجحانات کانتور کی فکری تخلیق کی غیر متوقع کامیابیاں دکھائی دیتی ہیں، جن کی سب سے واضح صورت بورباکی  میں دیکھی جا سکتی ہے [میسچکوسکی ۱۹۶۷, ۲۳۲–۳۳]۔ 

اس کے برعکس، موجودہ تحقیق یہ ظاہر کرے گی کہ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں طواقِم کی علامت نگاری، الجبرا کے نئے تصورات، حساب کی بنیادوں، اور حتیٰ کہ ہِندسہ کے ابھرتے ہوئے نظریات کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر رہی تھی۔ مزید یہ کہ یہ تمام پیش رفتیں کانتور کے ابتدائی نظریۂ طاقِم سے متعلق تحقیقات سے پہلے کی ہیں، اور غالب امکان ہے کہ ان میں سے کچھ نے اس کے کام کو تحریک دی ہو۔ یوں ریاضیات کی مختلف شاخوں میں نظریۂ طاقِم کا تصور خود نظریۂ طاقِم کے آغاز ہی میں مضمر تھا۔ اسی عمل کی وضاحت موجودہ تحقیق کے حصۂ اوّل کا مقصد ہے۔ یہ ہمیں اس نکتے پر غور کرنے کی طرف لے جائے گا کہ آیا مختلف علمی میدانوں کے درمیان خیالات کا باہمی تبادلہ ہوا، جو بعض اوقات علمی سرحدوں سے بھی تجاوز کرتا تھا۔

رِچرڈ ڈیڈیکِنڈ ۱۸۳۱ء تا ۱۹۱۶ء

حصّۂ دوم میں انیسویں صدی کے آخری رُبع میں مجرد نظریۂ طاقِم میں ہونے والی بنیادی شراکتوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد بالخصوص کانتور کی وہ جستجو ہے جو اُس نے لامتناہیت اور تسلسل کے عالم میں کی اور جو دسمبر ۱۸۷۳ء میں حقیقی اعداد کی غیر شمار پذیری کی انقلابی دریافت سے شروع ہوئی۔ اسی طرح اس سے مراد ڈیڈیکِنڈ کا وہ کام بھی ہے جو اُس نے طواقِم اور تصویری تعلقات کو خالص ریاضیاتی بنیاد کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ۱۸۷۲ء سے آگے بڑھایا اور اس کے ایک فطری نتیجے کے طور پر، ان دونوں مفکرین کے درمیان ہونے والا باہمی فکری تعامل جو ذاتی تعلقات اور وقفے وقفے سے مگر نہایت دلچسپ خط و کتابت کی صورت میں ظاہر ہوا بھی زیرِ بحث آئے گا۔ خاص توجہ اس بات پر دی جائے گی کہ ریاضی دانوں اور منطقیوں نے ان نئے خیالات کو کس طرح قبول کیا یا رد کیا، چاہے وہ کرونیکر اور اُس کے پیروکاروں کی معروف مخالفت ہو، یا نظریۂ تعامل میں لامتناہی اعداد کے استعمال، جدید الجبرا اور طولیات کے ابھرنے، اور منطقی نظریۂ عددیت کے پھیلاؤ تک کی داستان ہو۔ 

حصہ سوم میں تصورِ طاقِم کی مزید ارتقائی تاریخ سنہ ۱۹۵۰ء تک پیش کی گئی ہے، جس میں توجہ بنیادی سوالات اور جدید مسلمات بندی کے تدریجی ظہور پر مرکوز ہے۔ اس کوشش کے ذریعے جو شاید پہلی بار ایک جامع جائزہ فراہم کرتی ہے ایک نیا پہلو خاص طور پر قابلِ ذکر ہے: اُس دور کے ایک اکثر نظر انداز شدہ پہلو پر توجہ، یعنی دو متبادل نظاموں کی دو شاخوں میں تقسیم؛ رسل کا نوعی نظریہ اور زرمیلو کا تصورِ طاقِم اور پھر اُن کا بعد ازاں انضمام۔ اس ضمن میں ہم کئی اہم موضوعات کا جائزہ لیں گے، جن میں نام نہاد "بنیادی بحران" کے مختلف پہلو، تصورِ طاقِم کے بالمقابل، تعمیری متبادلات شامل ہیں۔ تصورِ طاقِم کے بڑے مسلماتی نظام۔ اُن پر کی جانے والی ماورائی نظریاتی تحقیق بالخصوص گؤڈل کے نتائج اور جدید اول مرتبی منطق کی تشکیل، جو تصورِ طاقِم کے رسمی نظاموں کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ 

یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ مضامین کا دائرہ ہر حصے میں بتدریج محدود ہوتا جاتا ہے۔ پہلا حصہ روایتی نقطۂ نظر کے پس منظر میں تصورِ طاقِم کے ظہور کا مطالعہ کرتا ہے۔ طاقمِی زبان کس طرح غالب ہوئی یہ سوال چھوڑے بغیر دوسرا حصہ تصورِ طاقِمِ مجرد پر مرکوز ہے، اور تیسرا حصہ اس سے بھی زیادہ محدود توجہ، یعنی مجرد تصورِ طاقِمِ کی بنیادوں پر رکھتا ہے۔¹ 
قاری نے یقینًا محسوس کر لیا ہوگا کہ ہم صرف تصورِ طاقِم کے لفظی یا محدود مفہوم پر ہی توجہ نہیں دے رہے۔ اگر ان الفاظ سے قاری کی مراد وہ مجرد تصورِ طاقِم ہے جو آج کل اُن مصنفین کے ہاں مطالعے کا موضوع ہے جنہیں ریاضیاتی منطق کے ماہرین کہا جاتا ہے، تو اُسے حصہ دوم اور حصہ سوم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔² ایسا فہم دراصل اس سوال کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ ریاضی میں طاقِمی نقطۂ نظر کیسے اُبھرا؟ اور کیوں یہ جدید ریاضیات میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا؟ یہ سوالات یقینًا کہیں زیادہ وسیع دل چسپی کے حامل ہیں، اور مؤرخ کے لیے بھی کسی طرح کم اہم نہیں۔

اسی لیے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ صرف (لامتناہی) تصورِ طاقِم تک محدود نہ رہوں، بلکہ خود طاقِمی طرزِ فکر پر بھی محتاط توجہ دوں، اور ایسے سوالات اُٹھاؤں جیسے: ریاضی دان طاقِم کے تصور تک کیسے پہنچے؟ انہیں کیسے یقین ہوا کہ یہ ان کے علم کے لیے موزوں بنیاد اور زبان فراہم کرتا ہے؟ اور ایک ریاضی دان جیسے کانتور خود کو اس بات پر کیسے قائل کر سکا
کہ طاقِموں کا ایک نظریہ قائم کرنا واقعی اہم ہے؟

پورا تاریخی ارتقا جس کا ہم تجزیہ کریں گے، اسے تحقیقی پروگراموں کے تاریخی سیاق و سباق میں ذیلی شعبوں کی تدریجی تفریق کے طور پر بہترین بیان کیا جا سکتا ہے جو ابتدا میں متحد تھے۔ ہم دیکھیں گے کہ شروع میں طاقِم کا تصور کئی مختلف میدانوں اور طریقوں میں استعمال ہوتا تھا، اور ذیلی شعبوں کی حدود کا کوئی احساس نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ، ریاضی دانوں نے ان کئی پہلوؤں کے درمیان فرق کو پہچانا جو ریاضی کی روایتی اشیاء میں باہم گڈمڈ نظر آتے تھے قالبی خصوصیات، طولیاتی خصوصیات، الجبری ساختوں، پیمائشی نظریاتی خصوصیات، اور آخر میں مجرد طاقِم کا نظریاتی پہلو۔ اس عمل میں، نئے ذیلی شعبے ابھرے۔

مجھے ادراک ہے کہ اس راستے پر چلتے ہوئے، میں واضح تصوری تمایز کے دلدادہ افراد کی سخت تنقید کے خطرے سے دوچار ہوں۔ عام طور پر، موجودہ دور کی منظوم حدود کو ماضی پر مسلط کرنا پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ اس حوالے سے، کے او مے کا لکھا ہوا (۱۹۶۹ء) ایک کافی منفی جائزہ غور طلب ہے، جو مرحوم میدویدے کی تصنیف (۱۹۶۵ء) کے بارے میں تھا اور تصورِ طاقِم کے ارتقا پر مبنی تھی (یہ کتاب میں نے نہیں پڑھی، کیونکہ یہ روسی سے کبھی ترجمہ نہیں ہوئی، لیکن یہ کئی لحاظ سے موجودہ کام سے مشابہت رکھتی ہوگی)۔ مے کا کہنا تھا کہ یہ رائے مسترد کرنے کے لیے کہ کانتور ہی تصورِ طاقِم کے بانی تھے، میدویدے نے مجرد نظریۂ طاقِم کو نقطہ طواقِم کے طولیاتی نظریہ کے ساتھ گڈمڈ کر دیا۔ لیکن خود کانتور نے ۱۸۸۵ء تک، یعنی طاقِم سے وابستہ اصل کام شروع کرنے کے پندرہ سال بعد (دیکھیں باب ہشتم)³، نقطہ طواقِم کے نظریے اور مجرد نظریۂ طاقِم میں کوئی فرق نہیں کیا تھا۔ مے نے میدویدے کے اس اقدام پر بھی تنقید کی کہ اس نے طاقِم کے تصور کی انیسویں صدی کی مثالیں ڈھونڈنے کی کوشش کی، جیسے گاؤس، کیونکہ وہ کبھی فعلی لامحدودیت کے ضمنی استعمال سے آگے نہ بڑھ سکے۔ یہ ایک زیادہ سنجیدہ تنقید ہے، پھر بھی کوئی اس امر پر غور کر سکتا ہے کہ ڈیڈیکِنڈ، جس نے طاقِم اور فعلی لامحدودیت کے صریح استعمال میں کوئی عار محسوس نہیں کیا، نے اپنے نقطہ نظر کو جواز بخشنے کے لیے خاص طور پر گاؤس کے کام کا حوالہ دیا تھا (دیکھیں §۱۱۱.۵)⁴۔

یہ کہنا ضروری ہے کہ طاقِم کا نظریہ ریاضیاتی طور پر صرف اسی وقت دلچسپ اور متنازعہ بنتا ہے جب لامحدود طاقِم کو قبول کیا جاتا ہے۔ یہاں مے کے تحفظات کو تسلیم کرنا چاہیے، اور میں نے فعلی لامحدودیت کو قبول کرنے کو طاقِم کے تصور سے 'سنجیدہ' وابستگی کے معیار کے طور پر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔⁵ اس سلسلے میں، فعلی لامحدود کو قبول کرنے اور ماورائی کے نظریے کی تشریح و توسیع کے درمیان فرق کرنا چاہیے۔ کانتور کا کام دونوں حوالوں سے بہت اہم تھا، لیکن یہ صرف دوسرے میدان میں تھا کہ اس نے اپنا راستہ خود بنایا۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ریاضیاتی روایت نے فعلی لامحدود کو مسترد کر دیا تھا، لیکن یہ موقف انیسویں صدی کے جرمنی میں عالمگیر نہیں تھا (دیکھیں § ۱.۳)۔

مذکورہ قسم کی تمایز تصورِ طاقِم کے ارتقا کو سمجھنے کی ہر کوشش میں نہایت مفید ہیں، اور میرے اسلوب کی وضاحت اور غلط فہمیوں کے انسداد کے لیے ان کا ہونا اہم ہے۔ ایک دوسری تَمْیِیز، جس کا پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے اور جو پہلی سے گہرا تعلق رکھتی ہے، نظریۂ طاقِم کی بطور ریاضی کی ایک خودمختار شاخ (جیسا کہ ماورائی نظریۂ طاقِم یا مجرد تصورِ طاقِم) اور بطور ریاضی کے لیے ایک بنیادی آلہ یا زبان کے درمیان ہے: طاقِمی نظریاتی اسلوب کا ارتقا پہلے ہوا، نہ کہ اس کے برعکس۔

ایک تیسری اہم تَمْیِیز تصورِ طاقِم کے بطور ریاضی کا ایک اسلوب یا شاخ ہونے، اور تصورِ طاقِم کے بطور ریاضی کی ایک بنیاد ہونے کے درمیان ہے۔ نظریۂ طاقِم کی ہماری موجودہ تصویر میں، یہ دونوں پہلو اس قدر گھل مل گئے ہیں کہ ان میں تَمْیِیز کرنا مصنوعی محسوس ہو سکتا ہے۔ بہرکیف، طاقِم کے ابتدائی تاریخی سیاق و سباق میں ان تمایز کو پیش نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔

ورنہ اس ارتقا کی واضح تصویر تشکیل دینا ناممکن ہو جاتا ہے، جس میں ان تینوں پہلوؤں کے درمیان کافی پیچیدہ تعامل شامل ہے۔ یہ خیال کہ طاقِم ریاضی کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں، بہت جلد ابھر کر سامنے آ گیا تھا، اور کانتور ہرگز اس نظرئیے کا ممتاز ترجمان نہیں تھا۔ ۱۸۹۰ء تک اس کا سب سے بڑا حامی ڈیڈیکِنڈ تھا، لیکن میرا موقف ہو گا کہ رائیمان بھی اس موقف کی وکالت کرنے والی ایک اہم آواز تھے۔⁶ رائیمان نے طاقِمی زبان متعارف کروانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا، اور اسے اس تصور کے ساتھ جوڑ دیا کہ طاقِم ریاضی کی بنیادی چیز ہے۔ اس کی ابتدائی خدمات کو ڈیڈیکِنڈ اور کانتور دونوں کی ابتدائی طاقِم نظریاتی کوششوں پر ایک اہم اثر کے طور پر پرکھنے کے اچھے اسباب ہیں۔

لہٰذا، پہلا اور دوسرا حصہ زیادہ تر ریاضی دانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ بالخصوص رائیمان، ڈیڈیکِنڈ اور کانتور سے متعلق ہے جن کے کام باہم گہرا مربوط تھے۔ اس نے چند ابتدائی طاقِم نظریاتی جھلکیوں سے موجودہ مجرد نظریۂ طاقم تک کے ارتقا کی واضح تصویر پیش کرنا ممکن بنا دیا۔ می کے جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید میدویدے کے کام میں یہی بات ہی مفقود تھی، جس کی وجہ سے طاقِم نظریہ کے براہ راست پیش روؤں پر اس کی تحقیق غیر متعلق نظر آتی ہے۔

طاقِم کا تصور انسانی ذہن کے لیے کسی حد تک فطری معلوم ہوتا ہے۔ بالآخر، ہم عام اسماء (جیسے 'کتاب' یا 'ریاضی دان') استعمال کرتے ہیں اور ان زبانى عادات کی بنیاد میں اشیاء کے مجموعوں پر غور کرنا ایک قدرتی قدم ہے۔ اس سادہ سی وجہ سے، تصورِ طاقِم کے تاریخی پیش روؤں کو ڈھونڈنا بہت آسان ہے، اور ایسی دلدلی زمین میں اترنا آسانی سے من مانی یا غیر متعلقہ ہو سکتا ہے۔ اسی خطرے سے بچنے کے لیے میں نے ان خدمات پر توجہ مرکوز کی ہے جو ابتدائی طاقِم نظریہ دانوں کے کام سے براہ راست منسلک ثابت ہو سکیں۔ چونکہ یہ تمام افراد جرمن ریاضی دان تھے، اس لیے کتاب کے پہلے دو حصے جرمن زبان میں لکھے گئے ریاضیاتی کاموں پر مرکوز ہیں۔

اس سلسلے میں، میں قاری کو متنبہ کرنا چاہوں گا کہ جرمنی میں تصورِ طاقِم کی ابتدا کا مطالعہ فوری طور پر اصطلاحی مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ اس کے برعکس رومانی زبانوں اور انگریزی، جہاں تصور کو ظاہر کرنے کے لیے کافی واضح متعلقہ الفاظ موجود تھے (اینسیمبل, انسائمی, کونجنٹو, سیٹ)، جرمن زبان نے کوئی بہترین انتخاب پیش نہیں کیا۔ مثال کے طور پر، ڈیڈیکِنڈ اور کانتور دونوں نے تسلیم کیا کہ 'اینسیمبل' فرانسیسی میں ایک مثالی ترجمہ تھا،⁷ لیکن انہوں نے مختلف جرمن اصطلاحات استعمال کیں، ڈیڈیکِنڈ نے 'سسٹم' کا لفظ چنا، کانتور نے اپنا انتخاب کئی بار بدلا، لیکن زیادہ تر 'ماننگفالٹِگکائٹ' اور 'مینگے' کے الفاظ استعمال کیے۔⁶ ابتدائی دور میں، ہر ریاضی دان نے اپنا خود کا انتخاب کیا، اور احتیاط سے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ وہ طاقِم کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، یا کچھ اور۔ اصطلاحی سوال خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے رائیمان کے معاملے میں طاقِم کی ابتدائی تاریخ میں اس کے کردار کا پورا معاملہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اس کے تصور 'ماننگفالٹِگکائٹ' کی کس طرح تشریح کرتے ہیں (دیکھیں باب ۱۱)۔ میں نے متن میں متعلقہ اصطلاحات کا سخت ترجمہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ اہم ہے کہ قاری اصطلاحی ابہام کے مسئلے کو ذہن میں رکھے۔ صرف یہ حقیقت کہ کسی متن میں 'مینگے' [طاقِم] کا لفظ ملتا ہے از خود اس کا یہ مطلب نہیں کہ مصنف صحیح تصور استعمال کر رہا ہے۔ اور صرف یہ حقیقت کہ ایک مصنف دوسرا لفظ استعمال کرتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تصورِ طاقم استعمال نہیں کر رہا۔⁸

اس قطعہ کا اختتام کرتے ہوئے، میں کچھ مورخین کے اس موقف پر اپنا تبصرہ پیش کرنا چاہوں گا جنہوں نے طاقِم سے ملتے جلتے ابتدائی تصورات (جیسے بولزانو یا رائیمان میں) اور جدید تصور، جس کا عام طور پر کانتور سے تعلق بتایا جاتا ہے، کے درمیان فرق پر زور دیا ہے۔⁹ تصورات کے ذریعے طاقِم کی تعیین کرنے کے نتیجے میں، رائیمان اور بولزانو انہیں ایک پہلے سے ودیعت شدہ ساخت سے مزین سمجھتے تھے۔ آج کل ایک مجرد طاقم پر غور کیا جاتا ہے اور پھر اس پر ساختوں کو آزادانہ طور پر مسلط کیا جاتا ہے۔ اس تقابل کو اس موقف کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے کہ انیسویں صدی کے ان مصنفین میں سے کوئی بھی نظریۂ طاقِم کے ارتقا میں اہم تھا۔ میرا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا معیار سخت طریقے سے لاگو کیا جائے تو یہاں تک کہ کانتور کا کام بھی نظریۂ طاقِم کی تاریخ سے تعلق نہیں رکھے گا۔ تمام سابقہ مصنفین، بشمول کانتور اور ڈیڈیکِنڈ، رائیمان اور بولزانو جیسے تصورات سے ہی شروع ہوئے، اور یہ بتدریج ہوا کہ وہ (بالآخر) ایک مجرد اسلوب تک پہنچے۔ وہ انیسویں صدی کی ریاضی کی ٹھوس، پیچیدہ اشیاء سے شروع ہوئے، اور اپنے کام کے دوران انہیں کئی مختلف قسم کی خصوصیات یا خواص (جنہیں ہم قالب، یا طولیاتی، یا الجبری، یا مجرد خصوصیات کا عنوان دیں گے) میں تمییز کرنے کی ممکنہ صلاحیت کا احساس ہوا۔ طاقم کا مجرد تصور نظریۂ توسیع کے پرانے خیال سے بتدریج نمو پایا (دیکھیں § ۱۱.۲)۔ لہٰذا، تاریخی اعتبار سے 'ملمع' اور مجرد اسلوب کو باہمی متبادل کے طور پر متصادم کرنا ناکافی ہے؛ بلکہ انہیں ایک پیچیدہ تاریخی عمل کے ابتدائی اور حتمی مراحل کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔¹⁰

حـ ۱. ۱۹٤٠ء تک مجرد اور توصیفی نظریۂ طاقِم کے ارتقا کا مکمل احاطہ کرنے کی کوشش کے لیے ایک اور جلد کی ضرورت ہوتی، اور بلاشبہ تیاری کا ایک طویل عرصہ درکار تھا۔

حـ ۲. اور انہیں دیگر کاموں کے ساتھ تکمیل کرنا، جیسے [موورے ۱۹۸۲]، [کاناموری ۱۹۹۶]۔

حـ ۳. ریاضیاتی برادری نے مجموعی طور پر اس تمییز کو صرف ۱۹۰۰ کی دہائی میں ہضم کرنا شروع کیا؛ مجرد نظریۂ طاقِم اپنی پوری وضاحت کے ساتھ زرمیلو کے کام کے ذریعے اسی دہائی میں ظاہر ہوا۔

حـ ۴. داخلی حوالہ جات کا اسلوب درج ذیل ہے؛ '§ ٢.١' اسی باب کے اندر قطعہ ٢.١ کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں حوالہ پایا جاتا ہے؛ '٤.٤§' باب ٤ کے قطعہ ٤ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

حـ ۵. فعلی لامُتناہیت کا معیار کسی حد تک وائراستراس کے اخراج کو جواز فراہم کرتا ہے (٤.٢§)؛ اس سلسلے میں طریق کار کے سوالات بھی اہم ہیں (١.٤§ اور ٤.٢§)۔

حـ ٦. ۔ باب ۱۱ اور نیز [فیریریاس ۱۹۹۶] ملاحظہ کریں۔

حـ ٧. ۔ ڈیڈیکِنڈ [۱۸۷۷] اور کانتور کا ۱۸۸۵ کا مقالہ [گراٹن-گؤینس ۱۹۷۰] میں ملاحظہ کریں۔

حـ ۸۔ اور بھی بہت سی لسانی شکلیں تھیں: 'کلاسے,' 'اِنبےگرِف,' 'گیبائٹ,' 'کامپلیکس,' 'وائلہائٹ', 'گیسامتھائٹ', 'سچآر,' وغیرہ۔ ہمیں راستے میں ان کا سامنا ہوگا۔

حـ ٩. مثال کے طور پر، [سچولز ۱۹۹۰الف, ۲] اور [سپالٹ ۱۹۹۰, ۱۹۲-۹۳] ملاحظہ کریں۔

حـ ۱۰. یہ بالکل واضح ہے کہ، عام طور پر، ایجاد/دریافت کا عمل مانوس اور ملمع سے مجرد کی طرف جاتا ہے۔

فقط
سیالکوٹ



Comments

Popular posts from this blog

٢.٢. الہام اور منطقیت

تعارف

٣. مسئلۂ لامُتناہی