مقالہ اول (اقلیدس)

یٰۤاحَقُّ یٰۤالَطِیْفُ یٰۤاٱلـلّٰهُ 
ھُـــــوَ ھُــــوَ هُـــــو
بِسْمِ ٱلـلّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ 
الْحَمْدُ لِـلّٰهِ الَّذِي مِنْهُ الِابْتِدَاءُ وَإِلَيْهِ الِانْتِهَاءُ، وَعِنْدَهُ حَقَائِقُ الْأَشْيَاءِ، وَصَلَوٰتُهُ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الْأَصْفِيَاءِ. وَبَعْدُ؛ فَلَمَّا فَرَغْتُ عَنْ تَحْرِيرِ الْمَجَسْطِيِّ رَأَيْتُ أَنْ أُحَرِّرَ كِتَابَ أُصُولِ الْهَنْدَسَةِ وَالْحِسَابِ الْمَنْسُوبِ إِلَىٰ أُقْلِيدِسَ الصُّورِيِّ بِإِيجَازٍ غَيْرِ مُخِلٍّ، وَأَسْتَقْصِيَ فِي ثَبْتِ مَقَاصِدِهِ اسْتِقْصَاءً غَيْرَ مُمِلٍّ، وَأُضِيفَ إِلَيْهِ مَا يَلِيقُ بِهِ مِمَّا اسْتَفَدْتُهُ مِنْ كُتُبِ أَهْلِ هٰذَا الْعِلْمِ أَوْ اسْتَنْبَطْتُهُ بِقَرِيحَتِي، وَأَفْرِزَ مَا يُوجَدُ مِنْ أَصْلِ الْكِتَابِ فِي نُسْخَتَيِ الْحَجَّاجِ وَثَابِتٍ عَنِ الْمَزِيدِ عَلَيْهِ؛ إِمَّا بِالْإِشَارَةِ إِلَىٰ ذٰلِكَ أَوْ بِاخْتِلَافِ أَلْوَانِ الْأَشْكَالِ وَأَرْقَامِهَا. فَفَعَلْتُ ذٰلِكَ مُتَوَكِّلًا عَلَى الـلّٰهِ، إِنَّهُ حَسْبِي وَعَلَيْهِ ثِقَتِي. ​أَقُولُ؛ الْكِتَابُ يَشْتَمِلُ عَلَىٰ خَمْسَ عَشْرَةَ مَقَالَةً مَعَ الْمُلْحَقَتَيْنِ بِآخِرِهِ، هِيَ أَرْبَعُمِائَةٍ وَثَمَانِيَةٌ وَسِتُّونَ شَكْلًا فِي نُسْخَةِ الْحَجَّاجِ، وَبِزِيَادَةِ عَشَرَةِ أَشْكَالٍ فِي نُسْخَةِ ثَابِتٍ. وَفِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ فِي التَّرْتِيبِ أَيْضًا بَيْنَهُمَا اخْتِلَافٌ. وَأَنَا رَقَمْتُ عَدَدَ أَشْكَالِ الْمَقَالَاتِ بِالْحُمْرَةِ لِثَابِتٍ وَبِالسَّوادِ لِلْحَجَّاجِ إِذَا كَانَ مُخَالِفَهُ. الْمَقَالَةُ الْأُولَىٰ سَبْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ شَكْلًا، وَفِي نُسْخَةِ ثَابِتٍ بِزِيَادَةِ شَكْلٍ وَهُوَ شَكْلُ (مه). قَدْ جَرَتِ الْعَادَةُ بِتَصْدِيرِهَا بِذِكْرِ حُدُودٍ وَأُصُولٍ مَوْضُوعَةٍ يُحْتَاجُ إِلَيْهَا فِي بَيَانِ الْأَشْكَالِ. الْحُدُودُ؛ 
اللّٰہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس سے (ہر شے کی) ابتدا ہے اور اسی کی طرف انتہا؛ اور اسی کے پاس تمام اشیاء کی حقیقتوں کا علم ہے۔ اس کی رحمتیں (اور درود) نازل ہوں محمد ﷺ پر اور ان کی پاکیزہ آل پر۔ ​حمد و صلوٰۃ کے بعد؛ جب میں المجسطی کی تحریر (ترمیم و تنقیح) سے فارغ ہوا، تو میں نے ارادہ کیا کہ کتابِ اصولِ ہندسہ و حساب (جو کہ اقلیدس صوری کی طرف منسوب ہے) کو بھی ایسے اختصار کے ساتھ تحریر کروں جو (مفہوم میں) مخل نہ ہو، اور اس کے مقاصد کے ثبوت میں ایسی چھان بین کروں جو (طوالت کی وجہ سے) اُکتاہٹ کا باعث نہ بنے۔ اور میں اس کتاب میں ان مناسب باتوں کا بھی اضافہ کروں جو میں نے اس علم کے ماہرین کی کتابوں سے حاصل کی ہیں یا اپنی فکر و بصیرت سے مستنبط (اخذ) کی ہیں۔
​نیز میں ان حصوں کو جو اصل کتاب میں حجاج اور ثابت (بن قرہ) کے نسخوں میں موجود ہیں، ان حصوں سے ممتاز (الگ) کر دوں جو ان پر زائد ہیں؛ یہ امتیاز یا تو (خاص) اشارے کے ذریعے ہوگا یا اشکال کے رنگوں اور ان کے اعداد کے اختلاف کے ذریعے ہوگا۔ پس میں نے اللّٰہ پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ کام انجام دیا، وہی مجھے کافی ہے اور اسی پر میرا اعتماد ہے۔ ​میں کہتا ہوں؛ یہ کتاب پندرہ مقالات پر مشتمل ہے، مع ان دو مقالات کے جو اس کے آخر میں الحاق کیے گئے ہیں۔ حجاج کے نسخے میں کل ٤٦٨ اشکال ہیں، جبکہ ثابت کے نسخے میں ١٠ اشکال زیادہ ہیں۔ بعض مقامات پر ان دونوں نسخوں کی ترتیب میں بھی اختلاف ہے۔ میں نے مقالات کی اشکال کی تعداد (کے شمار)، جہاں جہاں اختلاف تھا، ثابت کے نسخے کے لیے سرخ رنگ سے اور حجاج کے لیے سیاہ رنگ سے درج کیے ہیں۔ پہلا مقالہ ٤٧ اشکال پر مشتمل ہے، جبکہ ثابت کے نسخے میں ایک شکل زیادہ ہے اور وہ شکل مہ (یعنی ٤٥ ویں شکل) ہے۔
​یہ دستور رہا ہے کہ ان (مقالات) کا آغاز ان حدود (تعریفات) اور اصولِ موضوعہ (مسلمات) کے ذکر سے کیا جائے جن کی اشکال کی وضاحت میں ضرورت پڑتی ہے۔ وہ حدود (تعریفات) یہ ہیں؛ 
بِسْمِ ٱلـلّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
 ​وَبِهِ نَثِقُ وَنَسْتَعِيْنُ۔
 ​وَبَعْدُ؛ فَإِنَّ الْعُلُوْمَ الرِّيَاضِيَّةَ الَّتِي هِيَ وَاسِطَةُ عِقْدِ الْحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ تَنْقَسِمُ إِلَىٰ أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ؛ اَلْهَنْدَسَةُ، وَالْأَرِثْمَاطِيْقِيُّ، وَالْمُوْسِيْقِيُّ، وَالْمَجَسْطِيُّ، وَهُوَ غَايَتُهَا۔ وَكَانَ كِتَابُ الْأُصُوْلِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ "الْإِسْتِقَصُّ" لِتَحْلِيْلِ سَائِرِ الْعُلُوْمِ الرِّيَاضِيَّةِ إِلَيْهِ فِي سَالِفِ الْأَيَّامِ، مُرَتَّبًا عَلَىٰ خَمْسَ عَشْرَةَ مَقَالَةً۔ فَمَالَ بَعْضُ مُلُوْكِ الْيُوْنَانِ إِلَىٰ حَلِّهِ، فَاسْتَعْصَىٰ عَلَيْهِ؛ فَأَخَذَ يَتَنَسَّمُ أَخْبَارَ الْكِتَابِ مِنْ كُلِّ وَارِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَيْهِ۔ فَأَشَارَ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ رَجُلٍ فِي الْبَلَدِ الصُّوْرِ يُقَالُ لَهُ أُقْلِيْدِسُ؛ إِنَّهُ مُبَرِّزٌ فِي عِلْمَيِ الْهَنْدَسَةِ وَالْحِسَابِ۔ فَطَلَبَهُ الْمَلِكُ، وَأَمَرَهُ بِتَهْذِيْبِ الْكِتَابِ بِاسْمِهِ، وَحَذْفِ الْمَقَالَتَيْنِ الْأَخِيْرَتَيْنِ؛ لِأَنَّ مَسَائِلَهَا كَانَتْ مِنَ الْمُقَدِّمَاتِ الَّتِي يَتَوَقَّفُ عَلَيْهَا بَرَاهِيْنُ نِسَبِ الْمُجَسَّمَاتِ الْمَذْكُوْرَةِ فِي الْمَقَالَةِ الثَّالِثَةَ عَشْرَ، وَكَيْفِيَّةِ رَسْمِ الْأَشْكَالِ الْمَذْكُوْرَةِ فِيْهَا بَعْضُهَا فِي بَعْضٍ۔ وَكَانَتْ كُلُّهَا تَسْتَبِيْنُ مِنَّا وَمِنْ غَيْرِهَا، وَمِنَ الْمَقَالَاتِ الْمُقَدَّمَةِ عَلَيْهَا۔ وَكَانَ الْكِتَابُ الْمَوْضُوْعُ لِأَنْ يُوْضَعَ فِيْهِ الْأُصُوْلُ دُوْنَ الْفُرُوْعِ إِذْ هِيَ غَيْرُ مُتَنَاهِيَةٍ؛ وَلِذٰلِكَ عُدَّتْ قَضَايَا لَمْ تَتَبَيَّنْ إِلَّا فِي هٰذَا الْعِلْمِ مِنَ الْأُصُوْلِ الْمَوْضُوْعَةِ لِمَا كَانَتْ ظَاهِرَةَ الْبَيَانِ مِنْ مَسَائِلِ الْكِتَابِ۔​ثُمَّ نَشَأَ بَعْدَ زَمَانٍ بِعَسْقَلَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَنْسِقْلَاوُسُ، بَرَزَ فِي الْعُلُومِ الرِّيَاضِيَّةِ وَأَلْحَقَ الْمَقَالَتَيْنِ بِالْكِتَابِ بَعْدَ تَهْذِيبِهِمَا، فَصَارَ الْكِتَابُ بِهِمَا خَمْسَ عَشْرَةَ مَقَالَةً۔ ثُمَّ نُقِلَ إِلَى الْعَرَبِيَّةِ مُرَتَّبًا عَلَىٰ خَمْسَ عَشْرَةَ مَقَالَةً، وَاشْتَهَرَ مِنَ النُّسَخِ الْمَنْقُولَةِ نُسْخَتَانِ بَيْنَ عُلَمَاءِ هٰذِهٖ الصِّنَاعَةِ؛ إِحْدَاهُمَا هِيَ الَّتِي أَصْلَحَهَا ثَابِتُ بْنُ قُرَّةَ الْحَرَّانِيُّ، وَالْأُخْرَىٰ هِيَ الَّتِي نَقَلَهَا وَأَصْلَحَهَا حَجَّاجُ بْنُ مَطَرٍ۔ ثُمَّ أَخَذَ فِي تَهْذِيبِ الْكِتَابِ جَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ طَلَبًا لِلْإِيجَازِ وَالْإِيضَاحِ، فَحَذَفَ بَعْضُهُمْ دَعَاوَىٰ أَشْكَالِ الْكِتَابِ وَقَنِعَ بِالْمِثَالِ، وَبَعْضُهُمْ حَذَفَ بَعْضَ مَسَائِلِهِ اعْتِقَادًا مِنْهُ بِأَنَّهُ مَعْلُومٌ مِنْ بَاقِي الْكِتَابِ، وَبَعْضُهُمْ جَمَعَ أَشْكَالًا عِدَّةً فِي شَكْلٍ وَاحِدٍ، وَبَعْضُهُمْ اسْتَخْرَجَ مِنَ الْقُوَّةِ إِلَى الْفِعْلِ بَعْضَ مَا أَهْمَلَهُ أُقْلِيدِسُ مِمَّا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ بَرَاهِينُ أَشْكَالِ الْكِتَابِ اعْتِمَادًا عَلَىٰ أَذْهَانِ مَنْ يُحَاوِلُ حَلَّهُ وَمُرَاعَاةً لِطَرِيقَتِهِ فِي هٰذَا الْكِتَابِ۔ ​وَبَعْضُهُمْ مَعَ ذٰلِكَ أَشَارَ إِلَىٰ عَدَدِ الْأَشْكَالِ الْمُتَقَدِّمَةِ مِمَّا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ بَرَاهِينُ الْأَشْكَالِ الْمُتَأَخِّرَةِ بِالرُّقُومِ مِنْ حُرُوفِ أَبْجَدَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمُ الْحُرُوفَ فِي مَتْنِ الْكِتَابِ وَبَعْضُهُمْ كَتَبَهَا عَلَىٰ حَوَاشِيْ وَفِي أَثْنَاءِ السُّطُورِ، فَلَمَّا تَدَاوَلَتْهُ الْأَيْدِي صَحَّفَتِ الْحُرُوفُ الَّتِي كَانَتْ فِي الْمَتْنِ وَتُرِكَتِ الَّتِي كَانَتْ عَلَىٰ الْحَوَاشِي وَفِي أَثْنَاءِ السُّطُورِ۔ وَكَانَ الْكِتَابُ مِنَ الْكُتُبِ الْمُحْتَاجَةِ إِلَى التَّفْسِيرِ وَالْإِيضَاحِ لِيَسْهُلَ بِذٰلِكَ عَلَىٰ الطَّلَبَةِ الِانْتِفَاعُ بِهٖ ​ثُمَّ إِنِّي لَمَّا تَأَمَّلْتُ فِيمَا حَكَمْتُهُ قَوِيَ عَزْمِي عَلَىٰ أَنْ أُرَتِّبَ الْكِتَابَ عَلَىٰ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَقَالَةً كَمَا فَعَلَهُ أُقْلِيدِسُ، وَأَسْلُكَ فِيهِ طَرِيقَةً جَامِعَةً بَيْنَ الْمَتْنِ وَالشَّرْحِ، وَأَسْتَخْرِجَ جَمِيعَ مَا هُوَ بِالْقُوَّةِ إِلَى الْفِعْلِ مِمَّا يَتَوَقَّفُ صِنَاعِيًّا، وَأُنَبِّهَ عَلَى اخْتِلَافِ وُقُوعِ كُلِّ شَكْلٍ لَهُ اخْتِلَافُ وُقُوعٍ وَعَلَى الِاسْتِبَانَةِ إِنْ كَانَتْ، وَأُمَيِّزَ عَنْهَا مَسَائِلَ الْمَقَالَتَيْنِ الْأَخِيْرَتَيْنِ بِالْإِشَارَةِ إِلَيْهَا، وَأُحِيلَ عَلَىٰ كُلِّ شَكْلٍ يَقَعُ مُقَدِّمَةً لِبَرَاهِينِ بَعْضِ أَشْكَالِ الْكِتَابِ بِالْكِتَابَةِ لَا بِالرُّقُومِ، وَأَذْكُرَ عَدَدَهُ فَقَطْ إِنْ كَانَتِ الْمُقَدِّمَةُ وَالنَّتِيجَةُ مِنْ مَقَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَعَدَدَ الْمَقَالَةِ مَعَ ذٰلِكَ إِنْ كَانَتَا مِنْ مَقَالَتَيْنِ، وَأُكَرِّرَ شَكْلًا وَاحِدًا مِرَارًا كَثِيرَةً فِي مَسْأَلَةٍ وَاحِدَةٍ إِذَا وَقَعَ الِاحْتِيَاجُ إِلَيْهِ، لِيَكُونَ الْكِتَابُ بِذٰلِكَ كَامِلًا فِي نِصَابِهِ وَجَامِعًا لِمَقَاصِدِ طُلَّابِهٖ۔ ​وَأَسْأَلُ الـلّٰهَ تَعَالَىٰ فِي جَمِيعِ ذٰلِكَ الْعِصْمَةَ عَنِ الْغَوَايَةِ فِي الرِّوَايَةِ وَصَوْنًا عَنْ طُغْيَانِ الْقَلَمِ فِي الْكِتَابَةِ، إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ ذٰلِكَ قَدِيرٌ وَبِالْإِجَابَةِ جَدِيرٌ۔ وَهَا أَنَا شَرَعْتُ فِيمَا حَكَمْتُهُ۔
اَلْمَقَالَةُ الْأُولَىٰ؛ وَهِيَ سَبْعٌ وَأَرْبَعُوْنَ شَكْلًا۔
​لِكُلِّ عِلْمٍ؛ مَوْضُوْعٌ، وَمَبَادٍ، وَمَسَائِلُ۔ وَمَوْضُوْعُ كُلِّ عِلْمٍ مَا يُبْحَثُ فِيْهِ عَنْ أَعْرَاضِهِ الذَّاتِيَّةِ؛ وَهِيَ الْمَحْمُوْلَاتُ الَّتِي تَلْحَقُ الشَّيْءَ لِذَاتِهِ أَوْ لِجُزْئِهِ أَوْ لِمَا يُسَاوِيْهِ مِنَ الْمَحْمُوْلَاتِ الْخَارِجَةِ عَنْهُ۔ وَالْمَبَادِي: إِمَّا حُدُوْدُ مَوْضُوْعَاتِهِ، أَوْ قَضَايَا هِيَ مُقَدِّمَاتُ بَرَاهِيْنِ مَسَائِلِهِ؛ إِمَّا مَبْنِيَّةٌ فِي ذٰلِكَ الْعِلْمِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْتَلْزِمَ الدَّوْرَ أَوْ فِي عِلْمٍ آخَرَ، وَيُقَدَّمُ فِي أَوَائِلِ الْكُتُبِ مُجَرَّدَةً عَنِ الْبَرَاهِيْنِ وَقَدْ يُقَدَّمُ مَعَهَا لَا عَلَىٰ أَنَّهَا مِنْ بَرَاهِيْنِ ذٰلِكَ الْعِلْمِ، وَيُسَمَّىٰ مُصَادَرَاتٍ وَأُصُوْلًا مَوْضُوْعَةً، وَإِمَّا مَبْنِيَّةٌ بِذَوَاتِهَا وَيُسَمَّىٰ عُلُوْمًا مُتَعَارَفَةً۔ وَالْمَسَائِلُ؛ هِيَ قَضَايَا يُبْرَهَنُ فِيْهَا عَلَىٰ إِثْبَاتِ مَحْمُوْلَاتِهَا لِمَوْضُوْعَاتِهَا أَوْ سَلْبِهَا عَنْهَا۔
اللّٰہ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے اور اسی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ حمد و صلوٰۃ کے بعد؛ واضح ہو کہ علومِ ریاضیہ جو کہ حکمتِ نظریہ کے ہار کا مرکزی موتی ہیں چار اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں؛ ہندسہ، ارثماطیقی (علمِ عدد)، موسیقی (نغموں کے تناسب کا علم)، اور مجسطی (علمِ فلکیات)؛ اور یہی (علمِ فلکیات) ان تمام علوم کی انتہا اور مقصود ہے۔ گزشتہ زمانے میں کتاب الاصول جسے تمام علومِ ریاضیہ کے تجزیے کی بنیاد ہونے کی وجہ سے الاستقص (بنیادی عناصر) بھی کہا جاتا ہے پندرہ مقالات پر مرتب تھی۔ پس یونان کے بعض بادشاہوں کا میلان اس (کتاب) کے حل کی طرف ہوا، مگر وہ ان کے لیے دشوار ثابت ہوئی۔ چنانچہ بادشاہ نے اپنے پاس آنے والے ہر اہلِ علم سے اس کتاب کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔ ان میں سے بعض (علماء) نے صور نامی شہر کے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا جسے اقلیدس کہا جاتا تھا، کہ وہ ہندسہ اور حساب کے علوم میں نہایت ممتاز اور ماہر ہے۔ بادشاہ نے اسے طلب کیا اور حکم دیا کہ اس کتاب کو (درست کر کے) اس کے نام سے منسوب (تہذیب) کرے، اور (کتاب کے) آخری دو مقالات حذف کر دے۔ (ان مقالات کے حذف کرنے کی وجہ یہ تھی) کہ ان کے مسائل ان مقدمات (تین بعدی) میں سے تھے جن پر ان مجسمات کے تناسب کے دلائل کا دارومدار تھا جن کا ذکر تیرہویں مقالے میں ہوا ہے، اور (اسی طرح) ان اشکال کو ایک دوسرے کے اندر بنانے (ترسیم) کی کیفیت بھی وہیں مذکور تھی۔ وہ تمام مسائل ہم سے اور دوسروں سے، اور ان سے پہلے کے مقالات سے (پہلے ہی) واضح ہو چکے تھے۔ نیز یہ کتاب اس لیے وضع کی گئی تھی کہ اس میں صرف اصول (بنیادی قواعد) درج کیے جائیں نہ کہ فروع (جزئیات)، کیونکہ فروع غیر متناہی (لا محدود) ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان قضایا (مسائل) کو جو اس علم کے علاوہ کہیں واضح نہیں ہوئے تھے انہی اصولِ موضوعہ میں شمار کیا گیا جو کتاب کے مسائل سے بالکل واضح اور عیاں تھے۔ پھر ایک زمانے کے بعد عسقلان میں ایک شخص پیدا ہوا جسے انسقلاوس کہا جاتا ہے، اس نے علومِ ریاضیہ میں نام پیدا کیا اور (اقلیدس کی کتاب کے) ان دو (آخری) مقالات کو تہذیب و درستی کے بعد کتاب کے ساتھ لاحق کر دیا، یوں ان (دو مقالات) کے اضافے سے یہ کتاب پندرہ مقالات پر مشتمل ہو گئی۔ پھر اسے عربی زبان میں پندرہ ہی مقالات کی ترتیب پر منتقل کیا گیا، اور (عربی میں) منقولہ نسخوں میں سے اس فن کے علماء کے درمیان دو نسخے مشہور ہوئے؛ ایک وہ جس کی اصلاح ثابت بن قرہ الحرانی نے کی، اور دوسرا وہ جسے حجاج بن مطر نے نقل کیا اور اس کی اصلاح کی۔پھر متاخرین (بعد میں آنے والے علماء) کی ایک بڑی جماعت نے اختصار اور وضاحت کی غرض سے اس کتاب کی تہذیب کا کام شروع کیا؛ چنانچہ ان میں سے بعض نے کتاب کی اشکال کے دعوؤں کو حذف کر دیا اور صرف مثال پر قناعت کی، اور بعض نے اس کے کچھ مسائل اس یقین کے ساتھ حذف کر دیے کہ وہ کتاب کے باقی حصوں سے معلوم ہو جاتے ہیں، بعض نے کئی اشکال کو ایک ہی شکل میں جمع کر دیا، اور بعض نے ان (پوشیدہ) پہلوؤں کو قوت سے فعل میں لایا (یعنی واضح کیا) جنہیں اقلیدس نے نظر انداز کر دیا تھا حالانکہ کتاب کی اشکال کے دلائل کا دارومدار انہی پر تھا؛ انہوں نے ایسا ان لوگوں کے ذہنوں پر بھروسہ کرتے ہوئے کیا جو اسے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کتاب میں اقلیدس کے (خاص) طریقے کی رعایت کرتے ہوئے کیا اور بعض نے اس کے ساتھ ساتھ ابجد کے حروف کے ذریعے ان سابقہ اشکال سے متعلقہ اعداد کی طرف اشارہ کیا جن پر بعد میں آنے والی اشکال کے دلائل موقوف تھے، چنانچہ بعض نے ان حروف کو کتاب کے اصل متن میں رکھا اور بعض نے انہیں حاشیوں اور سطروں کے درمیان لکھا۔ پھر جب یہ کتاب کثرتِ استعمال سے ہاتھوں ہاتھ چلی تو وہ حروف جو متن میں تھے ان میں تحریف (غلطی) ہوگئی، اور وہ جو حاشیوں اور سطروں کے درمیان تھے وہ (نقل میں) چھوٹ گئے۔ یہ کتاب ان کتب میں سے تھی جو تشریح اور وضاحت کی محتاج تھیں تاکہ اس سے طلبہ کے لیے نفع اٹھانا آسان ہو جائے۔ پھر میں نے جب اس (کتاب) کے بارے میں غور و فکر کیا تو میرا عزم پختہ ہوا کہ میں اس کتاب کو (دوبارہ) تیرہ مقالات پر مرتب کروں جیسا کہ اقلیدس نے کیا تھا، اور اس میں متن اور شرح کے جامع طریقے کو اپناؤں، اور ان تمام (پوشیدہ) امور کو واضح کروں جو قوت سے فعل میں آنے کے محتاج ہیں اور جن پر فن کا دارومدار ہے۔ میں ہر اس شکل کے مختلف وقوع پر تنبیہ کروں گا جس کی مختلف صورتیں ممکن ہوں، اور اگر کہیں مزید وضاحت (استبانہ) کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی کروں گا۔ میں آخری دو مقالات کے مسائل کو صرف اشارے کے ذریعے (اصل کتاب سے) ممتاز کر دوں گا۔ اور میں ہر اس شکل کا حوالہ جو کتاب کے بعض دیگر اشکال کے دلائل کے لیے بطور مقدمہ استعمال ہوتی ہو حروفِ ابجد کے بجائے تحریر (الفاظ) کے ذریعے دوں گا۔ اگر مقدمہ اور نتیجہ ایک ہی مقالے سے ہوں گے تو صرف شکل کا نمبر ذکر کروں گا، اور اگر دو الگ مقالات سے ہوں تو شکل کے ساتھ مقالے کا نمبر بھی ذکر کروں گا۔ میں ایک ہی شکل کو ایک ہی مسئلے میں کئی بار دہراؤں گا اگر اس کی ضرورت پیش آئی، تاکہ کتاب اپنے نصاب میں کامل ہو اور اپنے طلبہ کے مقاصد کو پورا کرنے والی ہو۔ میں ان تمام معاملات میں اللّٰہ تعالیٰ سے روایت (بیان) میں گمراہی سے بچنے اور تحریر میں قلم کی سرکشی سے محفوظ رہنے کا سوال کرتا ہوں۔ بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے اور دعا قبول کرنے کے لائق ہے۔ اور لیجیے، میں نے اس کام کا آغاز کر دیا ہے جس کا میں نے ارادہ کیا تھا۔
پہلا مقالہ؛ اور یہ سنتالیس (٤٧) اشکال پر مشتمل ہے۔
​ہر علم کے لیے ایک موضوع، کچھ مبادی (بنیادیں) اور کچھ مسائل ہوتے ہیں۔ کسی بھی علم کا موضوع وہ چیز ہے جس میں اس کے 'اعراضِ ذاتیہ' (اصلی صفات) سے بحث کی جائے؛ اور یہ وہ محمولات (صفات) ہیں جو کسی چیز کو اس کی ذات کی وجہ سے، یا اس کے کسی جزو کی وجہ سے، یا ان خارجی محمولات کی وجہ سے لاحق ہوں جو اس کے برابر ہوں ​اور مبادی یا تو اس کے موضوعات کی حدود (تعریفیں) ہوتی ہیں، یا وہ قضایا (بیانات) جو اس کے مسائل کے دلائل کے لیے مقدمات کا کام دیتے ہیں۔ یہ مقدمات یا تو اسی علم میں ثابت شدہ ہوتے ہیں (بغیر کسی دوری منطق کے) یا کسی دوسرے علم میں؛ اور انہیں کتابوں کے شروع میں بغیر دلیل کے پیش کیا جاتا ہے (اور کبھی دلیل کے ساتھ بھی، مگر اس حیثیت سے نہیں کہ وہ اس علم کی اپنی دلیلیں ہیں)۔ ان کو مصادرات اور اصولِ موضوعہ کہا جاتا ہے۔ اور (مبادی کی دوسری قسم) وہ ہے جو اپنی ذات میں (عقلی طور پر) ثابت ہوں، انہیں علومِ متعارفہ کہا جاتا ہے ​اور مسائل وہ قضایا ہیں جن میں ان کے محمولات (نتائج) کو ان کے موضوعات کے لیے ثابت کرنے یا ان سے سلب (نفی) کرنے پر دلیل قائم کی جاتی ہے۔
ΣΤΟΙΧΕΙΩΝ αʹ
اَلْعَنَاصِرُ أَوِ ٱلِاسْتِقِصَّاتُ (أَوَّلُ)
῞Οροι. 
اَلْحُدُودُ

αʹ. Σημεῖόν ἐστιν, οὗ μέρος οὐθέν. 
الف۔ النُّقْطَةُ مَا لَا جُزْءَ لَهٗ؛ يَعْنِيْ مِنْ ذَوَاتِ الْأَوْضَاعِ۔
1. A point is that of which there is no part.
الف۔ اَلنُّقْطَةُ شَيْءٌ مَا ذُو وَضْعٍ لَا يَنْقَسِمُ فِي ٱلْخَارِجِ، وَٱلْمَعْنیٰ بِٱلْوَضْعِ كَوْنُ ٱلشَّيْءِ قَابِلًا لِلْإِشَارَةِ ٱلْحِسِّيَّةِ۔ 
βʹ. Γραμμὴ δὲ μῆκος ἀπλατές.
ب۔ اَلْخَطُّ طُوْلٌ بِلَا عَرْضٍ
2. And a line is a length without breadth.
ب۔ وَٱلْخَطُّ عِظَمٌ لَهُ طُولٌ فَقَطْ
γʹ. Γραμμῆς δὲ πέρατα σημεῖα.
ج۔ وَيَنْتَهِيْ بِالنُّقْطَةِ
3. And the extremities of a line are points. 
ج۔ وَٱلْمُتَنَاهِي مِنْهُ إِنَّمَا يَنْتَهِي بِالنُّقْطَةِ وَٱلْعِظَمُ كَمٌّ مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَشْتَرِكَ أَجْزَاؤُهُ فِي حَدٍّ أَوْ حُدُودٍ۔
δʹ. Εὐθεῖα γραμμή ἐστιν, ἥτις ἐξ ἴσου τοῖς ἐφ᾿ ἑαυτῆς σημείοις κεῖται.
د۔ وَالْمُسْتَقِيْمُ مِنْهُ هُوَ الَّذِيْ يَكُوْنُ وَضْعُهٗ عَلٰى أَنْ يَتَقَابَلَ أَيُّ خُطُوْطٍ تُفْرَضُ عَلَيْهِ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ۔
4. A straight-line is (any) one which lies evenly with points on itself.
د۔ وَٱلْخَطُّ مُسْتَقِيمٌ إِنْ كَانَتِ النُّقَطُ الَّتِي تُفْرَضُ عَلَيْهِ بَعْضُهَا عَلَىٰ مُقَابَلَةِ الْبَعْضِ، وَ مُنْحَنٍ إِنْ لَمْ يَكُنْ كَذٰلِكَ۔
εʹ. ᾿Επιφάνεια δέ ἐστιν, ὃ μῆκος καὶ πλάτος μόνον ἔχει.
ہ۔ اَلسَّطْحُ أَوِ الْبَسِيْطُ مَا لَهٗ طُوْلٌ وَعَرْضٌ فَقَطْ۔
5. And a surface is that which has length and breadth only.
ہ۔ وَالسَّطْحُ أَوِ الْبَسِيطُ عِظَمٌ لَهُ طُولٌ وَعَرْضٌ فَقَطْ
ϛʹ. ᾿Επιφανείας δὲ πέρατα γραμμαί.
 و۔ وَيَنْتَهِيْ بِالْخَطِّ۔
6. And the extremities of a surface are lines.
و۔ وَمَا كَانَ مِنْهُ مُتَنَاهِيًا إِنَّمَا يَنْتَهِي بِالْخَطِّ أَوِ النُّقْطَةِ۔
ζʹ. ᾿Επίπεδος ἐπιφάνειά ἐστιν, ἥτις ἐξ ἴσου ταῖς ἐφ᾿ ἑαυτῆς εὐθείαις κεῖται.
ز۔ وَالْمُسْتَوِيْ مِنْهُ هُوَ الَّذِيْ يَكُوْنُ وَضْعُهٗ عَلٰى أَنْ يَتَقَابَلَ أَيُّ خُطُوْطٍ تُفْرَضُ عَلَيْهِ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ۔
7. A plane surface is (any) one which lies evenly with the straight-lines on itself.
ز۔ وَالسَّطْحُ مُسْتَوٍ إِنْ كَانَتِ الْخُطُوطُ الْمُسْتَقِيمَةُ الْمَفْرُوضَةُ أَوِ الَّتِي يُمْكِنُ فَرْضُهَا عَلَيْهِ كَيْفَ كَانَ تَكُونُ بَعْضُهَا عَلَىٰ مُقَابَلَةِ الْبَعْضِ۔
ηʹ. ᾿Επίπεδος δὲ γωνία ἐστὶν ἡ ἐν ἐπιπέδῳ δύο γραμμῶν ἁπτομένων ἀλλήλων καὶ μὴ ἐπ᾿ εὐθείας κειμένων πρὸς ἀλλήλας τῶν γραμμῶν κλίσις.
ح۔ اَلزَّاوِيَةُ الْمُسَطَّحَةُ هِيَ الْمُنْحَدَبُ مِنَ السَّطْحِ الْوَاقِعِ بَيْنَ خَطَّيْنِ يَتَّصِلَانِ عَلٰى نُقْطَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَّحِدَا۔
8. And a plane angle is the inclination of the lines to one another, when two lines in a plane meet one another, and are not lying in a straight-line.
ح۔ وَمُحَدَّبٌ أَوْ مُقَعَّرٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ كَذٰلِكَ، وَيَشْمَلُهُمَا غَيْرُ الْمُسْتَوِي وَالزَّاوِيَةُ الْمُسَطَّحَةُ هِيَ انْفِرَاجُ أَحَدِ الْخَطَّيْنِ عَنِ الْآخَرِ الْكَائِنَيْنِ فِي السَّطْحِ الْمُتَّصِلَيْنِ عَلَىٰ نُقْطَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَّحِدَا خَطًّا وَاحِدًا۔
θʹ. ῞Οταν δὲ αἱ περιέχουσαι τὴν γωνίαν γραμμαὶ εὐθεῖαι ὦσιν, εὐθύγραμμος καλεῖται ἡ γωνία.
ط۔ فَمِنْهَا مُسْتَقِيْمَةُ الْخَطَّيْنِ وَغَيْرُهَا۔
9. And when the lines containing the angle are straight then the angle is called rectilinear.
ط۔ وَكُلٌّ مِنَ الْخَطَّيْنِ الْمُحِيطَيْنِ بِهَا إِنْ كَانَ مُسْتَقِيمًا فَهِيَ الْمُسْتَقِيمَةُ الْخَطَّيْنِ، وَإِلَّا فَهِيَ غَيْرُ مُسْتَقِيمَةِ الْخَطَّيْنِ؛ سَوَاءٌ كَانَ الْخَطَّانِ الْمُحِيطَانِ بِهَا اتَّفَقَ مُحَدَّبَاهُمَا أَوْ مُقَعَّرَاهُمَا فِي جِهَةٍ أَوِ اخْتَلَفَا، أَوْ كَانَ أَحَدُهُمَا مُسْتَقِيمًا وَالْآخَرُ مُنْحَنِيًا؛ مُحَدَّبُ الْمُنْحَنِي مَعَ الْمُسْتَقِيمِ أَوْ مُقَعَّرُهُ. وَهٰذِهٖ صُورَتُهَا؛ 

اَلْمُحَدَّبُ مَعَ الْمُحَدَّبِ، اَلْمُقَعَّرُ مَعَ الْمُقَعَّرِ، اَلْمُحَدَّبُ مَعَ الْمُقَعَّرِ، اَلْمُحَدَّبُ مَعَ الْمُسْتَقِيْمِ، اَلْمُقَعَّرُ مَعَ الْمُسْتَقِيْمِ

اُردو ترجمہ

اُصولِ اقلیدس؛ مقالہ اول (تعریفات)
١. نُقطہ وہ ہے جس کا کوئی حصہ (جُزو) نہ ہو۔
الف۔ نُقطہ وہ ہے جس کا کوئی جُز (حصہ) نہ ہو؛ یعنی وہ مقام و وضع رکھنے والی اشیاء میں سے ہے۔
١. نُقطہ وہ ہے جس کے اجزاء نہ ہوں یعنی جس کی کُچھ مقدار نہ ہو۔
الف۔ نقطہ وہ چیز ہے جو صاحبِ وضع (مقام رکھنے والی) ہو اور خارج میں تقسیم نہ ہو سکے؛ اور وضع سے مراد کسی چیز کا حسی اشارے کے قابل ہونا ہے۔
​٢. اور خط (لکیر) وہ لمبائی ہے جس کی کوئی چوڑائی (عرض) نہ ہو۔
ب۔ خط (لکیر) وہ طول (لمبائی) ہے جس کی کوئی چوڑائی نہ ہو۔
٢. خط نِرا طول ہے بغیر عرض کے۔
ب۔ اور خط (لکیر) وہ عِظم (بڑی مقدار/جسمانی بعد) ہے جس کا صرف طول (لمبائی) ہو۔
​٣. اور خط کے سرے (انتہا) نقطے ہوتے ہیں۔
​ج۔ اور وہ (خط) نقطہ پر ختم ہوتا ہے۔
٣. خط کی انتہاء پر نُقطہ ہوتا ہے اور اُس نقطے کو طرفِ خط کہتے ہیں۔ 
ج۔ اور ان میں سے جو متناہی (ختم ہونے والا) ہو، وہ نقطہ پر ختم ہوتا ہے۔اور عِظم وہ کمیت ہے جس کے اجزاء کسی حد یا حدود پر ایک دوسرے سے ملتے ہوں۔
​٤. خطِ مستقیم (سیدھی لکیر) وہ ہے جو اپنے اوپر موجود تمام نقطوں کی سیدھ میں برابر واقع ہو۔
د۔ اور ان (خطوط) میں سے مستقیم (سیدھا خط) وہ ہے جس کی وضع (بناوٹ) ایسی ہو کہ اس پر جتنے بھی (جزوی) خطوط فرض کیے جائیں، وہ ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے (منطبق) ہوں۔
٤. خطِ مستقیم اُس خط کو کہتے ہیں کہ اپنے نُقاطِ اطراف میں ہموار واقع ہو یعنی اونچا نیچا نہ ہو۔
د۔ اور خط اس وقت مستقیم (سیدھا) کہلاتا ہے جب اس پر فرض کیے گئے تمام نقاط ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے ہوں، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ 'منحنی' (ٹیڑھا) کہلاتا ہے۔
٥. اور سطح وہ ہے جس کی صرف لمبائی اور چوڑائی ہو۔
ہ۔ سطح یا بسیط وہ ہے جس کا صرف طول (لمبائی) اور عرض (چوڑائی) ہو۔
٥. بسیط یا سطح وہ ہے جس میں فقط طول اور عرض ہو۔
ہ۔ اور سطح یا بسیط وہ عِظم ہے جس کا صرف طول اور عرض (لمبائی اور چوڑائی) ہو۔
٦. اور سطح کے سرے (کنارے) خطوط ہوتے ہیں۔
​و۔ اور وہ (سطح) خط پر ختم ہوتی ہے۔
٦. سطح کی انتہاء پر خط ہوتا ہے اور اس خط کا نام طرفِ سطح ہے۔
و۔ اور ان میں سے جو متناہی ہو، وہ خط پر یا نقطہ پر ہی ختم ہوتا ہے۔
٧. سطحِ مستوی (ہموار سطح) وہ ہے جو اپنے اوپر موجود تمام خطوطِ مستقیم کی سیدھ میں برابر واقع ہو۔
ز۔  اور ان (سطوح) میں سے مستوی (ہموار سطح) وہ ہے جس کی وضع ایسی ہو کہ اس پر جتنے بھی (سیدھے) خطوط فرض کیے جائیں، وہ ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے (برابر) ہوں۔
٧. سطحِ مستوی وہ ہے کہ جس پر کوئی سے دو نُقطے مُقرر کریں تو اُن کے درمیان خطِ مُستقیم کھینچا گیا بالکل اُسی سطح میں واقع ہو کوئی جُزو اُس کا باہر سطح سے نہ نکل جائے۔
ز۔ اور سطح اس وقت مستوی (ہموار) ہوتی ہے جب اس پر (کسی بھی سمت میں) جو سیدھے خطوط فرض کیے گئے ہوں یا کیے جا سکتے ہوں، وہ ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے (برابر) ہوں۔
​٨. اور سطحی زاویہ، ایک سطح پر واقع ایسی دو لکیروں کا باہمی جھکاؤ ہے جو ایک دوسرے کو چھوتی ہوں مگر ایک ہی سیدھ میں واقع نہ ہوں۔
ح۔ سطحی زاویہ، سطح کا وہ میلان (جھکاؤ) ہے جو ایسے دو خطوں کے درمیان واقع ہو جو ایک نقطے پر آپس میں ملتے ہوں، بشرطیکہ وہ دونوں مل کر ایک نہ ہو جائیں۔
٨. ایک سطح میں دو خط باہم ملیں، مگر مل کر ایک خط نہ بن جائیں تو اُن میں سے ایک خط کو جو میلان دوسرے خط کے ساتھ ہوتا ہے اُسے زاویۂِ مسطحہ کہتے ہیں۔
ح۔ اور اگر وہ (سطح) ایسی (ہموار) نہ ہو تو وہ محدب (ابھری ہوئی) یا مقعر (دبی ہوئی) ہوگی، اور غیر مستوی ان دونوں کو شامل ہے۔ اور سطحی زاویہ ایک سطح پر واقع ان دو خطوں کے درمیان انفراج (پھیلاؤ) ہے جو ایک نقطے پر ملے ہوئے ہوں، بشرط یہ کہ وہ دونوں مل کر ایک ہی خط نہ بن جائیں۔
​٩. اور جب زاویے کا احاطہ کرنے والی لکیریں سیدھی (مستقیم) ہوں، تو وہ زاویہ مستقیم الخطین کہلاتا ہے۔
​ط۔ پس ان (زاویوں) میں سے کچھ مستقیم الخطین (سیدھے خطوں والے) ہیں اور کچھ ان کے علاوہ (منحنی خطوں والے) ہیں۔
٩. دو خطِ مستقیم باہم ملیں مگر مل کر ایک خطِ مستقیم نہ ہوجائیں تو اُن میں سے ایک خطِ مُستقیم کو جو میلان دوسرے خطِ مُستقیم کے ساتھ ہوتا ہے اُسے زاویۂِ مسطحۂِ مستقیمہ الخطین کہتے ہیں۔
​ط۔ اور اس زاویے کا احاطہ کرنے والے دونوں خطوط میں سے ہر ایک اگر سیدھا ہو تو وہ مستقیم الخطین ہیں، ورنہ (اُن میں سے ایک یا دونوں) غیر مستقیم الخطین ہوں گے۔ خواہ اس کا احاطہ کرنے والے دونوں منحنی خطوط کے ابھارے (محدب) یا گہرائیاں (مقعر) ایک ہی سمت میں ہوں یا مختلف سمتوں میں؛ یا ان میں سے ایک خط مستقیم ہو اور دوسرا منحنی، خواہ اس منحنی خط کا ابھرا ہوا حصہ خطِ مستقیم کے ساتھ ہو یا گہرا حصہ۔ اور یہ ان کی صورتیں (اشکال) ہیں۔ (پانچ مکمل اشکال اوپر دے دی گئی ہیں)۔
انتباہ
جب کئی زاویے کسی ایک نُقطہ مثلًا اب پر واقع ہوں تو اُن میں سے ہر ایک زاویہ تین حرفوں سے بیان کیا جاتا ہے اور ان حرفوں کے لکھنے کی ترکیب یہ ہے کہ زاویہ کے راس پر یعنی جس نُقطہ پر خطوطِ مستقیم زاویہ بنانے والے ملتے ہیں ایک حرف لکھا ہوا ہوتا ہے اُسے بیچ میں لکھتے ہیں اور اُس کے اِدھر اُدھر اُن دو حرفوں کو لکھتے ہیں جن میں سے ایک حرف تو ایک خط مستقیم کے کسی مقام پر مرقوم ہوتا ہے اور دوسرا حرف دوسرے خطِ مستقیم کے کسی مقام پر مثلًا زاویہ کہ مابین خطوطِ مستقیم اب اور س ب کے واقع ہے زاویہ اب س یا زاویہ س ب ا اور زاویہ کہ درمیانِ خطوطِ مستقیم اب اور دب کے واقع ہے زاویہ اب د یا دب ا اور زاویہ کہ خطوطِ مستقیم دب اور س ب کے مابین واقع ہے۔ زاویہ دب س یا س ب د کہلائے گا۔ لیکن اگر ایک نُقطہ پر ایک ہی زاویہ واقع ہے تو وہ زاویہ صرف ایک حرف سے جو اُس نُقطہ پر لکھا ہوا ہو تعبیر ہوگا جیسا کہ زاویہ ی کا ہے۔

ιʹ. ῞Οταν δὲ εὐθεῖα ἐπ᾿ εὐθεῖαν σταθεῖσα τὰς ἐφεξῆς γωνίας ἴσας ἀλλήλαις ποιῇ, ὀρθὴ ἑκατέρα τῶν ἴσων γωνιῶν ἐστι, καὶ ἡ ἐφεστηκυῖα εὐθεῖα κάθετος καλεῖται, ἐφ᾿ ἣν ἐφέστηκεν.
ي۔ وَالْقَائِمَةُ مِنَ الزَّوَايَا هِيَ إِحْدَى الْمُتَسَاوِيَتَيْنِ الْحَادِثَتَيْنِ عَنْ جَنْبَتَيْ خَطٍّ مُسْتَقِيمٍ قَامَ عَلَىٰ مِثْلِهٖ، وَيُسَمَّى الْقَائِمُ عَمُودًا۔
10. And when a straight-line stood upon (another) straight-line makes adjacent angles (which are) equal to one another, each of the equal angles is a right-angle, and the former straight-line is called a perpendicular to that upon which it stands.
ي۔ وَإِذَا قَامَ خَطٌّ مُسْتَقِيمٌ عَلَىٰ خَطٌّ مُسْتَقِيمٍ، بِحَيْثُ لَا مَيْلَ لَهُ إِلَىٰ أَحَدِ جَانِبَيْهِ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الزَّاوِيَتَيْنِ الْمُتَسَاوِيَتَيْنِ الْحَادِثَتَيْنِ عَلَىٰ جَنْبَيْهِ يُسَمَّىٰ قَائِمَةً، وَيُقَالُ لَهُمَا قَائِمَتَانِ، وَيُقَالُ إِنَّ كُلَّ خَطٍّ مِنَ الْخَطَّيْنِ عَمُودٌ عَلَىٰ صَاحِبِهٖ۔
ιαʹ. ᾿Αμβλεῖα γωνία ἐστὶν ἡ μείζων ὀρθῆς.
اي۔ وَالْحَادَّةُ هِيَ الَّتِي تَكُونُ أَصْغَرَ مِنْ قَائِمَةٍ۔
11. An obtuse angle is one greater than a right-angle.
اي۔ فَإِنْ مَالَ الْخَطُّ إِلَىٰ أَحَدِ جَانِبَيْهِ، حَدَثَتْ زَاوِيَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ، تُسَمَّىٰ الَّتِي فِي جِهَةِ الْمَيْلِ حَادَّةً 
ιβʹ. ᾿Οξεῖα δὲ ἡ ἐλάσσων ὀρθῆς.
ب ي۔ وَالْمُنْفَرِجَةُ هِيَ الَّتِي تَكُونُ أَكْبَرَ، سَوَاءً كَانَتَا مُسْتَقِيمَيِ ٱلْخَطَّيْنِ أَوْ لَيْسَتَا۔
12. And an acuteangle (is) one less than a right-angle.
ب ي۔ وَٱلْأُخْرَیٰ مُنْفَرِجَةً، وَھِيَ أَعْظَمُهُمَا، وَهٰذِهٖ صُورَتُهَا؛
كُلُّ خَطَّيْنِ مُسْتَقِيمَيْنِ كَائِنَيْنِ فِي سَطْحٍ مُسْتَوٍ، إِنْ أُخْرِجَا فِي جِهَتَيْهِمَا إِلَىٰ غَيْرِ النِّهَايَةِ، فَلَا يَخْلُو؛ إِمَّا أَنْ لَا يَتَلَاقَيَا أَوْ يَتَلَاقَيَا۔ فَالْأَوَّلَانِ يُقَالُ لَهُمَا الْمُتَوَازِيَانِ، وَالْآخَرَانِ يُقَالُ لَهُمَا الْمُنْسَامَتَانِ۔ وَأُنَبِّهُ عَلَىٰ أَنَّ الْقِسْمَةَ مُنْحَصِرَةٌ فِي هٰذَيْنِ الْقِسْمَيْنِ، إِنْ شَاءَ الـلّٰهُ تَعَالَىٰ۔ ثُمَّ الزَّاوِيَةُ بِحَسَبِ أَوْضَاعِهَا بَعْضُهَا عِنْدَ بَعْضٍ سِتَّةُ أَقْسَامٍ؛ مُتَقَابِلَتَانِ، وَمُتَبَادَلَتَانِ، وَمُتَلَاقِيَتَانِ، وَمُتَتَالِيَتَانِ، وَالدَّاخِلَتَانِ فِي جِهَةٍ، وَمُتَقَاطِعَتَانِ۔ لِيَكُنْ سَطْحُ ح د ہ ر الْمُتَقَابِلَيْنِ عَلَىٰ نُقْطَتَيْ ح ط، فَالْمُتَقَابِلَتَانِ عَلَىٰ ثَلَاثَةِ أَنْوَاعٍ؛ الْأُولَىٰ كَزَاوِيَتَيْ ر ح د، ر ہ د؛ وَالثَّالِثَةُ كَزَاوِيَتَيْ ا ح حـ، ا ط ر، وَيُسَمَّى الْآخِرَتَيْنِ بِالْخَارِجَةِ وَالدَّاخِلَةِ۔ وَالْمُتَبَادَلَتَانِ هِيَ كَزَاوِيَتَيْ حـ ح ط، ہ ط ح۔ وَالْمُتَلَاقِيَتَانِ هِيَ كُلُّ زَاوِيَتَيْنِ يَتَلَاقَيَانِ عَلَىٰ نُقْطَةٍ فَقَطْ كَزَاوِيَتَيْ حـ ح ط، ا ح د۔ وَالْمُتَتَالِيَتَانِ كَزَاوِيَتَيْ د ح ط، حـ ح ط۔ وَالدَّاخِلَتَانِ فِي جِهَةٍ وَاحِدَةٍ كَزَاوِيَتَيْ د ح ط، ہ ط ح۔ وَالْمُتَقَاطِعَتَانِ كَزَاوِيَتَيْ ا ب ح، د ب ہ، وَهٰذِهٖ صُوْرَتُهَا۔

ιγʹ. ῞Ορος ἐστίν, ὅ τινός ἐστι πέρας.
ج ي۔ اَلْحَدُّ؛ اَلنِّهَايَةُ
13. A boundary is that which is the extremity of something. 
 ج ي۔ وَتُسَمَّى النِّهَايَاتُ حُدُوْدًا۔
ιδʹ. Σχῆμά ἐστι τὸ ὑπό τινος ἤ τινων ὅρων περιεχόμενον.
د ي۔ وَالشَّكْلُ؛ مَا أَحَاطَ بِهِ حَدٌّ أَوْ حُدُودٌ۔
14. A figure is that which is contained by some boundary or boundaries.
د ي۔ وَالشَّكْلُ: مَا أَحَاطَ بِهِ حَدٌّ أَوْ حُدُوْدٌ۔
ιεʹ. Κύκλος ἐστὶ σχῆμα ἐπίπεδον ὑπὸ μιᾶς γραμμῆς περιεχόμενον [ἣ καλεῖται περιφέρεια], πρὸς ἣν ἀφ᾿ ἑνὸς σημείου τῶν ἐντὸς τοῦ σχήματος κειμένων πᾶσαι αἱ προσπίπτουσαι εὐθεῖαι [πρὸς τὴν τοῦ κύκλου περιφέρειαν] ἴσαι ἀλλήλαις εἰσίν.
ہ ي۔ اَلدَّائِرَةُ؛ شَكْلٌ مُسَطَّحٌ يُحِيطُ بِهِ خَطٌّ وَاحِدٌ، فِي دَاخِلِهِ نُقْطَةٌ تَتَسَاوَىٰ جَمِيعُ الْخُطُوطِ الْمُسْتَقِيمَةِ الْخَارِجَةِ مِنْهَا إِلَيْهِ، وَذٰلِكَ الْخَطُّ مُحِيطُهَا۔
15. A circle is a plane figure contained by a single line [which is called a circumference], (such that) all of the straight-lines radiating towards [the circumference] from one point amongst those lying inside the figure are equal to one another.
ہ ي۔ وَالدَّائِرَةُ؛ سَطْحٌ مُسْتَوٍ يُحِيْطُ بِهِ خَطٌّ وَاحِدٌ، يُمْكِنُ أَنْ يُفْرَضَ فِي دَاخِلِهِ نُقْطَةٌ، جَمِيْعُ الْخُطُوْطِ الْمُسْتَقِيْمَةِ الْخَارِجَةِ مِنْهَا إِلَى الْمُحِيْطِ مُتَسَاوِيَةٌ؛ فَالْخَطُّ يُسَمَّىٰ مُحِيْطَهَا۔
ιϛʹ. Κέντρον δὲ τοῦ κύκλου τὸ σημεῖον καλεῖται.
و ي۔ وَتِلْكَ النُّقْطَةُ مَرْكَزُهَا۔
16. And the point is called the center of the circle.
و ي۔ وَالنُّقْطَةُ مَرْكَزَهَا۔
ιζʹ. Διάμετρος δὲ τοῦ κύκλου ἐστὶν εὐθεῖά τις διὰ τοῦ κέντρου ἠγμένη καὶ περατουμένη ἐφ᾿ ἑκάτερα τὰ μέρη ὑπὸ τῆς τοῦ κύκλου περιφερείας, ἥτις καὶ δίχα τέμνει τὸν κύκλον.
ز ي۔ وَٱلْخَطُّ الْمُسْتَقِيمُ الْمَارُّ بِالْمَرْكَزِ الْمُنْتَهِي فِي جِهَتَيْهِ إِلَى الْمُحِيطِ قُطْرُهَا، وَهُوَ يُنَصِّفُ الدَّائِرَةَ، وَيُحِيطُ مَعَ نِصْفِ الْمُحِيطِ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ النِّصْفَيْنِ۔
17. And a diameter of the circle is any straight-line, being drawn through the center, and terminated in each direction by the circumference of the circle. (And) any such (straight-line) also cuts the circle in half.† {† This should really be counted as a postulate, rather than as part of a definition}. 
ز ي۔ وَالْخُطُوْطُ الْمُسْتَقِيْمَةُ الْخَارِجَةُ مِنْهَا إِلَى الْمُحِيْطِ أَنْصَافُ أَقْطَارِهَا، وَالْخَطُّ الْمُسْتَقِيْمُ الْمَارُّ بِالْمَرْكَزِ الْمُنْتَهِي فِي جِهَتَيْهِ إِلَى الْمُحِيْطِ قُطْرُهَا، وَهُوَ يُنَصِّفُهَا؛ وَهِيَ تَحْدُثُ مِنْ إِدَارَةِ خَطٍّ مُسْتَقِيْمٍ مَحْدُوْدٍ فِي سَطْحٍ مُسْتَوٍ حَتَّىٰ يَعُوْدَ إِلَىٰ وَضْعِهِ الْأَوَّلِ۔
ιηʹ. ῾Ημικύκλιον δέ ἐστι τὸ περιεχόμενον σχῆμα ὑπό τε τῆς διαμέτρου καὶ τῆς ἀπολαμβανομένης ὑπ᾿ αὐτῆς περιφερείας. κέντρον δὲ τοῦ ἡμικυκλίου τὸ αὐτό, ὃ καὶ τοῦ κύκλου ἐστίν.
ح ي۔ وَالَّذِي لَا يَمُرُّ بِهٖ، يُحِيطُ مَعَ قِسْمَيِ الْمُحِيطِ بِقِطْعَتَيْنِ؛ أَصْغَرَ وَأَكْبَرَ مِنَ النِّصْفِ۔
18. And a semi-circle is the figure contained by the diameter and the circumference cuts off by it. And the center of the semi-circle is the same (point) as (the center of) the circle.
ح ي۔ وَاسْتَبَانَ مِنْ هٰذَا؛ أَنَّ لَنَا أَنْ نَرْسُمَ عَلَىٰ أَيِّ نُقْطَةٍ وَبِأَيِّ بُعْدٍ دَائِرَةً۔ وَالنَّضَعْ لِبَيَانِ ذٰلِكَ دَائِرَةً مُحِيْطُهَا خَطُّ ا ب ج وَمَرْكَزُهَا نُقْطَةُ ہ وَقُطْرُهَا ا د ج فَأَقُوْلُ؛ إِنَّ خَطَّ ا ج يُنَصِّفُ الدَّائِرَةَ؛ لِأَنَّا إِذَا رَكَّبْنَا شَكْلَ ا د ج عَلَىٰ شَكْلِ ا ب ج، فَإِنَّ خَطَّ ا د ج يَنْطَبِقُ عَلَىٰ خَطِّ ا ب ج، وَإِلَّا يَقَعُ دَاخِلَهُ أَوْ خَارِجَهُ۔ وَأَيَّامَا كَانَ، فَنُخْرِجُ خَطَّ ھ ر الْمُسْتَقِيْمَ فَيَقْطَعُ الْخُطُوْطَ الثَّلَاثَةَ عَلَىٰ نُقَطِ ج ب ر؛ فَيَكُوْنُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ خَطَّيْ ھ ر، ھ ج كَخَطِّ ھ ب، فَيَصِيْرُ الْجُزْءُ مِثْلَ كُلِّهِ؛ هٰذَا خُلْفٌ۔ فَقُطْرُ ا ھ ج يُنَصِّفُ الدَّائِرَةَ، وَذٰلِكَ مَا أَرَدْنَا أَنْ نُبَيِّنَ۔ وَاسْتَبَانَ مِنْهُ؛ أَنَّ الزَّوَايَا الْأَرْبَعَ الَّتِي يُحِيْطُ بِكُلٍّ مِنْهَا الْقُطْرُ وَنِصْفُ الْمُحِيْطِ مُتَسَاوِيَةٌ۔ فَنِصْفُ الدَّائِرَةِ؛ شَكْلٌ مُسَطَّحٌ يُحِيطُ بِهٖ الْقُطْرُ وَنِصْفُ الْمُحِيطِ۔ وَكُلُّ خَطٍّ مُسْتَقِيْمٍ يَقْسِمُ الدَّائِرَةَ بِقِسْمَيْنِ يُسَمَّىٰ وَتَرًا، وَمَا أَفْرَزَ مِنَ الْمُحِيْطِ يُسَمَّىٰ قَوْسًا۔ فَقِطْعَةُ الدَّائِرَةِ؛ شَكْلٌ يُحِيْطُ بِهٖ خَطٌّ مُسْتَقِيْمٌ وَقَوْسٌ أَفْرَزَهَا الْخَطُّ مِنَ الْمُحِيْطِ؛ فَالْقِطْعَةُ الَّتِي فِيْهَا الْمَرْكَزُ أَعْظَمُهُمَا۔ وَلْيَقْطَعْ خَطُّ ا ج الْمُسْتَقِيْمُ دَائِرَةَ ا ب ج د، فَهُوَ وَتَرٌ لِكُلٍّ مِنْ قِطْعَتَيِ ا ب ج، ا د ج؛ وَهٰذِهٖ أَعْظَمُهُمَا لِأَنَّ فِيْهَا نُقْطَةَ ه الْمَرْكَزِ۔ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْ خَطَّيِ ا ب ج، ا د ج اللَّذَيْنِ أَفْرَزَهُمَا خَطُّ ا ج مِنَ الْمُحِيْطِ يُسَمَّىٰ قَوْسًا۔ وَيَقْطَعُ الدَّائِرَةَ ثُلُثُ النِّصْفِ؛ وَالَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنْهُ أَوْ أَصْغَرُ مِنْهُ۔ لَا يُحِيْطُ خَطَّانِ مُسْتَقِيْمَانِ بِسَطْحٍ۔ وَإِلَّا؛ فَلْيُحِيْطَا خَطَّا ا ب ج، ا د ج بِسَطْحِ ا ب ج د۔ فَنَرْسُمُ عَلَىٰ نُقْطَةِ ا وَبِبُعْدِ ا ج دَائِرَةَ ج ه؛ فَيَكُوْنَا زَاوِيَتَا ا ب ج ه، ا د ج ه مُتَسَاوِيَتَانِ بِالِاسْتِبَانَةِ، فَالْجُزْءُ يُسَاوِي كُلَّهُ؛ هٰذَا خُلْفٌ۔ وَذٰلِكَ مَا أَرَدْنَا أَنْ نُبَيِّنَ۔

اُردو ترجمہ
١٠. اور جب کوئی سیدھی لکیر کسی (دوسری) سیدھی لکیر پر اس طرح کھڑی ہو کہ وہ اپنے دونوں جانب بننے والے متصلہ زاویوں کو آپس میں برابر کر دے، تو ان برابر زاویوں میں سے ہر ایک زاویہ قائمہ کہلاتا ہے؛ اور وہ کھڑی لکیر اس لکیر کے لیے عمود  کہلاتی ہے جس پر وہ کھڑی کی گئی ہے۔
ي۔ اور زاویوں میں سے قائمہ ان دو برابر زاویوں میں سے ایک ہے جو کسی سیدھی لکیر کے اس وقت دونوں جانب پیدا ہوں جب وہ (بالکل سیدھی) اپنی جیسی دوسری لکیر پر کھڑی ہو؛ اور اس طرح کھڑی ہونے والی لکیر کو عمود کہا جاتا ہے۔
١٠۔ جب ایک خط مستقیم پر ایک خط مستقیم اس طرح سے قائم ہو کہ زاوئے متصلہ جو اسے اپنے پہلوؤں میں پیدا کئے ہیں آپس میں برابر ہوں تو ان زاویوں میں سے ہر ایک زاویے کو قائمہ کہتے ہیں اور خطِ مستقیم جو کھڑا ہے اُسے دوسرے خط مستقیم پر عمود کہتے ہیں۔
ي۔ اور جب ایک سیدھی لکیر کسی دوسری سیدھی لکیر پر اس طرح کھڑی ہو کہ اس کا کسی بھی جانب میلان (جھکاؤ) نہ ہو، تو اس کے دونوں اطراف پیدا ہونے والے ان دو برابر زاویوں میں سے ہر ایک کو قائمہ کہا جاتا ہے، اور ان دونوں کو دو زاویہ قائمہ کہتے ہیں؛ اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان دو لکیروں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی (دوسری لکیر) پر عمود ہے۔
١١. زاویہ منفرجہ وہ زاویہ ہے جو 'زاویہ قائمہ (°٩٠<) سے بڑا ہو
ا ي۔ اور زاویہ حادہ وہ ہے جو زاویہ قائمہ سے چھوٹا ہو۔
١١۔ زاویۂِ قائمہ سے جو زاویہ بڑا ہو اُسے زاویۂِ منفرجہ کہتے ہیں۔
ا ي۔ پس اگر لکیر کسی ایک جانب جھک جائے، تو دو مختلف زاویے پیدا ہوتے ہیں؛ اور جس سمت میں جھکاؤ ہو، اس طرف بننے والے زاویے کو حادہ کہا جاتا ہے۔
١٢. اور زاویہ حادہ وہ ہے جو زاویہ قائمہ (°۹۰>) سے چھوٹا ہو۔
ب ي۔ اور زاویۂِ منفرجہ وہ ہے جو (زاویہ قائمہ سے) بڑا ہو، خواہ وہ دونوں (زاویے بنانے والی لکیریں) سیدھی ہوں یا نہ ہوں۔
١٢۔ زاویۂِ قائمہ سے جو زاویہ چھوٹا ہو اسے زاویۂِ حادہ کہتے ہیں۔
ب ي۔ اور دوسری جانب بننے والا زاویہ منفرجہ کہلاتا ہے اور وہ ان دونوں میں سے بڑا ہوتا ہے، اور یہ اس کی صورت ہے۔ ایک ہموار سطح پر واقع کوئی سے دو سیدھے خطوط، اگر انہیں دونوں جانب لامتناہی طور پر بڑھایا جائے، تو دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں؛ یا تو وہ (آپس میں) نہیں ملیں گے یا مل جائیں گے۔ پہلی صورت (نہ ملنے والوں) کو متوازی کہا جاتا ہے، اور دوسری صورت (مل جانے والوں) کو منسامی (متلاقی) کہا جاتا ہے۔ اور میں اس بات پر متنبہ کرتا ہوں کہ (ان خطوط کی) تقسیم ان ہی دو قسموں میں منحصر ہے، ان شاء اللّٰہ تعالیٰ۔
​پھر زاویوں کی ایک دوسرے کے مقابلے میں پوزیشن (اوضاع) کے لحاظ سے چھ قسمیں ہیں؛ متقابلہ، متبادلہ، متلاقیہ، متتالیہ، داخلہ (جو ایک ہی سمت میں ہوں)، اور متقاطعہ۔
​فرض کریں کہ سطح ح د ہ ر پر دو بالمقابل خطوط ح اور ط نقاط پر (کسی خط سے کٹ رہے) ہیں، تو متقابلہ زاویے تین طرح کے ہیں؛ پہلے ر ح د اور ر ہ د جیسے زاویے؛ اور تیسری قسم ا ح حـ اور ا ط ر جیسے زاویے ہیں جنہیں خارجہ اور داخلہ کہا جاتا ہے۔ متبادلہ زاویے حـ ح ط اور ہ ط ح جیسے ہوتے ہیں۔ متلاقیہ وہ ہر دو زاویے ہیں جو صرف ایک ہی نقطے پر ملتے ہوں جیسے زاویہ حـ ح ط اور ا ح د۔ متتالیہ د ح ط اور حـ ح ط جیسے ہوتے ہیں۔ ایک ہی سمت میں واقع دو داخلی زاویے د ح ط اور ہ ط ح جیسے ہوتے ہیں۔ اور متقاطعہ ا ب ح اور د ب ہ جیسے ہوتے ہیں، اور یہ ان کی صورت ہے۔
١٣. حد وہ ہے جو کسی چیز کا انتہا (یا کنارہ) ہو۔
ج ي۔ حد؛ وہ ہے جو انتہا (یا کنارہ) ہو۔
١٣۔ حد کسی شے کی طرف کو کہتے ہیں۔
ج ي۔ اور (ان چیزوں کی) انتہاؤں (یا کناروں) کو حدود کہا جاتا ہے۔
١٤. شکل وہ ہے جو کسی ایک یا ایک سے زیادہ حدود کے درمیان گھری ہوئی ہو۔
د ي۔ اور شکل وہ ہے جس کا احاطہ کسی ایک حد یا (زیادہ) حدود نے کر رکھا ہو۔
١٤۔ شکل وہ ہے جسے کئی ایک حد یا کئی حدوں نے احاطہ کیا ہو۔
د ي۔ اور شکل وہ ہے جس کا احاطہ ایک حد یا (زائد) حدود نے کر رکھا ہو۔
١٥. دائرہ؛ وہ ہموار شکل ہے جس کا احاطہ ایک (ہی) لکیر نے کر رکھا ہو (جسے محیط کہا جاتا ہے)، اور اس شکل کے اندر واقع ایک (خاص) نقطے سے اس محیط کی طرف گرنے والے تمام سیدھے خطوط آپس میں برابر ہوں۔
ہ ي۔ دائرہ؛ وہ ہموار شکل ہے جس کا احاطہ ایک (ہی) لکیر نے کر رکھا ہو، جس کے اندر ایک ایسا نقطہ ہوتا ہے کہ وہاں سے (محیط کی) طرف نکلنے والے تمام سیدھے خطوط آپس میں برابر ہوتے ہیں، اور وہ (احاطہ کرنے والی) لکیر اس کا محیط کہلاتی ہے۔
١٥۔ دائرہ اُس سطح کو کہتے ہیں کہ جس کو ایک خط نے جس کا نام محیط ہے گھیرا ہو اور اُس کے بیچ میں ایک خاص نقطہ ایسا ہو کہ جتنے خطوطِ مستقیم اُس کے محیط تک پہنچیں وہ سب باہم متساوی ہوں۔
ہ ي۔ دائرہ؛ وہ ہموار سطح ہے جس کا احاطہ ایک (ہی) لکیر نے کر رکھا ہو، جس کے اندر ایک ایسا نقطہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ وہاں سے محیط کی طرف نکلنے والے تمام سیدھے خطوط برابر ہوں؛ پس وہ (احاطہ کرنے والی) لکیر اس کا محیط کہلاتی ہے۔
١٦. اور اس (دائرے کے اندرونی) نقطے کو مرکزِ دائرہ کہا جاتا ہے۔
و ي۔ اور وہ نقطہ اس کا مرکز کہلاتا ہے۔
١٦۔ اور اس خاص نُقطے کا نام مرکزِ دائرہ ہے۔
و ي۔ اور وہ نقطہ اس (دائرے) کا مرکز ہوتا ہے۔
١٧. اور دائرے کا قُطْر وہ سیدھا خط ہے جو مرکز سے گزرے اور اس کے دونوں سرے دائرے کے محیط پر ختم ہوتے ہوں، اور وہ (خط) دائرے کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔
ز ي۔ اور وہ سیدھا خط جو مرکز سے گزرے اور اپنے دونوں اطراف محیط تک پہنچ کر ختم ہو، دائرے کا قُطْر کہلاتا ہے؛ اور وہ دائرے کو نصف (دو برابر حصوں میں) تقسیم کرتا ہے، اور (یہی قُطْر) محیط کے آدھے حصے کے ساتھ مل کر ان دونوں میں سے ہر ایک نصف دائرے کا احاطہ کرتا ہے۔
١٧۔ قُطْر دائرہ کا وہ خطِ مستقیم ہے کہ مرکز پر سے گُزرے اور محیط پر دونوں طرف سے منتہی ہو۔
ز ي۔ اور وہ تمام سیدھے خطوط جو اس (مرکز) سے نکل کر محیط تک جائیں، اس کے انصافِ اقطار کہلاتے ہیں۔ اور وہ سیدھا خط جو مرکز سے گزرے اور اپنے دونوں سروں پر محیط تک جا کر ختم ہو، دائرے کا قُطْر کہلاتا ہے، اور وہ اسے (دو برابر حصوں میں) تقسیم کرتا ہے۔ اور یہ (دائرہ) ایک ہموار سطح پر ایک محدود سیدھے خط کو اس طرح گھمانے سے پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنی پہلی حالت (جگہ) پر واپس آ جائے۔
١٨. اور نصف دائرہ وہ شکل ہے جو قُطْر اور اس محیط کے درمیان گھری ہوئی ہو جو اس قُطْر سے کٹ کر الگ ہوا ہو۔ اور نصف دائرے کا مرکز وہی ہوتا ہے جو دائرے کا مرکز ہے۔
ح ي۔ اور وہ (خط) جو مرکز سے نہ گزرے، وہ محیط کے دو حصوں کے ساتھ مل کر دو قطعوں کا احاطہ کرتا ہے؛ جن میں سے ایک نصف دائرے سے چھوٹا اور دوسرا بڑا ہوتا ہے۔
١٨۔ نصف دائرہ وہ شکل ہے کہ مابین قُطْر اور اُس حصّۂِ مُحیط کے اس قطر سے قطع ہوا ہے واقع ہو۔
١٩. نصف دائرے کا مرکز اور دائرہ کا مرکز ایک ہی ہوتا ہے۔
ح ي۔ اور اس سے یہ واضح ہوا کہ ہم کسی بھی نقطے کو (مرکز مان کر) اور کسی بھی مقدار (رداس) کے فاصلے پر ایک دائرہ کھینچ سکتے ہیں۔ اور اس کی وضاحت کے لیے ہم ایک دائرہ فرض کرتے ہیں جس کا محیط ا ب ج لکیر ہے، اس کا مرکز نقطہ ہ ہے اور اس کا قطر ا د ج ہے۔
پس میں کہتا ہوں کہ خط ا ج دائرے کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے؛ کیونکہ اگر ہم شکل ا د ج کو شکل ا ب ج پر رکھیں، تو لکیر ا د ج بالکل لکیر ا ب ج کے اوپر آ جائے گی، ورنہ وہ اس کے اندر گرے گی یا باہر۔ اور ان میں سے جو بھی صورت ہو، ہم ایک سیدھا خط ہ ر نکالیں گے جو ان تینوں خطوط کو نقاط ج ب ر پر قطع کرے گا۔ ایسی صورت میں ہ ر اور ہ ج میں سے ہر ایک خط ہ ب کے برابر ہو جائے گا (کیونکہ یہ سب رداس ہیں)، یوں ایک جُزو اپنے کُل کے برابر ہو جائے گا؛ اور یہ محال (ناممکن) ہے۔ چنانچہ قُطْر ا ہ ج دائرے کو دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے، اور یہی وہ بات ہے جسے ہم ثابت کرنا چاہتے تھے۔ اور اسی سے یہ بھی واضح ہوا کہ وہ چاروں زاویے جن میں سے ہر ایک کا احاطہ قطر اور نصف محیط نے کر رکھا ہے، وہ آپس میں برابر ہیں۔ پس نصف دائرہ وہ ہموار شکل ہے جس کا احاطہ قطر اور نصف محیط نے کر رکھا ہو۔ اور ہر وہ سیدھی لکیر جو دائرے کو دو حصوں میں تقسیم کرے، وَتَر کہلاتی ہے، اور محیط کا وہ حصہ جو اس نے الگ کیا ہو قوس کہلاتا ہے۔ چنانچہ قطعہ دائرہ وہ شکل ہے جس کا احاطہ ایک سیدھی لکیر (وَتَر) اور اس قوس نے کر رکھا ہو جسے اس لکیر نے محیط سے الگ کیا ہے؛ پس وہ قطعہ جس میں مرکز واقع ہو، وہ دونوں میں سے بڑا ہوتا ہے۔
فرض کریں کہ سیدھی لکیر ا ج دائرہ ا ب ج د کو کاٹتی ہے، تو یہ لکیر دونوں قطعوں ا ب ج اور ا د ج کے لیے وتر ہے۔ ان میں سے ا د ج بڑا قطعہ ہے کیونکہ اس میں مرکز کا نقطہ ہ موجود ہے۔ اور ا ب ج اور ا د ج کی ان دونوں لکیروں میں سے ہر ایک، جسے خط ا ج نے محیط سے الگ کیا ہے، قوس کہلاتی ہے۔ اور (وَتَر) دائرے کو نصف کے تہائی حصے میں بھی کاٹتا ہے، اور اس (حصے) میں بھی جو اس سے بڑا یا چھوٹا ہو۔ دو سیدھی لکیریں کسی سطح کا احاطہ نہیں کر سکتیں (یعنی دو خطوط سے بند شکل نہیں بن سکتی)۔ ورنہ (بطورِ مفروضہ) ہم مان لیتے ہیں کہ دو خطوط ا ب ج اور ا د ج سطح ا ب ج د کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ اب ہم نقطہ ا کو مرکز مان کر اور ا ج کے فاصلے پر ایک دائرہ ج ہ کھینچتے ہیں؛ تو (سابقہ) وضاحت کے مطابق زاویہ ا ب ج ہ اور زاویہ ا د ج ہ برابر ہونے چاہئیں، یوں جُزو اپنے کُل کے برابر ہو جائے گا؛ اور یہ محال ہے۔ یہی وہ بات ہے جسے ہم بیان کرنا چاہتے تھے۔
ιθʹ. Σχήματα εὐθύγραμμά ἐστι τὰ ὑπὸ εὐθειῶν πε ριεχόμενα, τρίπλευρα μὲν τὰ ὑπὸ τριῶν, τετράπλευρα δὲ τὰ ὑπὸ τεσσάρων, πολύπλευρα δὲ τὰ ὑπὸ πλειόνων ἢ τεσσάρων εὐθειῶν περιεχόμενα.
ط ي۔ اَلْأَشْكَالُ الْمُسْتَقِيمَةُ الْأَضْلَاعِ؛ هِيَ الَّتِي يُحِيطُ بِهَا خُطُوطٌ مُسْتَقِيمَةٌ، وَأَوَّلُهَا الْمُثَلَّثُ؛ 
19. Rectilinear figures are those (figures) contained by straight-lines: trilateral figures being those contained by three straight-lines, quadrilateral by four, and multilateral by more than four.
ط ي۔ وَأَوَّلُ الْأَشْكَالِ الْمُسْتَقِيْمَةِ الْخُطُوْطِ؛ الْمُثَلَّثُ؛ وَهُوَ مَا يُحِيْطُ بِهِ ثَلَاثَةُ خُطُوْطٍ مُسْتَقِيْمَةٍ۔ثُمَّ ذُوْ الْأَرْبَعَةِ الْأَضْلَاعِ؛ وَهُوَ الَّذِي يُحِيْطُ بِهِ أَرْبَعَةُ خُطُوْطٍ مُسْتَقِيْمَةٍ۔ ثُمَّ ذُوْ الْأَضْلَاعِ الْخَمْسَةِ وَيُقَالُ لَهُ الْخَمْسُ، ثُمَّ الْمُسَدَّسُ، ثُمَّ السَّبْعُ، وَهَلُمَّ جَرًّا۔
κʹ. Τῶν δὲ τριπλεύρων σχημάτων ἰσόπλευρον μὲν τρίγωνόν ἐστι τὸ τὰς τρεῖς ἴσας ἔχον πλευράς, ἰσοσκελὲς δὲ τὸ τὰς δύο μόνας ἴσας ἔχον πλευράς, σκαληνὸν δὲ τὸ τὰς τρεῖς ἀνίσους ἔχον πλευράς.
ک۔ وَمِنْهُ؛ الْمُتَسَاوِي الْأَضْلَاعِ، وَالْمُتَسَاوِي السَّاقَيْنِ فَقَطْ، وَمُخْتَلِفُ الْأَضْلَاعِ۔ 
20. And of the trilateral figures: an equilateral triangle is that having three equal sides, an isosceles (triangle) that having only two equal sides, and a scalene (triangle) that having three unequal sides.
ک۔ أَمَّا الْمُثَلَّثُ؛ فَيَنْقَسِمُ إِلَىٰ سِتَّةِ أَقْسَامٍ بِحَسَبِ الْأَضْلَاعِ وَالزَّوَايَا؛ أَمَّا بِحَسَبِ الْأَضْلَاعِ فَاِنْ كَانَتْ مُتَسَاوِيَةً يُسَمَّىٰ مُتَسَاوِيَ الْأَضْلَاعِ، وَإِنْ كَانَ اثْنَانِ مِنْهَا فَقَطْ مُتَسَاوِيَيْنِ يُسَمَّىٰ مُتَسَاوِيَ السَّاقَيْنِ، وَإِلَّا يُسَمَّىٰ مُخْتَلِفَ الْأَضْلَاعِ۔ 
καʹ ῎Ετι δὲ τῶν τριπλεύρων σχημάτων ὀρθογώνιον μὲν τρίγωνόν ἐστι τὸ ἔχον ὀρθὴν γωνίαν, ἀμβλυγώνιον δὲ τὸ ἔχον ἀμβλεῖαν γωνίαν, ὀξυγώνιον δὲ τὸ τὰς τρεῖς ὀξείας ἔχον γωνίας.
ا ک۔ وَأَيْضًا مِنْهُ؛ الْقَائِمُ الزَّاوِيَةِ، وَالْمُنْفَرِجُ الزَّاوِيَةِ إِنْ وَقَعَتْ فِيهِ قَائِمَةٌ أَوْ مُنْفَرْجَةٌ، وَالْحَادُّ الزَّوَايَا إِنْ لَمْ تَقَعْ۔
21. And further of the trilateral figures: a right-angled triangle is that having a right-angle, an obtuse-angled (triangle) that having an obtuse angle, and an acuteangled (triangle) that having three acute angles.
ا ک۔ وَأَمَّا بِحَسَبِ الزَّوَايَا؛ يُسَمَّىٰ قَائِمَ الزَّاوِيَةِ إِنْ كَانَتْ زَاوِيَةٌ مِنْ زَوَايَاهُ فَقَطْ قَائِمَةً، وَيُسَمَّىٰ مُنْفَرِجَ الزَّاوِيَةِ إِنْ كَانَتْ زَاوِيَةٌ مِنْ زَوَايَاهُ فَقَطْ مُنْفَرِجَةً، وَيُسَمَّىٰ حَادَّ الزَّوَايَا إِنْ كَانَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ حَادَّةً۔
κβʹ. Τὼν δὲ τετραπλεύρων σχημάτων τετράγωνον μέν ἐστιν, ὃ ἰσόπλευρόν τέ ἐστι καὶ ὀρθογώνιον, ἑτερόμηκες δέ, ὃ ὀρθογώνιον μέν, οὐκ ἰσόπλευρον δέ, ῥόμβος δέ, ὃ ἰσόπλευρον μέν, οὐκ ὀρθογώνιον δέ, ῥομβοειδὲς δὲ τὸ τὰς ἀπεναντίον πλευράς τε καὶ γωνίας ἴσας ἀλλήλαις ἔχον, ὃ οὔτε ἰσόπλευρόν ἐστιν οὔτε ὀρθογώνιον· τὰ δὲ παρὰ ταῦτα τετράπλευρα τραπέζια καλείσθω.
ب ک۔ ثُمَّ ذُو الْأَرْبَعَةِ الْأَضْلَاعِ؛ وَمِنْهُ؛ الْمُرَبَّعُ، وَهُوَ الْمُتَسَاوِي الْأَضْلَاعِ الْقَائِمُ الزَّوَايَا۔ وَالْمُسْتَطِيلُ، وَهُوَ الْقَائِمُ الزَّوَايَا غَيْرُ مُتَسَاوِي الْأَضْلَاعِ۔ وَٱلْمُعَيَّنُ، وَهُوَ ٱلْمُتَسَاوِي الْأَضْلَاعِ غَيْرُ قَائِمِ الزَّوَايَا۔ وَالشَّبِيهُ بِالْمُعَيَّنِ، وَهُوَ الَّذِي لَا يَكُونُ أَضْلَاعُهُ مُتَسَاوِيَةً وَلَا زَوَايَاهُ قَائِمَةً، وَلٰكِنْ يَتَسَاوَى كُلُّ مُتَقَابِلَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهٖ وَزَوَايَاهُ۔ وَالْمُنْحَرِفُ؛ وَهُوَ مَا عَدَاهَا۔ وَمَا جَاوَزَ الْأَرْبَعَةَ فَهُوَ كَثِيرُ الْأَضْلَاعِ۔ 
22. And of the quadrilateral figures; a square is that which is right-angled and equilateral, a rectangle that which is right-angled but not equilateral, a rhombus that which is equilateral but not right-angled, and a rhomboid that having opposite sides and angles equal to one another which is neither right-angled nor equilateral. And let quadrilateral figures besides these be called trapezia.
ب ک۔ وَأَمَّا ذُوْ الْأَرْبَعَةِ الْأَضْلَاعِ؛ فَيَنْقَسِمُ إِلَىٰ قِسْمَيْنِ؛ أَحَدُهُمَا؛ أَنَّ كُلَّ مُتَقَابِلَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ مُتَوَازِيَيْنِ، وَالثَّانِيْ؛ لَا يَكُوْنُ كَذٰلِكَ۔ أَمَّا الْقِسْمُ الْأَوَّلُ؛ فَمِنْهُ الْمُرَبَّعُ؛ وَهُوَ الَّذِي كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ قَائِمَةٌ وَجَمِيْعُ أَضْلَاعِهِ مُتَسَاوِيَةٌ۔ وَمِنْهُ الْمُسْتَطِيْلُ؛ وَهُوَ كُلُّ شَكْلٍ ذِي أَرْبَعَةِ أَضْلَاعٍ كُلُّ مِنْ زَوَايَاهُ قَائِمَةٌ وَكُلُّ ضِلْعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهٖ الْمُتَقَابِلَيْنِ مُتَسَاوِيَانِ۔ وَمِنْهُ الْمُعَيَّنُ؛ وَهُوَ كُلُّ شَكْلٍ ذِي أَرْبَعَةِ أَضْلَاعٍ مُتَسَاوِيَةٍ، وَلَيْسَتْ زَاوِيَةٌ مِنْ زَوَايَاهُ قَائِمَةً، وَكُلُّ مُتَقَابِلَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ مُتَسَاوِيَانِ، وَكُلٌّ مِنْ زَوَايَاهُ الْمُتَقَابِلَةِ مُتَسَاوِيَةٌ۔ وَمِنْهُ الشَّبِيْهُ بِالْمُعَيَّنِ؛ وَهُوَ كُلُّ شَكْلٍ ذِي أَرْبَعَةِ أَضْلَاعٍ كُلُّ مُتَقَابِلَيْنِ مِنْهَا مُتَسَاوِيَانِ، وَلَيْسَتْ زَاوِيَةٌ مِنْ زَوَايَاهُ قَائِمَةً، وَالتَّقَابُلَتَيْنِ مِنْهَا مُتَسَاوِيَتَانِ؛ وَهٰذِهٖ صُوْرَتُهَا؛ 
وَأَمَّا الْقِسْمُ الثَّانِيْ؛ فَيَنْقَسِمُ إِلَىٰ الْقِسْمَيْنِ؛ أَحَدُهُمَا؛ أَنْ يَكُوْنَ ضِلْعَانِ مِنْ أَضْلَاعِهِ الْمُتَقَابِلَةِ مُتَوَازِيَيْنِ وَالضِّلْعَانِ الْبَاقِيَانِ مُتَلَاقِيَانِ بِالْقُوَّةِ۔ وَالثَّانِيْ؛ أَنْ لَا يُوْجَدَ ضِلْعَانِ مِنْ أَضْلَاعِهِ مُتَوَازِيَيْنِ۔ أَمَّا الْأَوَّلُ؛ فَهُوَ الْمُعَيَّنُ وَيُقَالُ لَهُ الْمُنْحَرِفُ، وَهُوَ عَلَىٰ ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ؛ أَحَدُهَا؛ أَنْ يَكُوْنَ ضِلْعَانِ مِنْ أَضْلَاعِهِ مُتَوَازِيَيْنِ وَضِلْعَانِ غَيْرُ مُتَوَازِيَيْنِ وَزَاوِيَتَانِ مِنْ زَوَايَاهُ قَائِمَتَانِ وَزَاوِيَةٌ مُنْفَرِجَةٌ وَالْأُخْرَىٰ حَادَّةٌ۔ وَالثَّانِيْ؛ أَنْ يَكُوْنَ ضِلْعَانِ مِنْ أَضْلَاعِهِ مُتَوَازِيَيْنِ وَزَاوِيَتَانِ مِنْ زَوَايَاهُ حَادَّتَانِ مُتَسَاوِيَتَانِ وَالْبَاقِيَتَانِ مُنْفَرِجَتَانِ مُتَسَاوِيَتَانِ۔ وَالثَّالِثُ؛ أَنْ يَكُوْنَ ضِلْعَانِ مِنْ أَضْلَاعِهِ مُتَوَازِيَيْنِ وَالْبَاقِيَيْنِ غَيْرُ مُتَوَازِيَيْنِ وَالزَّاوِيَتَانِ مِنْ زَوَايَاهُ مُنْفَرِجَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ وَالْبَاقِيَتَانِ حَادَّتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ؛ وَهٰذِهِ صُوْرَتُهَا۔ وَأَمَّا الثَّانِيْ؛ فَيُسَمَّىٰ الشَّبِيْهَ بِالْمُنْحَرِفِ، وَهٰذِهِ صُوْرَتُهُ۔
κγʹ. Παράλληλοί εἰσιν εὐθεῖαι, αἵτινες ἐν τῷ αὐτῷ ἐπιπέδῳ οὖσαι καὶ ἐκβαλλόμεναι εἰς ἄπειρον ἐφ᾿ ἑκάτερα τὰ μέρη ἐπὶ μηδέτερα συμπίπτουσιν ἀλλήλαις.
ج ک۔ اَلْمُتَوَازِيَةُ مِنَ الْخُطُوطِ؛ هِيَ الْمُسْتَقِيمَةُ الْكَائِنَةُ فِي سَطْحٍ مُسْتَوٍ، الَّتِي لَا تَتَلَافَىٰ وَإِنْ أُخْرِجَتْ فِي جِهَاتِهَا إِلَىٰ غَيْرِ النِّهَايَةِ۔
23. Parallel lines are straight-lines which, being in the same plane, and being produced to infinity in each direction, meet with one another in neither (of these directions).
اُردو ترجمہ
١٩. سیدھی لکیروں والی شکلیں وہ ہیں جن کا احاطہ سیدھے خطوط نے کر رکھا ہو؛ تین اضلاع والی وہ جن کا احاطہ تین لکیروں نے، چار اضلاع والی وہ جن کا احاطہ چار لکیروں نے، اور کثیر الاضلاع وہ شکلیں ہیں جن کا احاطہ چار سے زیادہ سیدھی لکیروں نے کر رکھا ہو۔
ط ي۔ سیدھے اضلاع والی شکلیں وہ ہیں جن کا احاطہ سیدھے خطوط نے کر رکھا ہو، اور ان میں سب سے پہلی (بنیادی) شکل مثلث ہے۔
٢٠. اشکال مستقیمہ الاضلاع وہ شکلیں ہیں جن کو خُطوطِ مستقیم نے گھیرا ہو۔
٢١. اشکال مثلثی یا ذوالثلاثہ الاضلاع وہ شکلیں ہیں جن کو تین خطوطِ مستقیم نے گھیرا ہو۔
٢٢. اشکال ذواربعہ الاضلاع وہ شکلیں ہیں جن کو چار خُطوطِ مستقیم نے گھیرا ہو۔
٢٣. اشکالِ کثیر الاضلاع وہ شکلیں ہیں جن کو چار سے زیادہ خُطوطِ مستقیم نے گھیرا ہو۔
ي۔ اور سیدھے خطوط والی شکلوں میں سب سے پہلی (بنیادی) شکل مثلث ہے؛ اور یہ وہ ہے جس کا احاطہ تین سیدھے خطوط نے کر رکھا ہو۔ پھر چار اضلاع والی شکل ہے؛ اور یہ وہ ہے جس کا احاطہ چار سیدھے خطوط نے کر رکھا ہو۔ پھر پانچ اضلاع والی شکل جسے مخمس کہا جاتا ہے، پھر مسدس، پھر مسبع، اور اسی طرح آگے (یہ سلسلہ چلتا رہتا) ہے۔
٢٠. تین اضلاع والی شکلوں میں سے مساوی الاضلاع وہ مثلث ہے جس کے تینوں اضلاع برابر ہوں، مساوی الساقین وہ جس کے صرف دو اضلاع برابر ہوں، اور مختلف الاضلاع وہ مثلث ہے جس کے تینوں اضلاع غیر مساوی (مختلف) ہوں۔
ک۔ اور اسی (مثلث) میں سے؛ مساوی الاضلاع، اور صرف مساوی الساقین، اور مختلف الاضلاع مثلثیں ہیں۔
٢٤. اشکالِ مثلثی میں مُثلث متساوی الاضلاع وہ ہے جس کے تینوں ضلعے آپس میں برابر ہوں۔
٢٥. مثلث متساوی الساقین وہ مثلث ہے جس کے دو ضلعے آپس میں متساوی ہوں۔
٢٦. مختلف الاضلاع وہ مثلث ہے جس کے تینوں ضلعے غیر متساوی ہوں۔
ک۔ جہاں تک مثلث کا تعلق ہے؛ تو اضلاع اور زاویوں کے لحاظ سے اس کی چھ اقسام بنتی ہیں۔ اضلاع کے اعتبار سے؛ اگر تمام اضلاع برابر ہوں تو اسے مساوی الاضلاع کہا جاتا ہے، اور اگر ان میں سے صرف دو اضلاع برابر ہوں تو اسے مساوی الساقین کہا جاتا ہے، ورنہ (اگر کوئی ضلع برابر نہ ہو تو) اسے مختلف الاضلاع کہا جاتا ہے۔
٢١. اور تین اضلاع والی شکلوں (مثلثوں) میں سے قائمۃ الزاویہ وہ مثلث ہے جس میں ایک زاویہ قائمہ ہو، منفرجۃ الزاویہ وہ جس میں ایک زاویہ منفرجہ ہو، اور حادۃ الزاویہ وہ مثلث ہے جس کے تینوں زاویے حادہ ہوں۔
ا ک۔ اور اسی طرح (زاویوں کے اعتبار سے) اس کی یہ اقسام ہیں؛ قائمۃ الزاویہ اور منفرجۃ الزاویہ اگر اس میں کوئی زاویہ قائمہ یا منفرجہ واقع ہو، اور حادۃ الزوايا اگر (ان میں سے کوئی زاویہ) واقع نہ ہو۔
٢٧. مثلث قائم الزاویہ وہ مثلث ہے جس کا ایک زاویہ قائمہ ہو۔
٢٨. مُثلث منفرج الزاویہ وہ مثلث ہے جس کا ایک زاویہ منفرجہ ہو۔
٢٩. مثلث حاد الزوایا وہ مثلث ہے جس کے تینوں زاویے حادے ہوں۔
ا ک۔ اور جہاں تک زاویوں کے لحاظ سے تقسیم ہے؛ تو اسے قائمۃ الزاویہ کہا جاتا ہے اگر اس کے زاویوں میں سے صرف ایک زاویہ قائمہ (°۹۰ کا) ہو، اور اسے منفرجۃ الزاویہ کہا جاتا ہے اگر اس کے زاویوں میں سے صرف ایک زاویہ منفرجہ (°۹۰ سے بڑا) ہو، اور اسے حادۃ الزوایا کہا جاتا ہے اگر اس کا ہر ایک زاویہ حادہ (°۹۰ چھوٹا) ہو۔
٢٢. اور چار اضلاع والی شکلوں میں سے مربع وہ ہے جو مساوی الاضلاع بھی ہو اور قائمۃ الزاویہ (جس کے تمام زاویے °۹۰ ہوں) بھی؛ مستطیل وہ ہے جو قائمۃ الزاویہ تو ہو لیکن مساوی الاضلاع نہ ہو؛ معین وہ ہے جو مساوی الاضلاع تو ہو لیکن قائمۃ الزاویہ نہ ہو؛ اور شبیہ بمعین وہ ہے جس کے صرف آمنے سامنے کے اضلاع اور زاویے آپس میں برابر ہوں، مگر وہ نہ تو (تمام اضلاع کے لحاظ سے) مساوی الاضلاع ہو اور نہ ہی قائمۃ الزاویہ؛ اور ان کے علاوہ باقی تمام چار اضلاع والی شکلوں کو ذوزنقہ کہا جاتا ہے۔
ب ک۔ پھر چار اضلاع والی شکل ہے؛ اور اس میں سے؛ مربع ہے، اور یہ وہ ہے جو مساوی الاضلاع اور قائمۃ الزوايا ہو؛ اور مستطیل ہے، اور یہ وہ ہے جو قائمۃ الزوايا تو ہو لیکن اس کے تمام اضلاع برابر نہ ہوں؛ اور معین ہے، اور یہ وہ ہے جو مساوی الاضلاع تو ہو لیکن قائمۃ الزوايا نہ ہو؛ اور شبیہ بمعین ہے، اور یہ وہ ہے جس کے نہ تو تمام اضلاع برابر ہوں اور نہ ہی زاویے قائمہ ہوں، لیکن اس کے آمنے سامنے کے تمام اضلاع اور زاویے آپس میں برابر ہوں؛ اور منحرف وہ ہے جو ان کے علاوہ ہو؛ اور جو شکل چار سے تجاوز کر جائے وہ کثیر الاضلاع کہلاتی ہے۔
٣٠. ذوالاربعہ اضلاع شکلوں یعنی چار ضلعوں کی شکلوں میں سے مُربع وہ شکل ہے جس کے چاروں ضلعے آپس میں متساوی ہوں اور چاروں زاویے قائمے ہوں۔
٣١. مُستطیل وہ ہے جس کے زاویے قائمے ہوں مگر سب اضلاع اس کے مساوی نہ ہوں۔
٣٢. متوازی الاضلاع وہ شکل ہے جس کے مقابل کے ضلعے متوازی ہوں اور قُطْر یا وَتَر متوازی الاضلاع کا وہ خطِ مستقیم ہے کہ مقابل کے زاویوں میں ملایا جائے۔
٣٣. معین وہ شکل ہے کہ جس کے سب ضلعے آپس میں مساوی ہوں مگر زاویے اس کے قائمے نہ ہوں۔
٣٤. شبیہ بالمعین وہ شکل ہے جس کے مقابل کے ضلعے آپس میں برابر ہوں لیکن نہ اُس کے سب ضلعے آپس میں برابر ہوں اور نہ اُس کے زاویے قائمے ہوں۔
٣٥. سوا ان شکلوں کے ہر ذوالاربعہ الاضلاع منحرف کہلاتی ہے۔
ب ک۔ اور جہاں تک چار اضلاع والی شکل کا تعلق ہے، تو وہ دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہے؛ پہلی یہ کہ اس کے تمام آمنے سامنے کے اضلاع متوازی ہوں، اور دوسری یہ کہ ایسا نہ ہو۔ ​پہلی قسم میں سے مربع ہے؛ اور یہ وہ شکل ہے جس کا ہر زاویہ قائمہ ہو اور تمام اضلاع برابر ہوں۔ اور اسی میں سے مستطیل ہے؛ اور یہ ہر وہ چار اضلاع والی شکل ہے جس کا ہر زاویہ قائمہ ہو اور ہر دو آمنے سامنے کے اضلاع برابر ہوں۔ اور اسی میں سے معین ہے؛ اور یہ ہر وہ چار اضلاع والی شکل ہے جس کے تمام اضلاع برابر ہوں، لیکن اس کا کوئی زاویہ قائمہ نہ ہو، اور اس کے تمام آمنے سامنے کے اضلاع (متوازی و) برابر ہوں اور آمنے سامنے کے زاویے بھی برابر ہوں۔ اور اسی میں سے شبیہ بمعین ہے؛ اور یہ ہر وہ چار اضلاع والی شکل ہے جس کے آمنے سامنے کے اضلاع برابر ہوں، اس کا کوئی زاویہ قائمہ نہ ہو، اور اس کے آمنے سامنے کے (زاویے) برابر ہوں ​اور جہاں تک دوسری قسم کا تعلق ہے؛ تو وہ (مزید) دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہے؛ ایک یہ کہ اس کے آمنے سامنے کے اضلاع میں سے دو اضلاع متوازی ہوں اور باقی دو اضلاع (آگے بڑھانے پر) مل جانے کی قوت رکھتے ہوں (یعنی متوازی نہ ہوں)۔ اور دوسری یہ کہ اس کے اضلاع میں سے کوئی سے دو اضلاع بھی متوازی نہ ہوں۔ ​پہلی صورت معین (بمعنی خاص شکل) ہے جسے منحرف کہا جاتا ہے، اور اس کی تین اقسام ہیں: پہلی یہ کہ اس کے دو اضلاع متوازی ہوں، دو غیر متوازی ہوں، اور اس کے زاوئیوں میں سے دو زاویے قائمہ ہوں، ایک منفرجہ ہو اور دوسرا حادہ ہو۔ دوسری یہ کہ اس کے دو اضلاع متوازی ہوں اور اس کے زاوئیوں میں سے دو زاویے حادہ اور برابر ہوں، اور باقی دو منفرجہ اور برابر ہوں۔ اور تیسری یہ کہ اس کے دو اضلاع متوازی ہوں اور باقی دو غیر متوازی ہوں، اور اس کے زاویوں میں سے دو منفرجہ اور مختلف ہوں اور باقی دو حادہ اور مختلف ہوں۔
​اور جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے (جس کا کوئی ضلع متوازی نہ ہو)؛ تو اسے شبیہ بمنحرف کہا جاتا ہے۔
٢٣. متوازی وہ سیدھے خُطُوط ہیں جو ایک ہی سطح پر واقع ہوں اور دونوں اطراف میں لامتناہی حد تک بڑھائے جانے کے باوجود کسی بھی طرف ایک دوسرے سے نہ ملیں۔
ج ک۔ متوازی خطوط وہ سیدھے خطوط ہیں جو ایک ہی ہموار سطح پر واقع ہوں، اور وہ ایک دوسرے سے نہیں ملتے خواہ انہیں دونوں اطراف میں لامتناہی حد تک بڑھا دیا جائے۔
٣٦. خطوط مستقیم متوازیہ وہ خطوطِ مستقیم ایک سطح میں ہوتے ہیں کہ اُن کو سیدھا جہاں تک چاہیں دونوں طرف کھینچیں تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے نہ ملیں۔
ج ک۔ نُکتہ ۱۲ میں متوازی اور منسامی خطوط کا بیان ہوگیا ہے۔
Αἰτήματα
اَلْأُصُولُ الْمَوْضُوعَةُ
Postulates
اَلْأُصُولُ الْمَوْضُوعَةُ
أَقُولُ؛ مِنَ الْوَاجِبِ أَوَّلًا أَنْ يُوضَعَ أَنَّ النُّقْطَةَ، وَالْخَطَّ، وَالسَّطْحَ، وَالْمُسْتَقِيمَ، وَالْمُسْتَوِيَ مِنْهُمَا، وَٱلدَّائِرَةَ مَوْجُودَةٌ. وَأَنَّ لَنَا أَنْ نُعَيِّنَ نُقْطَةً عَلَى أَيِّ خَطٍّ أَوْ سَطْحٍ كَانَ، وَأَنْ نَفْرِضَ خَطًّا عَلَى أَيِّ سَطْحٍ كَانَ أَوْ مَارًّا بِنُقْطَةٍ كَيْفَ اتَّفَقَ. وَأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَ النُّقْطَةِ، وَالْخَطِّ الْمُسْتَقِيمِ، وَالسَّطْحِ ٱلْمُسْتَوِي يَنْطَبِقُ عَلَى مِثْلِهٖ. وَأَنَّ الْفَصْلَ الْمُشْتَرَکَ بَيْنَ كُلِّ خَطَّيْنِ نُقْطَةٌ، وَبَيْنَ كُلِّ سَطْحَيْنِ خَطٌّ۔ وَأَنْ تُوضَعَ الْمُقَدِّمَاتُ الْمَذْكُورَةُ فِي الْأَصْلِ وَهِيَ هٰذِهٖ؛ 
وَأَمَّا الْأُصُولُ الْمَوْضُوعَةُ؛ فَقَدْ تَبَيَّنَ فِي الْعِلْمِ الْإِلٰهِيِّ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنَ النُّقْطَةِ، وَالْخَطِّ الْمُسْتَقِيمِ، وَالْمُسْتَدِيرِ، وَالسَّطْحِ الْمُسْتَوِي، وَالْمُسْتَدِيرِ مَوْجُودٌ؛ لِاسْتِلْزَامِ وُجُودِ الْكُرَةِ الْمُتَحَرِّكَةِ إِيَّاهَا، وَهُوَ مُحَدِّدُ الْجِهَاتِ وُجُودُهَا. وَالْفَصْلُ الْمُشْتَرَکُ مِنْ كُلِّ خَطَّيْنِ نُقْطَةٌ؛ لِأَنَّهَا نِهَايَةُ كُلٍّ مِنْهُمَا. وَبَيْنَ كُلِّ سَطْحَيْنِ خَطٌّ؛ لِأَنَّهَا نِهَايَةُ كُلٍّ مِنْهُمَا. لَنَا أَنْ نَفْرِضَ عَلَى كُلِّ خَطٍّ وَسَطْحٍ كَانَ نُقْطَةً؛ لِأَنَّهُ مُنْتَهَى الْإِشَارَةِ الْحِسِّيَّةِ۔
αʹ. ᾿Ηιτήσθω ἀπὸ παντὸς σημείου ἐπὶ πᾶν σημεῖον εὐθεῖαν γραμμὴν ἀγαγεῖν.
الف. لَنَا أَنْ نَصِلَ خَطًّا مُسْتَقِيمًا بَيْنَ كُلِّ نُقْطَتَيْنِ۔
1. Let it have been postulated † to draw a straight-line from any point to any point.
الف. وَلَنَا أَنْ نَصِلَ بَيْنَ كُلِّ نُقْطَتَيْنِ بِخَطٍّ مُسْتَقِيمٍ كَانَ أَوْ غَيْرِهٖ۔ كُلُّ نُقْطَتَيْنِ لَنَا أَنْ نَفْرِضَ بَيْنَهُمَا نُقَطًا عَلَىٰ سَمْتِهِمَا، وَنَفْرِضَ أَنْ يَنْطَبِقَ عَلَىٰ أَحَدِ النُّقْطَتَيْنِ نُقْطَةٌ وَنُسَيِّرَهَا إِلَى النُّقْطَةِ الْأُخْرَىٰ بِحَيْثُ تَجْتَازُ عَلَى النُّقَطِ الْمَفْرُوضَةِ عَلَيْهِمَا مُسَامِتَةً إِيَّاهُمَا فِي جَمِيعِ زَمَانِ حَرَكَتِهَا إِلَىٰ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى النُّقْطَةِ الْأُخْرَىٰ؛ فَمَيْسَرُ كُلِّ نُقْطَةٍ خَطٌّ مُسْتَقِيمٌ لِأَنَّهُ طُولٌ وَلَا عَرْضَ لَهُ، وَالنُّقْطَةُ الَّتِي تُفْرَضُ عَلَيْهِ بَعْضُهَا عَلَىٰ مُقَابَلَةِ بَعْضٍ۔ 
وَاسْتَبَانَ مِنْهُ أَنَّ لَنَا أَنْ نَفْرِضَ خَطًّا مَارًّا بِأَيِّ نُقْطَةٍ تُفْرَضُ۔ وَلَا يُمْكِنُ أَنْ يَتَّصِلَ خَطَّانِ مُسْتَقِيمَانِ بِخَطٍّ مُسْتَقِيمٍ فِي جِهَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ إِحْدَىٰ نِهَايَتَيْهِ كُلٌّ مِنْهُمَا عَلَىٰ اسْتِقَامَتِهِ بِحَيْثُ يَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مَعَهُ خَطًّا مُسْتَقِيمًا۔ ​وَإِلَّا؛ فَلْيَكُنِ الْخَطُّ الْمُسْتَقِيمُ اب، وَالْمُتَّصِلُ بِهِ عَلَىٰ اسْتِقَامَتِهِ خَطُّ ب ح۔ وَنَرْسُمُ عَلَىٰ نُقْطَةِ ب وَبِبُعْدِ أَقْصَرِ خَطٍّ مِنَ الْخُطُوطِ ا ب ب ح ب د دَائِرَةَ ا ح د وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْ خَطَّيْ ا ب ح، ا ب د خَطٌّ مُسْتَقِيمٌ مَارٌّ بِمَرْكَزِ الدَّائِرَةِ مُنْتَهٍ فِي جِهَتَيْهِ إِلَى الْمُحِيطِ؛ وَكُلٌّ مِنْهُمَا قُطْرُ دَائِرَةِ ا ح د فَلِدَائِرَةٍ وَاحِدَةٍ نِصْفَانِ أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ؛ هٰذَا خُلْفٌ۔ وَذٰلِكَ مَا أَرَدْنَا أَنْ نُبَيِّنَ۔
βʹ. Καὶ πεπερασμένην εὐθεῖαν κατὰ τὸ συνεχὲς ἐπ᾿ εὐθείας ἐκβαλεῖν.
ب. وَأَنْ نُخْرِجَ خَطًّا مُسْتَقِيمًا مَحْدُودًا عَلَى الِاسْتِقَامَةِ۔
2. And to produce a finite straight-line continuously in a straight-line.
ب. لَنَا أَنْ نُخْرِجَ خَطًّا مُسْتَقِيمًا ذَا نِهَايَةٍ عَلَىٰ اسْتِقَامَتِهِ إِلَىٰ أَيِّ حَدٍّ شِئْنَا فِي جِهَتَيْهِ؛ لِأَنَّا لَوْ فَرَضْنَا نُقْطَةً عَلَى الْخَطِّ كَانَتْ مَعَ نُقْطَةِ النِّهَايَةِ عَلَىٰ سَمْتٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ نَفْرِضُ نُقَطًا كَمْ شِئْنَا عَلَىٰ سَمْتِ النُّقْطَتَيْنِ الْمَفْرُوضَتَيْنِ، وَنَفْرِضُ انْطِبَاقَ نُقْطَةٍ عَلَى النُّقْطَةِ الْمَفْرُوضَةِ أَوَّلًا وَنُسَيِّرَهَا بِحَيْثُ تَتَجَاوَزُ عَلَى النُّقَطِ الْمَفْرُوضَةِ فَمَيْسَرُهَا خَطٌّ مُسْتَقِيمٌ۔
​وَالْخُطُوطُ الْمُسْتَقِيمَةُ وَالسُّطُوحُ الْمُسْتَوِيَةُ يَنْطَبِقُ كُلٌّ عَلَىٰ مِثْلِهٖ۔ كُلُّ زَاوِيَةٍ قَائِمَةٍ مُسْتَقِيمَةِ الْخَطَّيْنِ فِيهِ مُتَسَاوِيَةٌ لِكُلِّ زَاوِيَةٍ قَائِمَةٍ مُسْتَقِيمَةِ الْخَطَّيْنِ غَيْرِهَا۔
​لِيَكُنْ كُلٌّ مِنْ زَاوِيَتَيْ ا ب ح وَ د ه ر قَائِمَةً؛ وَنَفْرِضُ انْطِبَاقَ ه عَلَىٰ نُقْطَةِ ب بِحَيْثُ يَنْطَبِقُ خَطُّ د ه عَلَىٰ خَطِّ ب ح، فَقَدْ حَقَّ الْخَبَرُ. وَإِلَّا؛ فَلْيَقَعْ فِيمَا بَيْنَ خَطَّيْ ا ب، ب ح كَخَطِّ ب ح۔ وَنُخْرِجُ ا ب عَلَىٰ اسْتِقَامَتِهِ فِي جِهَةِ ب عَلَىٰ خَطِّ ا ب ط۔ وَزَاوِيَةُ ا ب ح قَائِمَةٌ، فَزَاوِيَةُ ح ب ط أَيْضًا قَائِمَةٌ؛ إِذْ لَا مَيْلَ لِخَطِّ ب ح إِلَىٰ إِحْدَىٰ جِهَتَيْ ا ط۔ وَلِأَنَّ خَطَّ ب ح وَقَعَ عَلَىٰ خَطِّ ا ط وَحَدَثَ عَنْ إِحْدَىٰ جَانِبَيْهِ زَاوِيَةُ ا ب ح الْقَائِمَةُ، فَلَا مَيْلَ لَهُ إِلَىٰ إِحْدَىٰ جِهَتَيْ ا ط، وَإِلَّا لَكَانَتْ زَاوِيَةُ ا ب ح حَادَّةً أَوْ مُنْفَرِجَةً وَهِيَ قَائِمَةٌ؛ هٰذَا خُلْفٌ۔ فَزَاوِيَةُ ا ب ح تُسَاوِي زَاوِيَةُ ح ب ط لٰكِنْ زَاوِيَةُ ا ب ح أَصْغَرُ مِنْ زَاوِيَةِ ا ب ح فَهِيَ أَصْغَرَ مِنْ زَاوِيَةِ ح ب ط الْمُسَاوِيَةِ لِزَاوِيَةِ ا ب ح، فَيَصِيرُ الْكُلُّ أَصْغَرَ مِنْ جُزْئِهٖ؛ هٰذَا خُلْفٌ۔ فَالْحُكْمُ ثَابِتٌ وَذٰلِكَ مَا أَرَدْنَا أَنْ نُبَيِّنَ۔
γʹ. Καὶ παντὶ κέντρῳ καὶ διαστήματι κύκλον γράφεσθαι.
ج. وَأَنْ نَرْسُمَ عَلَى كُلِّ نُقْطَةٍ وَبِأَيِّ بُعْدٍ دَائِرَةً۔
3. And to draw a circle with any center and radius.
δʹ. Καὶ πάσας τὰς ὀρθὰς γωνίας ἴσας ἀλλήλαις εἶναι.
د. الزَّوَايَا الْقَائِمَةُ مُتَسَاوِيَةٌ جَمِيعًا۔
4. And that all right-angles are equal to one another.
εʹ. Καὶ ἐὰν εἰς δύο εὐθείας εὐθεῖα ἐμπίπτουσα τὰς ἐντὸς καὶ ἐπὶ τὰ αὐτὰ μέρη γωνίας δύο ὀρθῶν ἐλάσσονας ποιῇ, ἐκβαλλομένας τὰς δύο εὐθείας ἐπ᾿ ἄπειρον συμπίπτειν, ἐφ᾿ ἃ μέρη εἰσὶν αἱ τῶν δύο ὀρθῶν ἐλάσσονες.
ه. لَا يُحِيطُ خَطَّانِ مُسْتَقِيمَانِ بِسَطْحٍ۔
كُلُّ خَطَّيْنِ مُسْتَقِيمَيْنِ وَقَعَ عَلَيْهِمَا خَطٌّ مُسْتَقِيمٌ وَكَانَتِ الزَّاوِيَتَانِ الدَّاخِلَتَانِ فِي إِحْدَى الْجِهَتَيْنِ أَصْغَرَ مِنْ قَائِمَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَلْتَقِيَانِ فِي تِلْكَ الْجِهَةِ إِنْ أُخْرِجَا. فَهٰذَا مَا ذُكِرَ فِي الْأَصْلِ۔
أَقُولُ؛ الْقَضِيَّةُ الْأَخِيرَةُ لَيْسَتْ مِنَ الْعُلُومِ الْمُتَعَارَفَةِ، وَلَا مِمَّا يَنْضَحُ فِي غَيْرِ عِلْمِ الْهَنْدَسَةِ، فَإِذَنْ الْأَوْلَىٰ بِهَا أَنْ تُرَتَّبَ فِي الْمَسَائِلِ دُونَ الْمُصَادَرَاتِ. وَأَنَا سَأُوَضِّحُهَا فِي مَوْضِعٍ يَلِيقُ بِهَا، وَوَضَعْتُ بَدَلَهَا قَضِيَّةً أُخْرَىٰ؛ هِيَ أَنَّ الْخُطُوطَ الْمُسْتَقِيمَةَ الْكَائِنَةَ فِي سَطْحٍ مُسْتَوٍ إِنْ كَانَتْ مَوْضُوعَةً عَلَى التَّبَاعُدِ فِي جِهَةٍ فَهِيَ لَا تَكُونُ مَوْضُوعَةً عَلَى التَّقَارُبِ فِي تِلْكَ الْجِهَةِ بِعَيْنِهَا وَبِالْعَكْسِ، إِلَّا أَنْ يَتَقَاطَعَا۔
​وَاسْتُعْمِلَ فِي بَيَانِهَا قَضِيَّةٌ أُخْرَىٰ قَدِ اسْتَعْمَلَهَا أَقْلِيدِسُ فِي الْمَقَالَةِ الْعَاشِرَةِ وَغَيْرِهَا، وَهِيَ أَنَّ كُلَّ مِقْدَارَيْنِ مَحْدُودَيْنِ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ فَإِنَّ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا يَصِيرُ بِالتَّضْعِيفِ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَىٰ أَعْظَمَ مِنَ الْأَعْظَمِ. وَمِمَّا يَجِبُ أَيْضًا أَنْ يُوضَعَ أَنَّ الْخَطَّ الْمُسْتَقِيمَ الْوَاحِدَ لَا يَتَّصِلُ عَلَى الِاسْتِقَامَةِ بِأَكْثَرَ مِنْ خَطٍّ وَاحِدٍ مُسْتَقِيمٍ غَيْرِ مُسَامَةٍ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ، وَأَنَّ الزَّاوِيَةَ الْمُسَاوِيَةَ لِلْقَائِمَةِ قَائِمَةٌ۔
5. And that if a straight-line falling across two (other) straight-lines makes internal angles on the same side (of itself whose sum is) less than two right-angles, then the two (other) straight-lines, being produced to infinity, meet on that side (of the original straight-line) that the (sum of the internal angles) is less than two right-angles (and do not meet on the other side).‡
† The Greek present perfect tense indicates a past action with present significance. Hence, the 3rd-person present perfect imperative >Hit sjw could be translated as “let it be postulated”, in the sense “let it stand as postulated”, but not “let the postulate be now brought forward”. The literal translation “let it have been postulated” sounds awkward in English, but more accurately captures the meaning of the Greek. 
‡ This postulate effectively specifies that we are dealing with the geometry of flat, rather than curved, space.
ج. ​كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ مَقَادِيرَ يُزَادُ بِازْدِيَادِ أَجْزَائِهٖ؛ فَلَوْ كَانَتْ أَجْزَاءُ مِقْدَارٍ وَاحِدٍ غَيْرَ مُتَنَاهِيَةِ الْعَدَدِ (لَاسْتَحَالَ حَصْرُهُ). فَكُلُّ مِقْدَارَيْنِ مَحْدُودَيْنِ مِنْ جِنْسٍ وَاحِدٍ مُخْتَلِفَيْنِ بِالْعِظَمِ وَالصِّغَرِ؛ فَالْعَظِيمُ إِمَّا مِثْلُ الصَّغِيرِ وَمِثْلُ فَضْلَةٍ هِيَ أَصْغَرُ مِنَ الصَّغِيرِ، وَإِمَّا أَضْعَافُ الصَّغِيرِ أَوْ أَضْعَافُهُ مَعَ فَضْلَةٍ هِيَ أَصْغَرُ مِنَ الصَّغِيرِ۔ ​وَكُلُّ مِقْدَارَيْنِ مَحْدُودَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ بِالْعِظَمِ وَالصِّغَرِ؛ فَالصَّغِيرُ يَصِيرُ أَعْظَمَ مِنَ الْعَظِيمِ بِالتَّضْعِيفِ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَىٰ؛ وَإِلَّا لَأَمْكَنَ وُجُودُ مِقْدَارٍ مَحْدُودٍ أَنْ يَنْقَسِمَ إِلَىٰ أَجْزَاءٍ مُتَسَاوِيَةِ الْمِقْدَارِ غَيْرِ مُتَنَاهِيَةِ الْعَدَدِ، وَذٰلِكَ مُحَالٌ لِمَا مَرَّ۔
كُلُّ خَطَّيْنِ مُسْتَقِيمَيْنِ وَقَعَ عَلَيْهِمَا خَطٌّ مُسْتَقِيمٌ وَصَيَّرَ الزَّاوِيَتَيْنِ الدَّاخِلَتَيْنِ فِي جِهَةٍ وَاحِدَةٍ مِنَ الْخَطِّ أَقَلَّ مِنْ قَائِمَتَيْنِ؛ فَإِنَّ الْخَطَّيْنِ إِذَا أُخْرِجَا فِي تِلْكَ الْجِهَةِ إِلَىٰ غَيْرِ النِّهَايَةِ فَهُمَا يَتَلَاقِيَانِ۔
​وَهٰذِهِ الْقَضِيَّةُ لَيْسَتْ مِنَ الْعُلُومِ الْمُتَعَارَفَةِ، بَلْ هِيَ مِنَ الْقَضَايَا الَّتِي تَحْتَاجُ إِلَىٰ إِقَامَةِ الْبُرْهَانِ عَلَىٰ صِحَّتِهَا بِبَعْضِ مَسَائِلِ الْكِتَابِ مِنْ غَيْرِ دَوْرٍ؛ وَقَدِ اسْتَنْبَطْتُ لِإِثْبَاتِهَا بُرْهَانًا أَذْكُرُهُ فِي مَوْضِعٍ يَلِيقُ إِيرَادُهُ بِهٖ، إِنْ شَاءَ ٱلـلّٰهُ تَعَالَىٰ۔
اُردو ترجمہ
اُصُولِ موضوعہ
میں کہتا ہوں کہ (ہندسہ سیکھنے کے لیے) سب سے پہلے یہ مان لینا ضروری ہے کہ نقطہ، خط، سطح، خطِ مستقیم (سیدھی لکیر)، سطحِ مستوی (ہموار سطح) اور دائرہ کا وجود حقیقی ہے اور یہ کہ ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی خط یا سطح پر بوقتِ ضرورت کوئی نقطہ متعین کر لیں، اور کسی بھی سطح پر کسی خط کا تصور کر لیں یا اسے کسی بھی نقطے سے جس طرح چاہیں گزار دیں ​اور یہ کہ ہر نقطہ، خطِ مستقیم اور سطحِ مستوی اپنے جیسی دوسری شے پر پوری طرح منطبق ہو جاتی ہے (یعنی جب ایک کو دوسرے پر رکھا جائے تو وہ ایک دوسرے کو مکمل ڈھانپ لیتے ہیں)۔ اور یہ کہ دو خطوط کے درمیان مشترک مقام (جہاں وہ آپس میں کٹتے ہیں) ایک نقطہ ہوتا ہے، اور دو سطحوں کے درمیان مشترک حد (جہاں وہ آپس میں ملتی ہیں) ایک خط ہوتا ہے ​اور یہ کہ اصل کتاب (الاُصُول) میں جو مقدمات (مطالبات) ذکر کیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں؛
یعنی ایسی باتوں جن کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں؛
اور جہاں تک اصولِ موضوعہ (تسلیم شدہ حقائق) کا تعلق ہے، تو علمِ الٰہی (فلسفہ) میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ نقطہ، خطِ مستقیم، خطِ مستدیر (گول لکیر)، سطحِ مستوی (ہموار سطح) اور سطحِ مستدیر (گول سطح) میں سے ہر ایک کا وجود حقیقی ہے؛ کیونکہ کرۂ متحرکہ (گردش کرنے والے آسمانی کروں) کا وجود ان اشیاء کے وجود کو لازم پکڑتا ہے، اور سمتوں کا تعین (مشرق، مغرب وغیرہ) ان (اجسام) کے وجود ہی سے ممکن ہوتا ہے ​اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی سے دو خطوط جہاں آپس میں ملتے ہیں، ان کا مشترک مقام (نقطۂ تقاطع) ایک نقطہ ہوتا ہے؛ کیونکہ وہ نقطہ ان دونوں خطوط کی انتہا (آخری حد) ہے۔ اسی طرح دو سطحوں کے درمیان مشترک حد (جہاں وہ ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں) ایک خط ہوتا ہے؛ کیونکہ وہ خط ان دونوں سطحوں کی انتہا ہے ​اور ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی خط یا سطح پر کوئی نقطہ فرض کر لیں؛ کیونکہ (کسی بھی شے کی طرف) حسی اشارے کی آخری حد وہی نقطہ ہی ہوتا ہے۔ 
١. یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کسی بھی ایک نقطے سے کسی بھی دوسرے نقطے تک ایک سیدھی لکیر کھینچی جا سکتی ہے۔
الف۔ ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی دو نقاط کے درمیان ایک سیدھا خط (خطِ مستقیم) کھینچ کر انہیں آپس میں ملا دیں۔
١. اس بات کو تسلیم کرلو کہ کسی ایک نُقطہ سے کسی دوسرے نُقطے تک خط کھینچ سکتے ہیں۔
الف۔ اور ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی دو نقاط کے درمیان (انہیں ملانے کے لیے) ایک خط کھینچیں، خواہ وہ خطِ مستقیم (سیدھی لکیر) ہو یا کوئی اور۔ (اس کی صورت یہ ہے کہ) ہم کوئی سے دو نقاط لیں اور ان کے درمیان ان ہی کی سیدھ میں کچھ فرضی نقاط تصور کر لیں۔ پھر ہم یہ فرض کریں کہ ان میں سے ایک نقطے پر ایک (متحرک) نقطہ منطبق ہے اور ہم اسے دوسرے نقطے کی طرف اس طرح حرکت دیں کہ وہ اپنی پوری حرکت کے دوران ان تمام فرضی نقاط سے گزرتا ہوا دوسرے نقطے تک پہنچ جائے۔ پس اس متحرک نقطے کا راستہ ایک خطِ مستقیم ہوگا، کیونکہ اس میں صرف لمبائی ہے، چوڑائی نہیں؛ اور اس پر جو بھی نقاط فرض کیے جائیں گے وہ ایک دوسرے کے بالکل سامنے (ایک ہی سیدھ میں) ہوں گے۔ اور اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی مفروضہ نقطے سے گزرتا ہوا ایک خطِ مستقیم فرض کر لیں۔ (دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ) یہ ممکن نہیں کہ دو مختلف خطوطِ مستقیم کسی ایک خطِ مستقیم کے ایک ہی سرے سے اس طرح جڑیں کہ وہ دونوں ہی اس کے ساتھ مل کر ایک ہی سیدھ میں رہیں۔ 
​اگر ایسا ممکن ہو (یعنی ایک خط کے ساتھ دو الگ الگ خطوط سیدھ میں جڑ سکیں)، تو فرض کریں کہ ایک خطِ مستقیم ا ب ہے، اور اس کے ساتھ سیدھ میں جڑا ہوا خط ب ح ہے۔ (اب فرض کریں کہ اسی ا ب کے ساتھ ایک دوسرا خط ب د بھی سیدھ میں ہے)۔ اب ہم نقطہ ب کو مرکز مان کر ان تینوں خطوط (ا ب، ب ح، ب د) میں سے سب سے چھوٹے خط کے برابر رداس لے کر ایک دائرہ ا ح د کھینچتے ہیں۔ چونکہ ا ب ح اور ا ب د دونوں کو خطِ مستقیم مانا گیا ہے جو دائرے کے مرکز سے گزر کر دونوں طرف محیط تک پہنچ رہے ہیں، تو یہ دونوں ہی دائرے کے قُطْر کہلائیں گے۔ (اگر ایسا ہو تو) ایک ہی دائرے کے دو ایسے نصف حصے بن جائیں گے جن میں سے ایک دوسرے سے بڑا ہوگا (جو کہ محال ہے)۔ پس یہ نتیجہ غلط (خلف) ہے، اور یہی وہ بات ہے جسے ہم ثابت کرنا چاہتے تھے۔
٢. اور یہ کہ کسی بھی محدود سیدھی لکیر (خطِ مستقیم) کو اسی کی سمت میں مسلسل آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ب. ہم کسی بھی محدود سیدھے خط کو اسی کی سمت میں (آگے) بڑھا سکتے ہیں۔
٢. ایک خطِ مستقیم کو سیدھا جہاں تک چاہیں بڑھا لیں۔
ب. ​ہمیں یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی محدود سیدھے خط کو اس کی سیدھ میں جس حد تک چاہیں دونوں طرف بڑھا سکیں؛ کیونکہ اگر ہم خط پر ایک نقطہ فرض کریں تو وہ اس کے آخری نقطے کے ساتھ ایک ہی سمت میں ہوگا، پھر ہم ان دو نقاط کی سیدھ میں جتنے چاہیں مزید نقاط فرض کر سکتے ہیں، اور ایک متحرک نقطے کو پہلے نقطے سے گزار کر ان تمام فرضی نقاط پر سے گزاریں، تو اس کا راستہ ایک سیدھا خط ہی بنے گا۔
​اور یہ اصول ہے کہ تمام خطوطِ مستقیم اور سطحِ مستوی اپنے جیسی دوسری شے پر پوری طرح منطبق ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح ہر وہ قائمہ زاویہ جو دو سیدھے خطوط سے مل کر بنا ہو، وہ کسی بھی دوسرے قائمہ زاویے کے برابر ہوتا ہے۔
​اسے ثابت کرنے کے لیے فرض کریں کہ دو زاویے ا ب ح اور د ہ ر قائمہ ہیں۔ ہم نقطہ ہ کو نقطہ ب پر اس طرح رکھتے ہیں کہ لکیر د ہ لکیر ب ح کے اوپر آ جائے۔ اب اگر قائمہ زاویے برابر ہیں تو بات مکمل ہوگئی۔ لیکن اگر بفرضِ محال برابر نہ ہوں، تو ہم فرض کرتے ہیں کہ لکیر ا ب اور ب ح کے درمیان کوئی دوسری لکیر واقع ہے۔ اب ہم لکیر ا ب کو اس کے سرے ب کی طرف سیدھا آگے بڑھا کر خط ا ب ط بنا لیتے ہیں۔ چونکہ زاویہ ا ب ح قائمہ ہے، اس لیے اس کا ملحقہ زاویہ ح ب ط بھی قائمہ ہوگا، کیونکہ لکیر ب ح کا جھکاؤ خط ا ط کی کسی بھی جانب نہیں ہے۔ اگر جھکاؤ ہوتا تو زاویہ حادہ یا منفرجہ بنتا، جبکہ وہ قائمہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ زاویہ ا ب ح اور زاویہ ح ب ط برابر ہیں۔ اب اگر دوسرا قائمہ زاویہ اس سے چھوٹا ہو جائے تو منطقی طور پر کُل اپنے جُزو سے چھوٹا ہو جائے گا، جو کہ ناممکن ہے۔
​چنانچہ یہ حکم ثابت ہوا کہ تمام قائمہ زاویے برابر ہوتے ہیں، اور یہی وہ بات ہے جسے ہم واضح کرنا چاہتے تھے۔
٣. کسی بھی مرکز اور کسی بھی فاصلے (رداس) کے ساتھ ایک دائرہ کھینچا جا سکتا ہے۔
ج۔ اور یہ کہ ہم کسی بھی (معینہ) نقطے کو مرکز مان کر اور کسی بھی (مطلوبہ) فاصلے (رداس) کے ساتھ ایک دائرہ کھینچ سکتے ہیں۔
٣. جس مرکز اور جس دوری یا بعد یا فاصلہ پر مرکز سے چاہیں دائرہ کھینچ لیں۔
٤. اور یہ کہ تمام قائمہ زاویے (°۹۰ کے زاویے) مقدار میں ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں۔
د۔ تمام قائمہ زاویے مقدار میں ایک دوسرے کے بالکل برابر ہوتے ہیں۔
٥۔ اور یہ کہ اگر ایک سیدھی لکیر دو (دوسری) سیدھی لکیروں پر اس طرح گرے کہ ایک ہی جانب بننے والے اندرونی زاویوں کا مجموعہ دو قائمہ زاویوں (°۱۸۰) سے کم ہو، تو ان دونوں لکیروں کو لامتناہی (غیر متناہی) طور پر بڑھانے پر وہ اسی سمت میں ایک دوسرے سے مل جائیں گی جس طرف زاویوں کا مجموعہ دو قائمہ زاویوں سے کم ہے۔
ه۔ دو سیدھے خطوط (خطوطِ مستقیم) کسی سطح (یعنی بند شکل) کا احاطہ نہیں کر سکتے۔
اصل کتاب میں یہ ذکر ہے کہ؛ کوئی سے دو سیدھے خطوط ہوں جن پر ایک (تیسرا) سیدھا خط گرے اور کسی ایک جانب بننے والے دونوں اندرونی زاویے دو قائمہ زاویوں (°۱۸۰) سے کم ہوں، تو وہ دونوں خطوط (اسی سمت میں) آگے بڑھانے پر ایک دوسرے سے مل جائیں گے۔ یہ وہ بات ہے جو اصل کتاب میں مذکور ہے۔
​میں (تبصرہ کرتے ہوئے) کہتا ہوں کہ یہ آخری قضیہ (پانچواں مطالبہ) علومِ متعارفہ میں سے نہیں ہے، اور نہ ہی یہ ایسی حقیقت ہے جو علمِ ہندسہ کے علاوہ دیگر علوم میں واضح طور پر نظر آتی ہو۔ چنانچہ بہتر یہی ہے کہ اسے مصادرات کی بجائے مسائل کی ترتیب میں رکھا جائے (یعنی اسے ثابت کرنے کی ضرورت ہے) اور میں اسے اس کے موزوں مقام پر واضح کروں گا اور میں نے اس کے بدلے ایک دوسرا قضیہ رکھا ہے، وہ یہ ہے؛ ایک ہی ہموار سطح پر واقع وہ سیدھے خطوط جو ایک سمت میں (ایک دوسرے سے) دور ہو رہے ہوں (تباعد)، وہ اسی سمت میں (آگے بڑھانے پر) ایک دوسرے کے قریب (تقارب) نہیں ہو سکتے، اور اس کے برعکس بھی یہی حکم ہے (یعنی جو قریب ہو رہے ہوں وہ دور نہیں ہو سکتے)، سوائے اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو قطع کر جائیں اور اس کی وضاحت کے لیے ایک اور قضیے سے کام لیا گیا ہے جسے خود اقلیدس نے دسویں مقالے اور دیگر مقامات پر استعمال کیا ہے، وہ یہ ہے "ایک ہی جنس کی کوئی سی دو محدود مقداریں ہوں، تو ان میں سے چھوٹی مقدار کو بار بار دوگنا (یا ضرب) کرنے سے وہ بڑی مقدار سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔' (آرشمیدس کا اصول)۔" مزید یہ کہ یہ فرض کرنا بھی ضروری ہے کہ ایک سیدھا خط اپنی سیدھ میں ایک سے زیادہ ایسے خطوط سے نہیں جڑ سکتا جو آپس میں ہم سمت (متوازی) نہ ہوں (یعنی ایک خط کی سیدھ میں صرف ایک ہی خطِ مستقیم ہو سکتا ہے)۔ اور یہ کہ ہر وہ زاویہ جو کسی قائمہ زاویے کے برابر ہو، وہ خود بھی قائمہ ہی ہوتا ہے۔
ب۔ ہر مقدار اپنے اجزاء کے اضافے سے بڑھتی جاتی ہے۔ پس اگر کسی ایک مقدار کے اجزاء کی تعداد غیر متناہی (لامحدود) ہو جائے، تو اس کا احاطہ کرنا (یعنی اسے ایک محدود مقدار ماننا) ناممکن ہو جائے گا۔
​چنانچہ، ایک ہی جنس کی کوئی سی دو محدود مقداریں ہوں جو اپنی بڑائی اور چھوٹائی میں ایک دوسرے سے مختلف ہوں، تو بڑی مقدار کی صورتِ حال یہ ہوگی؛ یا تو وہ چھوٹی مقدار کے برابر ہوگی (کسی ایسی بچت کے ساتھ جو چھوٹی مقدار سے بھی کم ہو)، یا وہ چھوٹی مقدار کا کئی گنا ہوگی، یا کئی گنا کے ساتھ کچھ ایسی بچت ہوگی جو چھوٹی مقدار سے کم ہو۔
​اور (یہی اصول ہے کہ) بڑائی اور چھوٹائی میں مختلف کوئی سی دو محدود مقداریں ہوں، تو چھوٹی مقدار کو بار بار دوگنا (یا ضرب) کرنے سے وہ آخر کار بڑی مقدار سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو، تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ ایک محدود مقدار کو برابر حصوں میں اس طرح تقسیم کیا جا سکتا ہے کہ ان کی تعداد غیر متناہی ہو جائے؛ اور یہ بات محال (ناممکن) ہے جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے۔
کوئی سے دو سیدھے خطوط ہوں جن پر ایک (تیسرا) سیدھا خط اس طرح گرے کہ ایک ہی جانب بننے والے دو داخلی زاویوں کا مجموعہ دو قائمہ زاویوں (°۱۸۰) سے کم ہو؛ تو ان دونوں خطوط کو اس جانب لامتناہی طور پر بڑھانے پر وہ ایک دوسرے سے ضرور مل جائیں گے۔
​اور (میرا موقف یہ ہے کہ) یہ قضیہ علومِ متعارفہ (بدیہی سچائیوں) میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ ان قضایا میں سے ہے جن کی صحت کے لیے کتاب (اصولِ ہندسہ) کے دیگر مسائل کے ذریعے برہان (عقلی دلیل) قائم کرنے کی ضرورت ہے، بشرطیکہ اس میں دور واقع نہ ہو۔ اور میں نے اسے ثابت کرنے کے لیے ایک ایسی دلیل مستنبط (دریافت) کی ہے جسے میں ان شاء الـلّٰه تعالیٰ اس کے موزوں مقام پر ذکر کروں گا۔
۔† یونانی زبان میں زمانہِ ماضی قریب کسی ایسے ماضی کے کام کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی اہمیت حال میں بھی برقرار ہو۔ چنانچہ، غائب کے لیے استعمال ہونے والے ماضی قریب کے صیغہِ امر یعنی Êitēsthō کا ترجمہ 'یہ تسلیم کر لیا جائے' کیا جا سکتا ہے، اس معنی میں کہ 'اسے ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر (مستقل) رہنے دیا جائے'۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ 'اس مطالبے کو ابھی (پہلی بار) سامنے لایا جائے'۔ اگرچہ اس کا لفظی ترجمہ 'اسے تسلیم کیا جا چکا ہو' انگریزی میں کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے، لیکن یہ یونانی زبان کے اصل مفہوم کو زیادہ درست طریقے سے واضح کرتا ہے۔
۔‡ یہ مطالبہ (یعنی اقلیدس کا پانچواں مطالبہ) درحقیقت اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارا واسطہ سطحِ مستوی کی ہندسہ سے ہے، نہ کہ منحنی یعنی خمیدہ فضا کی ہندسہ سے۔
Κοιναὶ ἔννοιαι
الْعُلُومُ الْمُتَعَارَفَةُ
Common Notions
الْعُلُومُ الْمُتَعَارَفَةُ

αʹ. Τὰ τῷ αὐτῷ ἴσα καὶ ἀλλήλοις ἐστὶν ἴσα.
الف. اَلْأَشْيَاءُ الْمُتَسَاوِيَةُ لِشَيْءٍ بِعَيْنِهِ مُتَسَاوِيَةٌ۔
1. Things equal to the same thing are also equal to one another.
وَأَمَّا الْعُلُومُ الْمُتَعَارَفَةُ
الف. اَلْأَشْيَاءُ الْمُسَاوِيَةُ لِشَيْءٍ وَاحِدٍ مُتَسَاوِيَةٌ (أَيْضًا فِيمَا بَيْنَهَا)۔
βʹ. Καὶ ἐὰν ἴσοις ἴσα προστεθῇ, τὰ ὅλα ἐστὶν ἴσα.
ب. إِذَا زِيدَ عَلَى الْمُتَسَاوِيَةِ أَوْ نُقِصَ مِنْهَا مُتَسَاوِيَةٌ حَصَلَتْ غَيْرُ مُتَسَاوِيَةٍ۔
2. And if equal things are added to equal things then the wholes are equal.
ب. وَإِذَا زِيدَ عَلَى الْمُتَسَاوِيَةِ حَصَلَتْ مُتَسَاوِيَةً۔
γʹ. Καὶ ἐὰν ἀπὸ ἴσων ἴσα ἀφαιρεθῇ, τὰ καταλειπόμενά ἐστιν ἴσα.
ج. وَالَّتِي إِذَا زِيدَ عَلَيْهَا أَوْ نُقِصَ مِنْهَا أَضْعَافٌ بِعِدَّةٍ وَاحِدَةٍ وَأَجْزَاءٌ بِعَيْنِهَا لِشَيْءٍ وَاحِدٍ فَهِيَ مُتَسَاوِيَةٌ۔
3. And if equal things are subtracted from equal things then the remainders are equal.†
† As an obvious extension of C.N.s 2 & 3—if equal things are added or subtracted from the two sides of an inequality then the inequality remains an inequality of the same type.
ج. وَإِذَا نُقِصَ مِنَ الْمُتَسَاوِيَةِ مُتَسَاوِيَةٌ بَقِيَتْ مُتَسَاوِيَةً۔
δʹ. Καὶ τὰ ἐφαρμόζοντα ἐπ᾿ ἀλλήλα ἴσα ἀλλήλοις ἐστίν.
د. إِذَا زِيدَ عَلَى الْمُتَسَاوِيَةِ أَوْ نُقِصَ مِنْهَا مُتَسَاوِيَةٌ حَصَلَتْ غَيْرُ مُتَسَاوِيَةٍ، وَالَّتِي إِذَا زِيدَ عَلَيْهَا أَوْ نُقِصَ مِنْهَا أَضْعَافٌ بِعِدَّةٍ وَاحِدَةٍ وَأَجْزَاءٌ بِعَيْنِهَا لِشَيْءٍ وَاحِدٍ فَهِيَ مُتَسَاوِيَةٌ۔
4. And things coinciding with one another are equal to one another.
د. وَإِذَا زِيدَتْ عَلَىٰ غَيْرِ الْمُتَسَاوِيَةِ أَوْ نُقِصَ عَنْهَا الْمُتَسَاوِيَةُ حَصَلَتْ أَوْ بَقِيَتْ غَيْرَ مُتَسَاوِيَةٍ۔ ​اَلْأَشْيَاءُ الَّتِي هِيَ أَضْعَافٌ بِعِدَّةٍ وَاحِدَةٍ لِشَيْءٍ بِعَيْنِهِ أَوْ أَجْزَاؤُهُ بِعِدَّةٍ وَاحِدَةٍ فَهِيَ مُتَسَاوِيَةٌ۔ وَالْأَشْيَاءُ الَّتِي لَا يَتَّصِلُ بَعْضُهَا بِالتَّطْبِيقِ عَلَىٰ بَعْضٍ مَعَ اتِّحَادِ أَحَدِ أَطْرَافِهَا فَهِيَ مُتَسَاوِيَةٌ۔ وَالْأَشْيَاءُ الْمُتَطَابِقَةُ مِنْ غَيْرِ تَفَاضُلٍ مُتَسَاوِيَةٌ۔
εʹ. Καὶ τὸ ὅλον τοῦ μέρους μεῖζόν [ἐστιν].
ہ. اَلْكُلُّ أَعْظَمُ مِنْ جُزْئِهِ، فَهٰذَا مَا أَرَدْنَا أَنْ نُصَدِّرَ الْكَلَامَ بِهٖ، وَسَيَأْتِي تَعْرِيفَاتٌ وَتَصْدِيرَاتٌ أُخَرُ فِي مَوَاضِعَ يَلِيقُ بِهَا۔ وَلْيُعْلَمْ أَنَّ جَمِيعَ النُّقَطِ وَالْخُطُوطِ الْمُورَدَةِ مِنْ أَوَّلِ هٰذَا الْكِتَابِ إِلَىٰ آخِرِ الْمَقَالَةِ الْعَاشِرَةِ إِنَّمَا وُضِعَتْ عَلَىٰ أَنَّهَا فِي سَطْحٍ مُسْتَوٍ وَاحِدٍ۔ وَإِنَّا إِذَا أَطْلَقْنَا الْخَطَّ وَالسَّطْحَ وَالزَّاوِيَةَ فَإِنَّمَا نَعْنِي بِهَا الْمُسْتَقِيمَ وَالْمُسْتَوِيَ وَالْمُسْتَقِيمَةَ الْخَطَّيْنِ۔
5. And the whole [is] greater than the part.
ہ. فَالْكُلُّ أَعْظَمُ مِنْ جُزْئِهٖ۔
اُردو ترجمہ

Comments

Popular posts from this blog

٢.٢. الہام اور منطقیت

تعارف

٣. مسئلۂ لامُتناہی